بنگلہ دیش: پٹرول کیلئے لمبی قطاروں میں انتظار کرنیوالوں کی بھرتی

بنگلہ دیش: پٹرول کیلئے لمبی قطاروں میں انتظار کرنیوالوں کی بھرتی

ڈیڑھ کلو میٹر طویل قطار میں لوگ موٹر سائیکل پر ہی نیند پوری کر تے ہیں اموات بھی ہورہی ہیں ، ایک پٹرول پمپ مینیجر کو ٹرک ڈرائیور نے کچل دیا انتظار کرنیوالوں کیلئے بریانی بھی بیچی جارہی ،ڈرائیور کی آنکھیں نیند سے سرخ ایک خاتون کو پٹرول کیلئے منتیں کرنا پڑیں ، تاکہ اپنی بیٹی کو امتحان گاہ تک لیجاسکے

ڈھاکہ (اے ایف پی)دن ہو یا رات، ڈرائیور ایندھن کے ٹینک بھرنے کے موقع کے لیے گھنٹوں قطاروں میں انتظار کرتے ہیں، کیونکہ درآمدات پر انحصار کرنے والا بنگلہ دیش مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی کمی کا سامنا کر رہا ہے ۔اگرچہ حکومت  کا اصرار ہے کہ کوئی بحران نہیں ہے ، صورتحال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں وہ اجرت پر لوگوں کو اپنی جگہ قطار میں انتظار کے لیے رکھ لیتے ہیں، جبکہ ایک کمپنی نے تو قطار میں انتظار کرنے والوں کی ایک آن لائن ایپ بھی بنا دی ہے ۔ایک ڈرائیور شمس الدین آدھی رات تک پٹرول کا انتظار کرتا رہا ، اس کی آنکھیں نیند کی کمی سے سرخ اور بوجھل تھیں۔ قطار پٹرول پمپ سے تقریباً 1.5 کلومیٹر (تقریباً ایک میل) تک پھیلی ہوئی تھی۔ کچھ لوگ اپنی غیر متحرک موٹر سائیکلوں پر ہی سوتے ہوئے جھکے پڑے تھے ۔ طویل انتظار سے کئی اموات بھی ہوئیں ۔مقامی میڈیا کے مطابق رنگپور شہر میں ایک شخص شدید گرمی میں گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے کے بعد انتقال کر گیا۔دو دیگر افراد بھی جھگڑوں کے دوران مارے گئے ، جن میں ایک واقعے میں جنوبی ضلع ناریل میں ایک پمپ مینیجر مبینہ طور پر ٹرک ڈرائیور کے ہاتھوں کچلا گیا۔

تاہم کچھ کاروباری افراد نے اس صورتحال میں مواقع بھی تلاش کر لیے ہیں، جن میں کھانے پینے کی اشیا ء بیچنے والے شامل ہیں جو بھوکے ڈرائیوروں کو روٹی،کیلے یا مزید باقاعدہ کھانے جیسے مصالحے دار بریانی فراہم کرتے ہیں۔گھریلو مدد کی ایپ شیبا ایکس وائی زیڈ (Sheba XYZ)، جو عام طور پر پلمبنگ اور گھر کی مرمت جیسی خدمات فراہم کرتی ہے ، اب ریفیولنگ ڈرائیور سروس بھی دے رہی ہے ، جس کے تحت صارفین کی جگہ قطار میں کھڑے ہونے کے لیے کسی کو رکھا جاتا ہے ، جس کی فیس 245 ٹکا (تقریباً 2 ڈالر) فی گھنٹہ تک ہے ۔ایک دو بچوں کی ماں فرحانہ زینت نے بتایا کہ انہیں اپنی موٹر سائیکل میں ایندھن لینے کے لیے قطار میں کھڑے لوگوں سے منت سماجت کرنی پڑی تاکہ وہ اپنی بیٹی کو سکول کے امتحان کے لیے لے جا سکیں۔

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں