تاجکستان میں بچوں کے ’’غیرمنظور شدہ ‘‘نام رکھنا ناممکن

تاجکستان میں بچوں کے ’’غیرمنظور شدہ ‘‘نام رکھنا ناممکن

ناموں کی سرکاری فہرست موجود ،غیرتاجک سمجھے جانیوالے نام رجسٹرڈ نہیں ہوتے مسلم نام یاسین، امیرہ اور ریاض فہرست سے خارج ،محمد اور کریم کی اجازت برقرار

دوشنبے (اے ایف پی)تاجکستان میں حکومت کی منظور شدہ ناموں کی فہرست کے باعث متعدد والدین اپنے نومولود بچوں کے پسندیدہ نام رجسٹر کرانے سے محروم ہیں، حکام صرف انہی ناموں کی رجسٹریشن کی اجازت دیتے ہیں جو سرکاری فہرست میں شامل ہوں جبکہ غیر ملکی یا غیر تاجک سمجھے جانے والے نام مسترد کر دئیے جاتے ہیں۔دارالحکومت دوشنبے کی رہائشی شخنوزہ نظروفا نے بتایا کہ انہوں نے اپنی نومولود بیٹی کا نام ’’دنیا‘‘رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جو پہلے سرکاری فہرست میں موجود تھا، مگر رواں سال فروری میں فہرست کی تازہ کاری کے بعد یہ  نام نکال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود ان کی بیٹی کا نام رجسٹر نہیں ہو سکا کیونکہ حکام درخواست قبول نہیں کر رہے ۔اسی طرح دوسری بیٹی کی منتظر گردووارید ممدجانووا بھی مشکل کا شکار ہیں، وہ اپنی بیٹی کا نام یاسمینارکھنا چاہتی ہیں، مگر یہ نام بھی سرکاری فہرست میں شامل نہیں۔ ان کے مطابق حکام صرف یوسومان یا یوسامین جیسے نام قبول کرتے ہیں۔ ان کی پہلی بیٹی کا پسندیدہ نام عائشہ بھی مسترد کر دیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں سرکاری طور پر منظور شدہ نام اوئیشہ رکھنا پڑا۔تاجکستان نے تقریباً دس برس قبل منظور شدہ ناموں کی سرکاری فہرست متعارف کرائی تھی، جسے رواں سال فروری میں دوبارہ اپ ڈیٹ کیا گیا۔

اس کا مقصد تاجک ثقافت کا فروغ، روسی اثرورسوخ میں کمی اور انتہا پسند مذہبی رجحانات کی حوصلہ شکنی قرار دیا جاتا ہے ۔تقریباً ایک کروڑ آبادی والے اس سیکولر مسلم ملک کے صدر امام علی رحمن طویل عرصے سے قومی شناخت کو فروغ دینے ، روسی اثرات کم کرنے اور مذہبی انتہاپسندی کی روک تھام کیلئے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے 2019 میں کہا تھا کہ بچوں کے ناموں کے انتخاب میں غیر ملکی ثقافت کی تقلید قطعی ناقابل قبول ہے کیونکہ اس سے نئی نسل اپنی تاریخی شناخت سے دور ہو جاتی ہے ۔حکام نے بعض مسلم نام جیسے یاسین، امیرہ اور ریاض سرکاری فہرست سے خارج کر رکھے ہیں جبکہ محمد اور کریم جیسے ناموں کی اجازت برقرار ہے ۔ یہ پابندیاں صرف نسلی تاجک شہریوں پر لاگو ہوتی ہیں۔تاجکستان میں خواتین کیلئے حجاب اور نوجوان مردوں کی لمبی داڑھی پر بھی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں جبکہ صدر امام علی رحمن نے 2007 میں اپنے نام سے روسی لاحقہ ’’اوو‘‘ختم کر دیا تھا اور 2016 سے نومولود بچوں کے ناموں میں بھی اس لاحقے کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں