بچے کسی بھی شہری کا ذاتی معاملہ،ریاست کو دبائو نہیں ڈالنا چاہئے ،بھارتی سپریم کورٹ

 بچے کسی بھی شہری کا ذاتی  معاملہ،ریاست کو دبائو نہیں  ڈالنا چاہئے ،بھارتی سپریم کورٹ

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت کی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی شخص کو کتنے بچے پیدا کرنے ہیں، بنیادی طور پر نجی اور ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے اور عام حالات میں ریاست کو اس پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے ،

 ایسے قوانین، جن کے تحت دو سے زیادہ بچوں والے افراد کو پنچایت انتخابات لڑنے یا بعض سرکاری سہولتوں سے فائدہ اٹھانے سے روکا جاتا ہے ، تیزی سے گھٹتی ہوئی شرحِ پیدائش کے تناظر میں اپنا جواز کھو چکے ہیں۔عدالتِ عظمیٰ نے یہ ریمارکس مہاراشٹر کی رہائشی منگلا بھیم راؤ اینگلے کی اپیل منظور کرتے ہوئے دئیے ۔ اینگلے گاؤں کاکوڈا کی سرپنچ منتخب ہوئی تھیں، تاہم ان کا انتخاب ریاستی قانون کے تحت کالعدم قرار دے دیا گیا تھا، کیونکہ ان کے دو سے زیادہ بچے ہیں۔ دو رکنی بینچ نے اینگلے کو دوبارہ سرپنچ کے عہدے پر بحال کر دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...