یروشلم میں یہودی انتہا پسندوں کے مسیحیوں پر حملے معمول
یہودی مسیحی افراد کی طرف تھوکنے یا چیخنے جیسے اقدامات کرتے ہیں:پادری اولیویئر ایسے واقعات روزانہ ہو رہے ہیں ،باہر جاتے ہی شہری گھر جاؤ جیسے نعرے لگاتے ہیں 1سال میں 61جسمانی حملے ، 28 ہراسانی کے واقعات،52 چرچ کو نقصان :رپورٹ
یروشلم (اے ایف پی)یروشلم میں یہودی انتہا پسندوں کے مسیحیوں پر حملے معمول بن گئے ،یروشلم میں منگل کو ایک کیتھولک نَن پر ہونے والے حالیہ حملے کی فوٹیج وائرل ہو ئی ہے ، جس میں ایک یہودی انتہا پسند نَن کو زمین پر دھکیلتا ہے اور پھر واپس آ کر دوبارہ حملہ کرتا ہے ، جس پر کچھ لوگ مداخلت کرتے ہیں۔سینٹ اسٹیفن باسلکا میں اتوار کی عبادت میں شریک مسیحی افراد نے اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ۔پادری اولیویئر کیٹل نے کہا کہ نَن کو ابھی بھی تکلیف ہے ، کیٹل نے بتایا کہ یروشلم آنے کے دس سال بعد ایسے واقعات معمولی نوعیت کے تھے ، لیکن گزشتہ تین چار سال سے یہ روزمرہ کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔یہودی شہری اکثر مسیحیوں کی طرف تھوکنے یا چیخنے جیسے اقدامات کرتے ہیں۔یروشلم میں قائم روسنگ سنٹرکی رپورٹ کے مطابق 2025 میں 61 جسمانی حملے ، 28 زبانی ہراسانی کے واقعات اور 52 چرچ کی جائیداد کو نقصان پہنچانے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ۔ ایک برطانوی پادری نے بتایا کہ ایسے واقعات روزانہ ہوتے ہیں، کالے لباس میں باہر جاتے ہی شہری گھر جاؤ جیسے نعرے لگاتے ہیں۔