گرمی کی لہر، پیرس کے سرد خانوں میں لاشیں رکھنے کی گنجائش ختم

گرمی کی لہر، پیرس کے سرد خانوں میں لاشیں رکھنے کی گنجائش ختم

فرانس میں پانی کی کمی کے باعث 15 ماہ کی جڑواں بچیاں ہلاک ،والدین گرفتار متعدد یورپی ممالک میں شدید گرمی برقرار ،فرانس میں درجہ حرارت کم ہو گیا

پیرس(اے ایف پی،مانیٹرنگ ڈیسک)یورپ میں گرمی کی شدید لہر جاری ہے ،پیرس کے سرد خانوں میں لاشیں رکھنے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے ۔امریکی خبر رساںادارے کے مطابق ہر چند منٹ بعد مردہ خانے کے مالک کو فون بجتا ہے اور سوگوار خاندانوں کی جانب سے یہی پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ کے پاس ایک میت رکھنے کے لیے جگہ ہے ؟،سرد خانے کے مالک زوہائر ہرٹیلی کا کہنا ہے کہ ہم کو ایک تباہ کن صورت حال کا سامنا ہے اور مجھے روز سینکڑوں فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔سرد خانے کے مالک زوہائر ہرٹیلی کے مطابق گرمی کی اس لہر سے اموات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے ، ہمارے پاس گنجائش ختم ہو چکی ہے اور ہر طرف شدید دباؤ ہے ،فرانس میں شدید گرمی کے دوران 15 ماہ کی جڑواں بچیوں کی مبینہ طور پر پانی کی کمی کے باعث ہلاکت کے بعد پولیس نے والدین کو حراست میں لے لیا۔ ابتدائی تحقیقات میں ہلاکت کی ممکنہ وجہ پانی کی شدید کمی بتائی گئی ہے ۔ خاندان کے دیگر چار بچے بھی پانی کی کمی کے باعث ہسپتال منتقل کیے گئے ، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔دوسری جانب یورپ کے مختلف حصوں میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے ، موسمیاتی تجزیے کے مطابق ہنگری، رومانیہ، سربیا، آسٹریا اور جنوبی پولینڈ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ اٹلی کے گنجان آباد علاقے پو ویلی اور جزیرہ نما آئبیریا کے کچھ حصے بھی متاثر ہیں۔ فرانس میں درجہ حرارت کم ہو رہا ہے تاہم صحت کے الرٹس بدستور نافذ ہیں۔ ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں گرمی کے اثرات اصل اندازے سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں