ایپسٹین سکینڈل :برطانیہ میں بحران ،وزیراعظم کی معافی

ایپسٹین سکینڈل :برطانیہ میں بحران ،وزیراعظم کی معافی

اسٹارمر کی وزارت عظمٰی خطرے میں ، برطانوی کرنسی اور بانڈز کو بڑا دھچکا

لندن (اے ایف پی)برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے جمعرات کو اس بنا ء پر جیفری ایپسٹین کے متاثرین سے معافی مانگ لی کہ انہوں نے پیٹر مینڈل سن کو امریکی  سفیر مقرر کیا تھا۔ مینڈل سن پر الزام ہے کہ ان کا جنسی مجرم ایپسٹین کے ساتھ قریبی تعلق رہا، جو جمعہ کو جاری ہونے والی دستاویزات میں سامنے آیا۔اسٹارمر نے کہا،میں متاثرین سے معافی مانگتا ہوں جو شدید صدمے سے گزرے ، اور جنہیں انصاف تاخیر کے بعد یا اکثر نہیں ملا۔ میں معافی مانگتا ہوں کہ مینڈل سن کے جھوٹ پر یقین کیا اور انہیں مقرر کیا۔مینڈل سن اس ہفتے پارلیمنٹ کے ہاؤس آف لارڈز سے بھی استعفیٰ دے چکے ہیں۔اسٹارمر کا کہنا ہے کہ مینڈل سن نے سفارت کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے بار بار جھوٹ بولا، اور وزیرِاعظم کو پہلے اس دوستی کی گہرائی کا علم نہیں تھا۔ تاہم بدھ کو انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ جانتے تھے کہ تعلقات برقرار رہے۔

 

، حالانکہ ایپسٹین کو 2008 میں نابالغ سے ناجائز تعلقات کی کوشش پر سزا ہوئی تھی۔برطانوی پارلیمنٹ نے ووٹ کے ذریعے حکومت پر مجبور کیا کہ تعیین سے متعلق تمام دستاویزات کراس پارٹی انٹیلی جنس اور سکیورٹی کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں۔ لیبر پارٹی کے قانون ساز کارل ٹرنر نے کہا کہ یہ صورتحال سب سے زیادہ غصے والی ہے جو انہوں نے 16 سال میں دیکھی۔ہم یہ ظاہر نہیں کر سکتے کہ یہ کوئی بحران کی صورتحال نہیں ہے ۔ اسٹارمر کی لیبر پارٹی کے ارکان سوال کر رہے ہیں کہ آیا وہ وزیرِاعظم کے طور پر برقرار رہ سکتے ہیں؟ ۔اپوزیشن جماعتیں اسٹارمر سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اپنے چیف آف سٹاف مورگن میک سویینی کو برطرف کریں، جو مینڈل سن کا دیرینہ حلیف ہے ۔ اسٹارمر نے اپنے معاون کا عوامی طور پر دفاع کیا ہے ۔یہ بحران لیبر پارٹی کے اقتدار میں آنے کے صرف 19 مہینے بعد سامنے آیا ہے ، اور اس ماہ ہونے والے ایک اہم ضمنی الیکشن اور مئی میں مقامی انتخابات کے پیش نظر پارٹی کے لیے چیلنج بڑھا رہا ہے ۔اس سیاسی تنازعے نے برطانوی پاؤنڈ اور طویل مدتی بانڈز پر اثر ڈالا، اور بدھ سے جمعرات کے دوران پاؤنڈ سب سے کمزور کرنسی رہا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں