50جوڑوں کی اجتماعی شادی ،تباہ حال غزہ میں خوشی کی لہر

50جوڑوں کی اجتماعی شادی ،تباہ حال غزہ میں خوشی کی لہر

مسکراتی دلہنیں، دلہوں کیساتھ تباہ عمارتوں کے درمیان بنے سٹیج پر بیٹھی نظر آئیں لوک رقص ’’دبکہ‘‘کے دوران خواتین کی خوشی بھری صدائیں فضا میں گونجتی رہیں

غز ہ سٹی (اے ایف پی،دنیانیوز)فلسطین کے تباہ حال شہر غزہ سٹی میں 50جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب نے خوشیوں کے رنگ بکھیر دئیے ،روایتی فلسطینی لباسوں میں ملبوس، سفید کپڑوں پر قوسِ قزح جیسے رنگوں کی خوبصورت کشیدہ کاری کئے ہوئے بیسیوں مسکراتی دلہنیں سرخ گلدستے تھامے اپنے دلہوں کے ساتھ غزہ شہر کے خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں کے  درمیان چلتی دکھائی دیں۔شہر کے ایک چوک میں لاؤڈ سپیکرز پر بجنے والے مقبول گانوں کی دھنوں کے درمیان، جنگ اور بے دخلی کے باعث طویل عرصے سے موخر ہونے والی شادیوں کے یہ جوڑے سٹیج پر بیٹھے تھے اور ان کے چہروں پر خوشی نمایاں تھی۔دو سالہ تباہ کن جنگ کے دوران اسرائیلی حملوں سے تباہ حال عمارتوں کے پس منظر میں ہونے والی اس اجتماعی شادی کو دیکھنے کیلئے ہزاروں افراد جمع ہوئے ۔شرکا تالیاں بجاتے اور مسکراتے رہے جبکہ ایک گروپ نے عرب لوک رقص ’’دبکہ‘‘پیش کیا، اس دوران خواتین کی خوشی بھری صدائیں فضا میں گونجتی رہیں۔ایک دلہا علی مصبح کاکہناتھاکہ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا کہ آخرکار میری شادی ہو رہی ہے ۔

میں خیمے میں بیٹھا تھا کہ میرے فون کی گھنٹی بجی اوراطلاع ملی کہ وہ منتخب کئے گئے 50 نوجوانوں میں شامل ہیں۔غزہ میں اکتوبر میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے ایسی متعدد اجتماعی شادیوں کا انعقاد کیا جا چکا ہے ، یہ خصوصی تقریب ترک فلاحی تنظیم IHH نے منعقد اورسپانسر کی ۔علی مصبح اور ان کی دلہن ہدیٰ الخالوط کیلئے شادی کے اخراجات بھی نکاح میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے تھے ۔علی مصبح نے کہاکہ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایسے حالات میں میری شادی ہوگی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں