امریکی پابندیاں ،بھارت ایران کی چابہار بندرگاہ سے دستبردار

امریکی پابندیاں ،بھارت ایران کی چابہار بندرگاہ سے دستبردار

بھارتی کمپنی کے ڈائریکٹرزمستعفی،ویب سائٹ بند،12کروڑ ڈالرڈوب گئے

نئی دہلی ،تہران (مانیٹرنگ ڈیسک )امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ملکوں پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی کے بعد بھارت ایران کی چابہار ورٹ کا تعمیراتی کام چھوڑنے پر مجبور ہوگیا،چابہار پورٹ سے دستبرداری کا فیصلہ بھارت نے خاموشی سے کیا ، اس فیصلے کے بعد بھارت کے ایران کو ادا کئے گئے 120 ملین ڈالرز ڈوب گئے ہیں۔ چابہار بندرگاہ پر کام کرنے والی بھارتی کمپنی ‘‘انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ’’کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان نے اجتماعی استعفیٰ دے دیا جبکہ کمپنی کی ویب سائٹ بھی بند کردی گئی ہے ۔ بھارت نے 2024 میں 10 سال کے لیے ایران کی چابہار بندرگاہ پر ڈویلپمنٹ کرنے کا انتظام سنبھالا تھا۔ غیر ملکی جریدے کے مطابق انڈیا نے جو 120 ملین ڈالرز کی رقم ایران کو ادا کی ہے وہ اب ایران اپنی مرضی سے بندرگاہ چابہار کی تعمیر و ترقی کے لئے استعمال کر سکتا ہے ۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے چابہار چھوڑنے پر مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ کانگریس رہنما پون کھیڑا نے کہا کہ امریکی دباؤ پر چابہار سے خاموشی سے پیچھے ہٹنا بھارتی خارجہ پالیسی کی نئی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے ۔ان کاکہناتھاکہ سوال چابہار بندرگاہ یا روسی تیل کا نہیں ہے ، سوال یہ ہے کہ مودی امریکا کو بھارت کا بازو مروڑنے کی اجازت کیوں دے رہا ہے ؟ ۔غیر ملکی مبصرین نے امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد چابہار سے علیحدگی کو بھارت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا قرار دیا ہے ۔ معاشی ماہرین کا کہناہے کہ خدشہ ہے بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ بظاہر سرمایہ کاری کیلئے لی تھی ، حقیقت میں بھارت اس کو مذموم عزائم کیلئے استعمال کر رہا تھا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں