ایران پر ایٹمی حملے کی کوئی تجویز نہیں :امریکا

ایران پر ایٹمی حملے کی  کوئی تجویز نہیں :امریکا

واشنگٹن (اے ایف پی)بدھ کو وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کی تردید کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس کے ایران میں فوجی کارروائیوں کے حوالے سے بیانات میں امریکا کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پر جوہری حملے کی کوئی تجویز شامل تھی۔

جب جے ڈی وینس نے کہا امریکی افواج کے پاس ایسے آلات ہیں جنہیں اب تک استعمال کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا، تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دئیے گئے سخت الٹی میٹم کو نافذ کیا جا سکے ، وائٹ ہاؤس نے ایک پوسٹ میں کہا کہ نائب صدر نے یہاں بالکل بھی ایسا نہیں کہا جس سے یہ ظاہر ہو، اے بے وقوفو۔یہ پوسٹ اس اکاؤنٹ کے جواب میں تھی جو سابقہ نائب صدر کمالا ہیرس سے وابستہ تھا اور جس میں کہا گیا تھا کہ جے ڈی وینس نے اشارہ دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جوہری ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ایران کے بارے میں اپنے منصوبوں کا علم صرف ڈونلڈ ٹرمپ کو ہے۔

اس بیان کے بعد کہ امریکی صدر نے خبردار کیا تھا کہ اگر تہران منگل کو کسی معاہدے تک نہیں پہنچتا تو ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی۔ پریس سیکرٹری کیرولائن لیویٹ نے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ٹرمپ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کیلئے تیار ہیں، اور ایران کے مذاکرات روک دینے کی رپورٹ کے بارے میں صرف صدر جانتے ہیں کہ حالات کہاں پہنچے ہیں اور وہ کیا کریں گے ، اے ایف پی کو ایک بیان میں کہا کہ ایرانی حکومت کے پاس مشرقی وقت کے مطابق رات 8 بجے تک یہ موقع ہے کہ وہ وقت کے مطابق فیصلے کرے اور امریکا کے ساتھ معاہدہ کرے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں