بدعنوانی ،سابق سری لنکن صدر راجاپکشے کا بیٹانامال گرفتار
کولمبو(اے ایف پی)سری لنکا کے مرکزی انسدادِ بدعنوانی ادارے نے گزشتہ روز سابق صدر مہندا راجاپکشے کے بیٹے اور رکنِ پارلیمنٹ نامال راجاپکشے کو 2013 میں ایئربس طیاروں کی خریداری سے متعلق بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کر لیا۔
کمیشن ٹو انویسٹی گیٹ الیگیشنز آف برائبری اینڈ کرپشن کے مطابق 40 سالہ نامال راجاپکشے کو ‘‘ایئربس طیاروں کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا تھا۔کمیشن کے ایک عہدیدار نے بتایا، ‘‘بعد ازاں رکنِ پارلیمنٹ کو گرفتار کر لیا گیا اور انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نامال راجاپکشے پر کون سی مخصوص دفعات کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے ۔ان کے وکیل نشناتھا دیاناندا نے بھی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی 2.3 ارب ڈالر کے متنازعہ ایئربس معاہدے کے حوالے سے کی گئی ہے ۔ یہ معاہدہ بالآخر 2016 میں آنے والی نئی حکومت نے منسوخ کر دیا تھا۔ یورپی طیارہ ساز کمپنی ایئربس نے طیاروں کی خریداری کے لیے ادا کی جانے والی رقم کا ایک حصہ سری لنکا کے اعلیٰ حکام اور سیاست دانوں کو رشوت کے طور پر دیا تھا۔راجاپکشے خاندان نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اسے رشوت ملی تھی اور بدعنوانی کے الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے ۔سری لنکن ایئرلائنز کے سابق چیف ایگزیکٹو کپِلا چندراسینا نے مارچ میں تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ انہوں نے تقریباً پانچ لاکھ ڈالر کی رشوت راجاپکشے کو دی تھی۔ بعد میں چندراسینا نے اپنا بیان واپس لے لیا اور دعویٰ کیا کہ یہ بیان ان پر دباؤ ڈال کر لیا گیا تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments