بھارت: عدالتی حکم پر بانی کاکروچ تحریک رہا، احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

بھارت: عدالتی حکم پر بانی کاکروچ تحریک رہا، احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

مودی ملک کیلئے شرمندگی کا باعث ، بھارت نے کبھی اس سے بڑا بزدل شخص نہیں دیکھا:بانی کاکروچ الیکشن کمیشن کیخلاف کاکروچ کے مظاہرے دوبارہ شروع،نئی دہلی میں پولیس اور فوج بدستور تعینات

نئی دہلی(اے ایف پی)بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی عدالت نے ’’کاکروچ‘‘ تحریک کے بانی ابھیجیت ڈپکے سمیت تین رہنماؤں کی رہائی کا حکم دے دیا۔ وکیل رتنا سنگھ کے مطابق عدالت نے ابھیجیت ڈپکے ، سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو رہا کرنے کی ہدایت کی، تینوں رہنماؤں کو ہفتے کو بھارتی الیکشن کمشنر کے خلاف بڑے احتجاج سے قبل حراست میں لیا گیا تھا، ادھر آن لائن طنزیہ تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے حراست سے رہائی کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔رہائی کے فوراً بعد سوشل  میڈیا پر ایک بیان میں ابھیجیت ڈپکے نے وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی حیثیت سے مودی بھارت کے لیے باعثِ شرمندگی ہیں۔ڈپکے نے مزید کہا کہ اس ملک نے کبھی اس سے بڑا بزدل اور دھونس جمانے والا شخص نہیں دیکھا۔حراست سے رہائی کے بعد نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی جے پی کے شریک کنوینر سورَو داس نے کہا، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ باہر نکلیں اور پُرامن احتجاج کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے تک تحریک جاری رکھی جائے گی۔دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکن انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کیخلاف اتوار کو نئی دہلی کی سڑکوں پر دوبارہ نکل آئے ۔ مظاہرین نے ملک کے انتخابی کمیشن کے مبینہ غیر مناسب طرز عمل پر احتجاج کیا،کانگریس رہنما راہول گاندھی نے بھی احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ،راہول گاندھی نے ایکس پر پوسٹ میں کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے سے چلے جائیں گے اور مودی کی قیادت میں قائم حکومت بھی بالآخر ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بھارت میں جمہوریت کی بحالی کا عمل شروع ہوگا۔اتوار کو اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے جنتر منتر کے قریب تین مقامات پر درجنوں افراد کو حراست میں دیکھنے کی اطلاع دی، جن میں صحافی بھی شامل تھے ۔ اس مقام پر سکیورٹی کے سخت انتظامات برقرار تھے ۔

نئی دہلی میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار بدستور تعینات ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کو دوپہر تک احتجاج نسبتاً محدود رہا۔ طلبا تنظیموں سے تعلق رکھنے والے چند درجن افراد نے گیانیش کمار کے خلاف نعرے بازی کی جبکہ پولیس نے بعض مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔پولیس اور نیم فوجی اہلکار بدستور شہر بھر میں تعینات ہیں، تاہم میٹرو سٹیشن دوبارہ کھول دئیے گئے ۔اپوزیشن جماعتوں اور مودی حکومت کے ناقدین نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال پر سخت تنقید کی، جبکہ اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے حکام سے مطالبہ کیا کہ پرامن اجتماع کے حق کا احترام اور تحفظ یقینی بنایا جائے ۔بھارتی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے بیان کو بھارت کے اندرونی معاملات میں بلا جواز مداخلت قرار دیا ہے ۔اتوار کو ہونے والی ایک غیر معمولی طور عدالتی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکومت کی یہ یقین دہانی ریکارڈ پر لی کہ وکلا اور صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے نہیں روکا جائے گا۔ ہفتے کو نئی دہلی میں مجوزہ مظاہرے سے قبل تحریک کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور دو دیگر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا تھا، جبکہ ہزاروں مظاہرین کو بھی گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ تحریک انتخابی فہرستوں پر نظرثانی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف چلائی جا رہی ہے ، سپریم کورٹ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ پُرامن مظاہرین کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہ لیا جائے ۔ 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...