امریکا روس جوہری معاہدہ ختم ایٹمی خطرات میں اضافہ
واشنگٹن،ماسکو(اے ایف پی،دنیا مانیٹرنگ) امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کا آخری معاہدہ ’نیو سٹارٹ‘ جمعرات کی نصف شب کو ختم ہو گیا،جس سے دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے ۔۔
یہ معاہدہ دونوں طاقتور ممالک کے سٹراٹیجک جوہری ہتھیاروں پر حد مقرر کرتا تھا۔ اب دونوں ملکوں کے ہتھیاروں کی تعداد پر کوئی باضابطہ بین الاقوامی پابندی باقی نہیں رہی۔ اقوام متحدہ نے معاہدے کی تجدید نہ ہونے کو عالمی امن اور سلامتی کیلئے تشویشناک لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ اب کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ سطح پر ہے ۔روس نے کہا ہے کہ اگر اس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ فیصلہ کن اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔ امریکا نے معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کی شرائط پر عمل جاری رکھنے سے متعلق کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔ماہرین کو خدشہ ہے کہ معاہدے کے اختتام سے نئے ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوسکتی ہے
،چین نے امریکااور روس کے ’ نیو سٹارٹ‘ معاہدے کے ختم ہونے کے بعد نئے معاہدے پر مذاکرات میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ عالمی سٹراٹیجک استحکام کیلئے معاہدہ اہم ہے ، لیکن چین کی ایٹمی صلاحیتیں امریکا اور روس سے بالکل مختلف ہیں۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ اس مرحلے پر ہتھیاروں کی کمی کے مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔دوسری جانب روس اور امریکا نے جمعرات کو ابو ظہبی میں یوکرین جنگ بندی کیلئے دو روزہ مذاکرات کے دوران اعلیٰ سطح کے فوجی رابطے بحال کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ اقدام دنیا کے سب سے بڑے جوہری ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی جانب اہم قدم ہے ۔امریکا اور روس نے فوجی رابطوں کو عالمی استحکام اور امن کیلئے ضروری قرار دیا، تاکہ شفافیت اور کشیدگی میں کمی ممکن ہو سکے ۔امریکی فوجی حکام کے مطابق یہ قدم 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے سے قبل بند کیے گئے رابطوں کو دوبارہ شروع کرنے کیلئے اٹھایا گیا ہے ۔علاوہ ازیں پچھلے ماہ روسی سفارتکار کو جاسوسی کے الزامات پر ملک بدر کرنے کے جواب میں روس نے جمعرات کو ایک جرمن سفارتکار کو ملک بدر کر دیا۔