فلسطین :دو دہائیوں بعد28 نومبر کو پارلیمانی انتخابات کا اعلان
آخری الیکشن 2006 میں، حماس کو کامیابی ملی مگر پارلیمانی اجلاس نہ ہو سکے صدر عباس کی مدت 2009 میں ختم ،صدارتی فرامین سے حکومت چلا رہے
راملہ (اے ایف پی)فلسطینی صدر محمود عباس نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے 28 نومبر کو قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے ۔ اگر یہ انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو تقریباً دو دہائیوں کے بعد فلسطینی علاقوں میں پہلی بار قانون ساز اسمبلی کے لیے ووٹنگ ہوگی۔فلسطینی علاقوں میں آخری قانون ساز انتخابات 2006 میں ہوئے تھے ، جن میں حماس نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے محمود عباس کی جماعت فتح کو شکست دی تھی، اس کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی کی پارلیمان 2007 کے بعد سے کوئی اجلاس منعقد نہیں کر سکی۔ صدارتی فرمان میں یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ کے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر آزادانہ انتخابات میں حصہ لے کر فلسطینی قانون ساز کونسل کے ارکان کا انتخاب کریں۔90 سالہ محمود عباس 2005 میں چار سالہ مدت کے لیے فلسطینی صدر منتخب ہوئے تھے ، جس کے مطابق ان کی آئینی مدت 2009 میں ختم ہو جانی چاہیے تھی۔تاہم ان کی مدت میں توسیع کر دی گئی اور اس کے بعد سے کوئی صدارتی انتخاب نہیں ہوا۔ محمود عباس صدارتی فرامین کے ذریعے حکومت چلا رہے ہیں، جس پر انہیں اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے ۔