بھارت نے بالآخر خامنہ ای کی وفات پر تعزیت کا اظہار کر دیا
بھارتی سیکرٹری خارجہ کی ایرانی سفیر سے ملاقات ،تعزیتی کتاب میں دستخط
نئی دہلی(دنیا مانیٹرنگ)بھارت نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے انتقال پر پانچ مارچ کو ایران سے تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ وہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملے میںاتوار کے روز شہید ہو گئے تھے ۔ان کی موت پر وزیر اعظم مودی یا بھارتی حکومت کی طرف سے باضابطہ بیان جاری نہ کرنے پر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر سخت تنقید کی تھی۔بھارتی خارجہ سیکرٹری وکرم مسری نے جمعرات کو نئی دہلی میں ایران کے سفیر سے ملاقات کی اور خامنہ ای کی وفات پر تعزیتی کتاب میں دستخط کیے ۔وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ انہوں نے جمعرات کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات کی۔یہ قدم نئی دہلی کے مؤقف میں ایک محتاط تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے ، کیونکہ اس سے قبل بھارت نے ان فضائی حملوں کی مذمت نہیں کی تھی، جن میں خامنہ ای کی موت ہوئی اور اپوزیشن کے شدید مطالبات کے باوجود باضابطہ بیان دینے سے گریز کیا تھا۔بعد ازاں وزیر اعظم نریندر مودی نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ کانگریس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی نے بھی حکومت کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھاجب کسی غیر ملکی رہنما کے ہدف بنا کر قتل کیے جانے پر ہمارا ملک خودمختاری یا بین الاقوامی قانون کے دفاع میں واضح موقف اختیار نہیں کرتا اور غیر جانبداری کو ترک کر دیا جاتا ہے ، تو اس سے ہماری خارجہ پالیسی کی سمت اور ساکھ پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔