جنگ:نیتن یاہو کو فائدہ ، ٹرمپ اور خلیجی ریاستوں کو خسارہ

جنگ:نیتن یاہو کو فائدہ ، ٹرمپ اور خلیجی ریاستوں کو خسارہ

اسرائیلی وزیر اعظم نے غزہ سے توجہ ہٹا کر ایران کیطرف موڑ دی:تجزیہ کار ٹرمپ کے معاشی بیانیے کو نقصان،خلیجی عرب اتحادی خطرات سے دوچار ڈونلڈ ٹرمپ ایسی جنگ میں الجھ گئے جس کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آتا

 واشنگٹن (رائٹرز )اگر امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کل ہی ختم ہو جائے ، تو ایک بات ابھی سے واضح ہے :اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئیں گے ، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی منڈیوں پر پڑنے والے اثرات اور خلیجی اتحادیوں پر آنے والے دباؤ کو سنبھالنا پڑے گا، جنہوں نے اس جنگ کی سب سے بھاری قیمت چکائی ہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے لیے اس جنگ نے اسرائیل کی سیاست کا نقشہ ان کے حق میں بدل دیا ہے ۔ اس نے توجہ کو غزہ سے ہٹا کر ایران کی طرف موڑ دیا ہے ۔دوسری طرف ٹرمپ کے لیے صورتحال الٹ رہی ہے ،وہ ایک ایسی جنگ میں الجھ گئے ہیں جس کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آتا، اس نے ان کے خلیجی عرب اتحادیوں کو بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار کر دیا اور اس معاشی بیانیے کو بھی نقصان پہنچایا ہے جس کی بنیاد پر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تھے ۔سابق امریکی مشرقِ وسطیٰ مذاکرات کار ایرون ڈیوڈ ملر نے کہا یہاں ایک واضح فاتح اور ایک واضح شکست خوردہ موجود ہے ۔سابق امریکی مشرقِ وسطیٰ مذاکرات کار ایرون ڈیوڈ ملر نے کہا نیتن یاہو واضح طور پر سب سے بڑے فاتح ہیں۔ ٹرمپ کے لیے کوئی ایسا راستہ موجود نہیں جس کے ذریعے وہ کامیابی کا اعلان کر کے اس صورتحال سے نکل سکیں۔ایران کے ماہر کریم سجادپور کے مطابق ٹرمپ جنہوں نے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا-یہ توقع کر رہے تھے کہ انہیں ایران میں ڈیلسی روڈریگز جیسی، وینزویلا طرز کی ایک نرم اور آسانی سے اثر قبول کرنے والی شخصیت ملے گی، لیکن اس کے برعکس انہیں کم جونگ اُن جیسا سخت مؤقف رکھنے والا اور مزاحمتی طرزِ حکمرانی والا ایران ملا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں