امریکا : مڈٹرم الیکشن میں انتخابی اخراجات کے نئے ریکار ڈ قائم
سیاسی گروپوں نے خفیہ ذرائع سے حاصل 1 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر لئے ایلون مسک اب تک ری پبلکن گروپوں کو 45کروڑ ڈالر دے چکے :اعداد و شمار
نیویارک (اے ایف پی)امریکا میں وسط مدتی انتخابات کی مہم پر خفیہ ذرائع سے بھاری رقوم حاصل کرنے والے پانچ بڑے سیاسی گروپ ایک ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکے ہیں، جس سے دنیا کے مہنگے ترین انتخابی نظام میں اخراجات کے نئے ریکارڈ قائم ہو گئے ہیں۔ووٹنگ میں ایک ہفتے سے کچھ زیادہ وقت باقی رہ گیا ہے۔ وفاقی اعداد و شمار کے مطابق 25 اکتوبر تک سیاسی جماعتوں کے علاوہ انتخابی مہم پر ہونے والے اخراجات کا تقریباً ایک تہائی حصہ صرف پانچ گروپوں نے خرچ کیا۔ ان گروپوں کو سپر پی اے سی (سیاسی ایکشن کمیٹیاں)کہا جاتا ہے ۔ان پانچ میں سے تین گروپوں کا جھکاؤصدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کی جانب ہے، جبکہ مجموعی طور پر خرچ کیے گئے ایک ارب ڈالر میں سے تقریباً دو تہائی رقم ری پبلکن پارٹی کے امیدواروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے استعمال ہوگی۔
اس مالی مہم کو ایلون مسک جیسے انتہائی امیر اور ری پبلکن پارٹی کے حامی عطیہ دہندگان کی سرپرستی حاصل ہے، جو صدر ٹرمپ کے اہم اتحادی بھی ہیں۔ایلون مسک اب تک ری پبلکن گروپوں کو تقریباً 45 کروڑ ڈالر دے چکے ہیں۔ ان میں سینیٹ لیڈرشپ فنڈ بھی شامل ہے ، جو ان سپر پی اے سی میں سب سے بڑا گروپ ہے ۔دوسری جانب امیدواروں کی انتخابی مہم اور پارٹی کی قومی کمیٹیوں کو براہِ راست عطیات جمع کرنے میں ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے ۔ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی ان نشستوں پر جہاں سخت مقابلہ متوقع ہے ، ڈیموکریٹ امیدوار مسلسل اپنے ری پبلکن حریفوں سے زیادہ عطیات جمع کر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں میں خصوصاً چھوٹے عطیات دینے والوں میں انتخابی مہم کیلئے خاصا جوش و جذبہ پایا جاتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments