ایران جنگ سے ’’توجہ ہٹاؤ‘‘سیاست ، ٹرمپ کی ٹامک ٹوئیاں
ٹرمپ ناپسندیدہ خبروں سے توجہ ہٹانے کیلئے گفتگو کا موضوع ہی بدل دیتے ہیں انتخابات سے قبل ایران جنگ و معیشت کی خبریں پس منظر دھکیلنے کی کوشش اچانک شمالی کوریا سے مذاکرات کا امکان ظاہر کرنا ٹرمپ کی نئی سیاسی حکمت عملی ٹرمپ کا اونٹاریو کا نام جھیل امریکارکھنے کا اعلان امریکا فرسٹ بیانیے کو تقویت دیگا وائٹ ہاؤس کی ایران جنگ کو پس منظر میں رکھ کر معاشی اقدامات پر توجہ مرکوز ایران جنگ اور مہنگائی ٹرمپ کیلئے بڑا امتحان، ریپبلکنز کو کانگریس کھونے کا خدشہ ایران جنگ سے مقبولیت شدید متاثر،صدر توجہ ہٹانے میں ماہر ہیں:تجزیہ کار
واشنگٹن (اے ایف پی) امریکی صدر ٹرمپ کی حالیہ سیاسی سرگرمیاں، کینیڈا کے ساتھ جھیل کے نام پر تنازع سے لے کر اچانک شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے مذاکرات کی بات تک، اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ مشکل خبروں کا رخ موڑنے کی اپنی پرانی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔سابق ریئلٹی ٹی وی سٹار ٹرمپ طویل عرصے سے اس حربے کیلئے جانے جاتے ہیں کہ جب کوئی بات پسند نہ آئے تو گفتگو کا موضوع ہی بدل دیا جائے ۔ تاہم 80 سالہ صدر کی حالیہ سرگرمیاں معمول سے زیادہ منظم دکھائی دیتی ہیں، جن کا مقصد نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران جنگ اور ملکی معیشت سے متعلق خبروں کو پس منظر میں دھکیلنا ہے ۔بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے ایک تجزیہ کار نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ یہ صدر توجہ ہٹانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ ٹرمپ کی مقبولیت پر بھاری پڑ رہی ہے اور رائے عامہ کے جائزوں میں ان کی مقبولیت مسلسل 30 فیصد کی نچلی سطح پر ہے ۔ جنگ چھٹے ماہ میں داخل ہوچکی ہے اور اس کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آتے ۔امریکی جریدے دی اٹلانٹک کے مطابق وائٹ ہاؤس کی حکمت عملی یہ ہے کہ جنگ کو خبروں کے پس منظر میں دھکیلا جائے ، مزید فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے اور ایران کے خلاف نسبتاً کم توجہ حاصل کرنے والے معاشی اقدامات پر توجہ مرکوز کی جائے۔
اسی حکمت عملی کے تحت ٹرمپ نے جمعرات کو صحافیوں کو اوول آفس طلب کرکے حیران کن اعلان کیا کہ وہ کینیڈا کی سرحد پر واقع جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’جھیل امریکا‘‘ رکھنے کے حکم نامے پر دستخط کررہے ہیں۔یہ اقدام کینیڈا کے ساتھ کئی روز سے جاری تجارتی کشیدگی کے بعد سامنے آیا اور ٹرمپ کے حامیوں کیلئے ان کے پسندیدہ ’’امریکا فرسٹ‘‘ بیانیے کو مزید تقویت دیتا ہے ۔ڈیموکریٹس نے اس اقدام کو بچگانہ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔ایک ہفتہ قبل ٹرمپ نے اچانک شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے مذاکرات کا امکان ظاہر کیا تھا، حالانکہ جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے انہوں نے اس معاملے کا شاذ ہی ذکر کیا تھا۔ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اپنی تزئین و آرائش کے بارے میں بھی معمول سے زیادہ بات کررہے ہیں۔ جمعے کو انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر وائٹ ہاؤس کے داخلی راستے کے گرینائٹ کی صفائی اور دوبارہ گراؤٹنگ کا ذکر کیا۔ٹرمپ مڈٹرم انتخابات سے قبل اپنے سیاسی ریکارڈ پر مبنی ٹی وی اشتہارات چلانے کی بھی منصوبہ بندی کررہے ہیں، جس کیلئے ان کے پاس 40 کروڑ ڈالر کا سیاسی فنڈ موجود ہے ۔ ریپبلکنز کو خدشہ ہے کہ وہ انتخابات میں کانگریس پر اپنا کنٹرول کھو سکتے ہیں۔تاہم ٹرمپ کیلئے سیاسی گفتگو کو اپنی مرضی کے رخ پر لے جانا آسان نہیں ہوگا۔ایران جنگ اس صدر کیلئے ایک مشکل بن چکی ہے جس نے امریکا کو مزید بیرونی جنگوں میں الجھانے سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔ اگر تیل کی قیمتیں اور نتیجتاً روزمرہ اخراجات بلند رہے تو معیشت وسط مدتی انتخابات میں ووٹروں کیلئے سب سے بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments