ٹرمپ 3 روز منظر سے غائب ، فون پر انٹرویو دیتے رہے
پس پردہ ذہنی یا انتظامی دباؤکا شکار ہونے کے خدشات،غصے بھرے پیغامات امریکی عملے کو بچانے کی کوشش کے وقت ٹرمپ کو کمرے سے دوررکھا گیا
واشنگٹن (مانیٹرنگ سیل )79سالہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین دن منظر عام پر کیوں نہیں آئے ؟، ان کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ وہ پسِ پردہ ذہنی یا انتظامی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔صدر کو آخری بار ہفتہ کی صبح 18 اپریل کو وائٹ ہاؤس میں عوامی طور پر دیکھا گیا تھا، جہاں انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ریگولیٹری اداروں کو ہدایت دی گئی کہ سائیکیڈیلیک (نشہ آور اثرات رکھنے والی) علاجی ادویات کے جائزے کے عمل کو تیز کیا جائے ۔اسی دن بعد میں وہ ورجینیا میں اپنے گالف کلب بھی گئے ، تاہم عام طور پر کیمروں کی توجہ حاصل کرنے والے صدر اس کے بعد پورے ہفتے کے آخر اور پیر کے روز مکمل طور پر بند دروازوں کے پیچھے رہے ۔اس دوران انہوں نے براہِ راست صحافیوں سے متعدد فون کالز کے ذریعے رابطہ رکھا اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ہفتہ کی صبح کے بعد سے 50 سے زائد بار پوسٹس یا ری پوسٹس کیں۔امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ناقدین نے ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے سخت اور غیرمتوقع بیانات، دھمکی آمیز پوسٹس، اور ایران مذاکرات کے حوالے سے مبینہ الجھن پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اس دوران انہوں نے سوشل میڈیا پر متعدد سخت اور غصے بھرے پیغامات جاری کیے ، انہوں نے اتوار اور پیر کو فون پر ہونے والے کئی انٹرویوز میں مبینہ طور پر الجھن کے آثار بھی دکھائے ۔سب سے پہلے ، صدر نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں ہونے والے اگلے مذاکرات کے مرحلے میں شریک نہیں ہوں گے ۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرو لائن لیویٹ نے تقریباً فوراً ان کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ وینس مذاکرات کیلئے سفر کر رہے ہیں۔پیر کے روز بھی یہ الجھن برقرار رہی جب ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جے ڈی وینس اس وقت فضا میں (محوپرواز ) ہیں، تاہم اسی دوران نائب صدر اچانک وائٹ ہاؤس میں موجود دکھائی دئیے ۔صدر نے منگل کے روز بھی متعدد غیر معمولی بیانات دئیے جب انہوں نے سی این بی سی کو فون پر انٹرویو دیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو ویتنام کی جنگ بہت جلد ختم کر دیتے ، حالانکہ انہوں نے اس وقت فوجی خدمات سے بچنے کی کوشش کی تھی۔ہفتہ کے روز وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کو حال ہی میں ایک اہم صورتحال کے دوران جان بوجھ کر کمرے سے دور رکھا گیا، جب امریکی فوج ایران کے قریب گرنے والے اپنے فضائی عملے کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران وہ کئی گھنٹوں تک اپنے معاونین پر سخت غصے کا اظہار کرتے رہے ۔