مغربی کنارا،20سال قبل خالی کی گئی بستی پھرآباد کرنیکاآغاز
اسرائیلی کابینہ کے کئی ارکان ، قانون سازتقریب میں شریک ہوئے فلسطینی ریاست کاتصوردفن کررہے :اسرائیلی وزیرخزانہ سموٹریچ
تل ابیب(اے ایف پی)اسرائیلی وزرا نے اتوار کو مغربی کنارے میں واقع سانور بستی کی دوبارہ بحالی کی باضابطہ تقریب کا انعقاد کیا، یہ بستی 20سال قبل خالی کرائی گئی تھی۔ کابینہ کے کئی ارکان اور قانون ساز تقریب میں شریک ہوئے ، اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹریچ نے کہا کہ اس پرجوش دن پر ہم شمالی سامریا سے غیر قانونی اخراج کی تاریخی اصلاح منا رہے ہیں۔ سموٹر یچ نے کہا کہ ہم انخلا کی پالیسی کے شرمناک اقدام کو ختم کر رہے ہیں، فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کر رہے ہیں اور سانور کی بستی میں واپس آ رہے ہیں۔سا نور کے آبادکار 2005 میں اسرائیل کی انخلا کی پالیسی کے تحت وہاں سے نکال د ئیے گئے تھے۔
اسرائیل کی موجودہ حکومت نے 2005 میں خالی کی گئی شمالی ویسٹ بینک کی چار بستیاں دوبارہ آباد کرنے کی منظوری دی ہے ۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق پندرہ دن قبل 16 خاندان نئے سانور میں منتقل ہو چکے ۔واضح رہے اسرائیل 1967سے مغربی کنارے پر قابض ہے اور اس دوران مختلف حکومتوں نے بستیاں بڑھانے کی پالیسی اپنائی۔2022 سے اب تک100سے زائد نئی بستیاں منظور ہو چکی ہیں۔اسرائیلی اسٹیٹ پراسیکیوٹر دفتر کے مطابق نیتن یاہو کے خلاف کیس کی سماعت منسوخ نہیں ہوسکتی ، مدعی اپنا شیڈول ایڈجسٹ کریں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے عدالت میں سلامتی اور سیاسی معاملات کے باعث سماعت منسوخ کرنے کی درخواست دی تھی۔