امریکی نمائندے دوحہ پہنچ گئے:امریکا ایران براہ راست مذاکرات نہیں ہونگے:قطر
منجمد 6ارب ڈالر تہران کو منتقل نہیں کیے :ترجمان قطری وزارت خارجہ ،ثالث کے ساتھ مذاکرات آج متوقع:ایران تکنیکی وفد ایم او یو پر عملدرآمد کے جائزہ کیلئے دوحہ جارہا،جارحانہ اقدام کا فیصلہ کن جواب دینگے :بقائی،تیل کی قیمتوں میں کمی
دوحہ،تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی نمائندہ سٹیو وٹکوف دوحہ پہنچ گئے جہاں انہوں نے قطری ثالثوں اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے کہادوحہ کی ملاقات شاید اہم ہو، شاید نہ ہو۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے ۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد انصاری کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کےنمائندے ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے دوحہ نہیں آئے ہیں،اس وقت ایران کا کوئی اعلیٰ سطح نمائندہ دوحہ میں موجود نہیں،جہاں تک مجھے علم ہے ، آنے والے دنوں میں دونوں فریقوں کے درمیان کسی براہِ راست اجلاس کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ثالثوں سے ملاقات اور علاقائی امور پر بات چیت کیلئے دوحہ آئے ہیں۔یہ بات چیت ایران اور دیگر موضوعات جیسے لبنان کی صورتحال کے بارے میں ہوگی۔ ہم ابھی کسی حتمی معاہدے کیلئے مذاکرات کے مرحلے میں داخل نہیں ہوئے ۔ ماجد الانصاری نے کہاہمارے پاس جوہری معاملات کا ایک الگ راستہ ہے ، اقتصادی اور ریاستی کارکردگی کا ایک الگ راستہ ہے ، اور سلامتی و علاقائی سلامتی کا ایک الگ راستہ ہے ۔
ترجمان قطر ی وزارتِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ قطر نے ایران کے منجمد چھ ارب ڈالر تہران کو منتقل نہیں کیے ہیں۔تہران نے قطر کیلئے ایک وفد کے سفر کی تصدیق کی ہے لیکن کہا ہے کہ ان کی امریکی حکام سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ منجمد ایرانی اثاثوں کے اجرا سمیت عبوری معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے ثالث قطر کے ساتھ مذاکرات آج بدھ کے روز دوحہ میں متوقع ہیں۔انہوں نے کہاآنے والے دنوں میں امریکی فریق کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی ملاقات طے نہیں کی گئی۔انہوں نے مزید کہا امریکی نمائندوں کے دورۂ قطر کا ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں ہے ، کیونکہ ایرانی تکنیکی وفد صرف مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے دوحہ جا رہا ہے ۔بقائی نے کہا آبنائے ہرمز میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی ضرورت نہیں، جبکہ مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز سے متعلق
ایران کی ذمہ داریاں مکمل طور پر واضح ہیں،ایران متعلقہ فریقوں کو اس معاملے میں کسی بھی دوسرے فریق سے بہتر سمجھتا ہے ۔انہوں نے کہا لبنان کے معاملے پر ایران کی پالیسی میں کوئی ابہام نہیں ،امریکا نے تمام محاذوں پر جنگ رکوانے کیلئے واضح عزم کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے کہا ایران کے اہداف کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،اس قسم کے اقدامات مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 1 کی خلاف ورزی شمار ہوں گے ،فطری طور پر اگر ایسی خلاف ورزیاں دہرائی گئیں اور جاری رہیں تو اس عمل کو جاری رکھنا مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا امریکا معاہدے کی پاسداری کرے گا تو ہم بھی اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں گے ،امریکاکے ساتھ مذاکرات کے تمام مراحل نظام کی پالیسیوں کے دائرہ کار میں اور ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ مکمل اور مسلسل ہم آہنگی کے تحت آگے بڑھے ہیں،حکومت نے ملکی یکجہتی برقرار رکھنے کیلئے بعض بیانات کا جواب دینے سے گریز کیا ہے ۔ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع بریگیڈیئر جنرل ماجد ابن رضا نے خبردار کیا ہے کہ انہیں دشمن پر اعتماد نہیں ،ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں اور کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے نتیجے میں ہم ضروری اور مناسب کارروائی کریں گے ۔سفارتی سرگرمیوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود، کشیدگی میں کمی کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور توقع ہے کہ 2020 کی کوویڈ وبا کے بعد یہ سہ ماہی کی سب سے بڑی گراوٹ ہوگی۔