دنیا کو جنگل کے قانون میں واپس جانے سے روکنا ہوگا ،چینی صدر

 دنیا کو جنگل کے قانون میں واپس جانے سے روکنا ہوگا ،چینی صدر

ولی عہد یواے ای ،سپین کے وزیر اعظم سے ملاقات،4نکاتی امن فارمولا پیش امریکا نے الزامات کی بنیاد پر ٹیرف لگایا تو سخت اقدامات کرینگے ، وزارت خارجہ

 بیجنگ ( مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں )چین نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے 4 نکاتی فارمولا پیش کر دیا ہے ، بیجنگ میں چین کے صدرشی جن پنگ سے یو اے ای کے ولی عہدشیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے ملاقات کی،یہ ملاقات بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں ہوئی،دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، معیشت اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،چینی سرکاری میڈیا کے مطابق چینی صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے مشترکہ اور جامع تعاون پر مبنی پائیدار سکیورٹی نظام کی تشکیل ناگزیر ہے ، انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے 4 نکاتی فارمولا پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو جنگل کے قانون میں واپس جانے سے رو کنا ہوگا، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھا جانا چاہیے ، خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے ، تمام ممالک کے افراد، تنصیبات اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے ، ترقی اور سکیورٹی کو ایک ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے ۔تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری ترجیحی راستہ ہے ، ادھرچین کے صدر شی جن پنگ نے سپین کے وزیراعظم سے ملاقات میں کہا کہ چین اور سپین اصولی ممالک ہیں جو انصاف کے لیے کھڑے ہیں اور انہیں عالمی انتشار اور طاقت کے مقابلے کے دوران تعاون بڑھانا چاہیے ۔ سپین کے وزیر اعظم نے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ کی جنگ کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ،

دریں اثنا چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کو ہتھیار فراہم کرنے کے الزامات کو بنیاد بناکر چین پر ٹیرف عائد کرنے پر اصرار کرتا ہے تو چین ضرور سخت جوابی اقدامات کرے گا، انہوں نے ان خبروں کو من گھڑت قرار دیا کہ چین ایران کو نیا فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے ،ترجمان نے کہا کہ الزام مکمل طور پر من گھڑت ہے ، چین ہمیشہ فوجی سازوسامان کی برآمدات میں محتاط اور ذمہ دارانہ پالیسی اپناتا ہے ، اپنے قوانین اور بین الاقوامی ذمے داریوں کے مطابق سخت کنٹرول رکھتا ہے ۔چین کی وزارت خارجہ نے ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کو ‘خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ’ قرار دیا ، اورکہا کہ ، امریکا کی جانب سے فوجی تعیناتی میں اضافہ کشیدگی کو مزید بڑھادے گا ، یہ اقدام نہ صرف جنگ بندی کوکمزور کرے گا بلکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو بھی خطرے میں ڈال دے گا۔ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال اس وقت نازک موڑ پر ہے ، صرف مکمل جنگ بندی ہی حالات کو بہتر بناسکتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں