مقبوضہ کشمیر :فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملے کی کوشش ناکام
حملہ آور کمل سنگھ نے پستول سے فائر کیا ،گولی نشانے پر نہ لگ سکی،ملزم گرفتار 20 برس سے موقع کا انتظار تھا،یہ اقدام میرے ذاتی ایجنڈے کا حصہ تھا:ملزم
جموں،سرینگر(نیوز ایجنسیاں )مقبوضہ کشمیر میں ایک شادی کی تقریب کے دوران سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ 65 سالہ حملہ آور کمل سنگھ جموال تقریب کے دوران فاروق عبداللہ کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہوگیا اور اپنے لائسنس یافتہ پستول سے فائر کیا تاہم گولی نشانے پر نہ لگ سکی۔واقعے کے فوراً بعد نیشنل سکیو رٹی گارڈ کے کمانڈوز نے حملہ آور کو قابو کر لیا ،عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نشے کی حالت میں تھا ۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ 20 برس سے اس موقع کا انتظار کر رہا تھا۔پولیس حکام کے مطابق حملہ آور نے بتایا ہے کہ یہ اقدام اس کے ذاتی ایجنڈے کا حصہ تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے ملزم کے قبضے سے پستول برآمد کر لیا ہے اور ابتدائی تفتیش میں ملزم نے خود کو ایک نامعلوم تنظیم ’جاگرن منچ‘ کا چیئرمین بھی بتایا ہے ۔ عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اِن کے والد بال بال بچ گئے ،اُنہوں نے سوال اٹھایا کہ زیڈ پلس سکیورٹی کے باوجود حملہ آور اتنا قریب کیسے پہنچا؟۔ دوسری جانب بھارتی سپریم کورٹ نے حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کو ضمانت دے دی، عدالت نے کہا کہ مقدمے کی سماعت میں طویل تاخیر بلا جواز ہے ۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بینچ نے این آئی اے کے دلائل سننے کے بعد حکم دیا کہ شبیر احمد شاہ کو رہا کیا جائے ۔شبیر احمد شاہ گزشتہ سات برس سے زائد جھوٹے مقدمات میں تہاڑ جیل میں قید ہیں ۔