سلامتی کونسل:ایرا ن اور امریکا کے ایک دوسرے پر الزامات

 سلامتی کونسل:ایرا ن اور امریکا کے ایک دوسرے پر الزامات

جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں:چین،روس نے اجلاس کو سرکس قرار د یدیا امریکی جنگی بیڑا مشرق وسطیٰ روانہ ، نیوزی لینڈ نے تہران میں سفارتخانہ بند کردیا

نیویارک (اے ایف پی ،مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے نمائندے نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران میں بد امنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے مستقل مندوب کے معاون حسین درزی نے امریکی نمائندے کے الزامات کہ ایران نے مظاہرین پر تشدد کیا ہے کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیا۔انہوں نے سخت لہجے میں کہا اگر امریکا واقعی بے گناہوں کی ہلاکت پر فکر مند ہے تو اسے مینیسوٹا میں پولیس افسروں کے ہاتھوں خاتون کے قتل پر توجہ دینی چاہئے ، ایران میں احتجاجی مظاہروں کا رخ اور اس کے بعد ہونے والے خونریز واقعات دراصل امریکا اور اسرائیل کی تحریک کا نتیجہ ہیں۔ امریکی نمائندے مائیک والٹز نے کہا ایران نے اپنی عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے جوہری اور میزائل پروگرام اور اپنے مسلح گروہوں کی حمایت کو ترجیح دی ، جس کے نتیجے میں عوام اب شدید دباؤ اور مشکلات کا شکار ہیں۔ ایران میں پرتشدد واقعات روکنے کیلئے تمام آپشنز اب بھی امریکی صدر کے سامنے موجود ہیں ۔اقوام متحدہ میں چینی مندوب نے کہا کہ امریکا ایران پر طاقت کے استعمال کی کوشش فوری ترک کرے ، امریکا ایران کو مسلسل طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دے رہا ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، ایران کو درپیش مسائل سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کو مدد کرنی چاہئے ۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ایران اور خطے کی صورتحال پر تشویش ہے اور طاقت کا استعمال صورتحال مزید سنگین کردے گا، سفارتکاری اپنائی جائے ، تمام تنازعات پر امن طریقے اور عالمی قانون کے مطابق حل ہونے چاہئیں۔

روسی مندوب نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے اجلاس کو سرکس قرار دیدیا۔روسی مندوب نے کہا سلامتی کونسل کا اجلاس سرکس سے زیادہ کچھ نہیں، یہ اجلاس بلانا شرمناک ہے ، اجلاس عالمی امن کیلئے بلایاجاناچاہئے تھا نہ کہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیلئے ، امریکی بیانات کسی بھی ملک کی سالمیت کے خلاف اور اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں۔ دوسری طرف روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور اس دوران دونوں ممالک کو ثالثی کی پیشکش کی ۔کریملن کے مطابق ان ٹیلیفون کالز میں صدر پوٹن نے زور دیا کہ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب سٹیو وٹکوف نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ مسائل کو سفارتی طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے ۔اسرائیلی امریکی کونسل میں خطاب کے دوران ان کا کہناتھا میں امید کرتا ہوں کہ ہم سفارتکاری کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کااندازہ ہے کہ ایران میں حالیہ مظاہروں کے دوران 20ہزار افراد کو گرفتار کیاگیا، تاہم سکیورٹی حکام کا کہناہے کہ حراست میں لئے گئے کل 3ہزار افراد میں مسلح افراد ، فسادی اور دہشت گرد تنظیموں کے ارکان شامل ہیں ۔نیوزی لینڈ نے تہران میں سفارت خانہ عارضی طور پر بند کر دیا اوراپنے عملے کو فوری واپسی کی ہدایات جاری کر دیں جس پر عملہ کمرشل فلائٹ کے ذریعے ایران سے روانہ ہوگیا ۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں امریکا نے جنوبی چین کی طرف موجود جنگی بیڑا مشرق وسطیٰ روانہ کردیاہے ۔ پنٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی چین کے سمندر سے یوایس ایس ابراہم لنکن نامی طیارہ بردار جنگی بیڑے کو مشرق وسطیٰ کی جانب بھیجا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں