راولپنڈی , کراچی , کوئٹہ , بنوں میں دہشتگردی ; خودکش حملے دھماکے سکیورٹی اہلکاروں سمیت 26 جاں بحق
راولپنڈی میں ڈھوک سیداں کی امام بارگاہ کے باہر جلوس میں خود کش دھماکہ ، 15افرادجاں بحق، متعددزخمی،بجلی معطل، امدادی کارروائیوں میں مشکلات، مشتعل افراد کی ہنگامہ آرائی کراچی اورنگی ٹائون میں 2 دھماکے ،پہلا دھماکہ امام بارگاہ کے قریب موٹرسائیکل میں نصب بم پھٹنے سے ہوا،امدادی کارروائیوں کے دوران دوسرا دھماکا،2جاں بحق ،متعدد زخمی ، کئی گاڑیاں تباہ کوئٹہ میں سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ، 5 جاں بحق ، بنوں میں فائرنگ ،4اہلکار شہید، پشاورمیں15 من بارودی مواد سے بھری گاڑی پکڑی گئی ، صدر ، وزیراعظم و دیگر کا اظہار مذمت
کراچی‘راولپنڈی ، کوئٹہ ، بنوں(اسٹاف رپورٹر‘نمائندگان دنیا‘خبرایجنسیاں) راولپنڈی ،کوئٹہ ،کراچی اور بنوں میں بدھ کو ہونے والے خود کش حملوں ،دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں سیکورٹی اہلکاروں سمیت 26 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے ۔تفصیلات کے مطابق بدھ کی شب رات تقریباً 11:20 پر راولپنڈی کے علاقے ڈھوک سیداں میں امام بارگاہ قصر شبیر میں عزاداروں کے جلوس میں ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 15افراد جاں بحق جبکہ 2 درجن سے زائد افراد زخمی ہو گئےجنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ۔ واقعہ کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیااور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے بعد علاقے کی بجلی معطل ہو گئی جبکہ دھماکے سے قریبی گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور سوئے ہوئے افراد بھی گھروں سے خوف زدہ ہو کر باہر نکل آئے۔ بجلی کی معطلی کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔ پولیس کے مطابق دھماکہ خود کش تھا ۔ ایک خودکش حملہ آور نے جلوس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو سیکیورٹی اہلکاروں نے اس کوروک کر تلاشی لینا چاہی جس پراس نے خود کو دھماکے سے اڑادیا۔ واقعے کے بعد راولپنڈی کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ امدادی ٹیموں نے زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا۔ دوسری جانب کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن پونے پانچ نمبر پر مرکزی امام بارگاہ حیدر قرار سے متصل پنکچر کی دکان کے قریب شام سات بجے کے وقت موٹر سائیکل میں نصب بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ رکشہ نمبرD.83357کا ڈرائیورمجاہد ولد ظہیر الحسن،22سالہ عابد ولد بشیر،شفیع،احمد رضا،سندر،زینب بی بی،سلیم،علی رضا،اور حیدر زخمی ہوئے ۔اس اطلاع پر پولیس ،رینجرز،بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ موقع پر پہنچ گیا اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنا شروع کردیا ، دھماکے کے بعدجائے وقوعہ پرافرا تفری پھیل گئی اورعلاقہ مکین اپنے پیاروں کی تلاش میں گھروں سے باہر نکل آئے۔ اس دوران پولیس اور قانون نافذکرنے والے ادارے ابھی جائے وقوعہ کا معائنہ کررہے تھے کہ پون گھنٹے ہی ڈینٹر کی دکان کے قریب ایک اور دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دنیا نیوز چینل کی رپورٹر کرن خان ،محمد علی ولد جینس،سندس خان ولد منیر، سلیم ولد یوسف ،احمد ولد غفور،سلیم ولد نذیر،مشتاق ولد اشتیاق،علی ولد حیدر،حسینین ولد مصطفی ، اے ایس آئی عدنان اور پولیس اہلکار عمران زخمی ہوگئے جبکہ جائے وقوعہ کے قریب کھڑی نجی ٹی وی چینل کی گاڑیاں،ایمبولینس،پولیس اور رینجرز کی موبائلیں متاثر ہوئی ۔ جائے وقوعہ پر عینی شاہدین نے ’’دنیا ‘‘کو بتایا کہ اکرم ڈینٹر کے سامنے نامعلوم شخص جس کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ سیکٹر 4 اورنگی ٹاون کی طرف سے آیا تھا موٹر سائیکل کامران وارث پنکچر شاپ پر کھڑی کر کے چلا گیا جس پر دکان پر موجود کسی شخص نے توجہ نہیں دی اور پھر چند منٹ بعد ہی زور داردھماکہ ہوا اور موٹرسائیکل کے پرخچے اُڑ گئے جبکہ قریب میں کھڑی رکشہ کو بھی شدید نقصان پہنچا دھماکے سے پنکچر شاپ پر بیٹھا 22سالہ ارشد جاں بحق ہوا، ارشد کا جسم موٹرسائیکل کےقریب ہونے وجہ سے کئی حصوں میں تقسیم ہوگیا جس کو پولیس نے خود کش حملہ آور قرار دیا تاہم بعد ازاں پولیس اپنے اس دعوے سے دستبردار ہوگئی عینی شاہدین نے بھی تصدیق کی انہوں نے بم دھماکے میں ایک شخص چیتھڑےاڑ تے دیکھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے نے دھماکے سے چند منٹ قبل امام بارگاہ کے قریب چیکنگ کی تھی جو دھماکے کے وقت اورنگی ٹاؤن تھانے میں موجود تھی اور جائے وقوعہ پر پہنچ کر بم دھماکے کے شواہد جمع کررہی تھی کہ اچانک دوسرا دھماکہ ہوگیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی ویسٹ جاوید اوڈھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور تفصیلات طلب کیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں دوران علاج ارشد ولد نذیر ،ارسلان ولد عبدالستار، اور ایک نامعلوم شخص دم توڑ گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول ارشد مذکورہ امام بارگاہ کے قریب علاقے کا رہائشی تھااور واقعہ کے وقت اپنے دوست پنکچر والے کے پاس بیٹھا تھا،جبکہ ارسلان آئل ڈپو کا مالک ہے اور فرنٹئیر کالونی کا رہائشی تھے۔ڈی آئی جی ویسٹ کا کہنا ہے کہ پہلے بم دھماکے میں دو افراد جاں بحق اور سات زخمی ہوئے جبکہ دوسرے دھماکے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت 13افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق جس موٹر سائیکل پر بم نصب تھا اسکا نمبر KDA 4778 ہے یہ موٹر سائیکل ناصر مرزا کے نام پر رجسٹرڈ ہے ، 2007میں عاشی انٹرپرائیزز سے قسطوں پر لی گئی تھی تاہم سی پی ایل سی کے مطابق مذکورہ موٹر سائیکل کسی کرائم میں ملوث نہیں ۔پولیس افسران کا کہنا ہے کہ شبہ ہے کہ دہشتگردوں نے مذکورہ موٹر سائیکل پر جعلی نمبر لگایا ہوا تھا۔ڈی آئی جی کے مطابق ابتدائی تفتیش میں بم دھماکہ خودکش معلوم ہوا تھا ،لیکن تحقیقات کے بعد معلوم ہوا جب جائے وقوعہ سے ملنے والے جسم اعضاء ارشدنامی شخص کے ہیں جن کی شناخت اس کے بھائی اسکی شناخت شہباز نے شلوار سے کی جس سے واضح ہوگیا کہ دونوں دھماکے پلانٹڈ تھے۔ بدھ کی دوپہر کوئٹہ کے پوش علاقہ شہباز ٹاؤن میں زور دار دھماکہ اس وقت ہوا جب وہاں سے سیکیورٹی فورسز کا قافلہ گذررہا تھا جس میں 5 اہلکار جاں بحق ہوگئے ، دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے قریبی عمارتوں اوردکانوں کے شیشےٹوٹ گئے اورشہر کا زیادہ تر حصہ لرز اٹھا ، دھماکے کے بعدقریبی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی جس پر فائربریگیڈ کے عملے فوری قابو پالیا، واقعہ کے بعدسیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں ،پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے کی جگہ سے ایک مشکوک بیگ کو بھی تحویل میں لیا گیاہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت قریب سے گذرنے والی ایک ا سکول وین بھی متاثر ہوئی اور بعض بچے زخمی ہوگئے ، زخمیوں اور لاشوں کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ۔ دھماکے کے فوراً بعد سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی ، سی سی پی او کوئٹہ میر زبیر محمود ، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن حامد شکیل سمیت دیگر اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے ۔ میڈیا سے گفتگو میں اکبر حسین درانی نے کہا کہ دھماکہ میں دیسی ساختہ بم استعمال کیا گیا ہے، صوبائی حکومت دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر شر پسند عناصر کا بہر صورت قلع قمع کرے گی، دہشت گردوں کو ان کے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ،کیپٹل سٹی پولیس آفیسر میر زبیر محمود نے کہنا تھا کہ شواہد اکٹھے کئے جارہے ہیں تاکہ دہشت گردوں تک پہنچا جاسکے۔ ڈی آئی جی انوسٹی گیشن حامد شکیل نے کہا کہ دھماکے میں 12 سے 15کلو تک مواد استعمال کیا گیا ہے، دھماکہ ریموٹ کنٹرول ہے ۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق بم دیسی ساختہ تھا ، دھماکہ خیز مواد موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا جس میں بڑی مقدار میں نٹ بولٹ اور بال بیئرنگ برآمد ہوئے ۔ دریں اثنا پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ( پی ایم اے ) بلوچستان نے عوامی اپیل پر دھماکے کے فوراً بعد سول اسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال میں ایمرجنسی سروسز بحال کردی اور وہاں زخمیوں اور دیگر افراد کو طبی سہولیات کی فراہمی شروع کردی ۔ کوئٹہ دھماکے میں نائیک اعتبار ،سپاہی شہباز ،سپاہی ممتاز دو سویلین خورشیدبیگم ،میر محمد جاں بحق جبکہ آرمی کے لائیک رشید ،سپاہی ارسلان ،سپاہی شاہد ،میجر (ر) نجم ،سپاہی عاصم رضااور سویلین میں شیر محمد ،نذیر ،ندا ،اسماعیل ،نثار ،ظہور ،نعمت ،مجید ،حاسس ،نور شاہ ،ناصر ،اختیار،جنید ،ولی محمد ،ہارون ،جمیل ،علاؤ الدین ،نازش ،علی عامر ،علی ،عمر ،ملک انور زخمی ہوئے، وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی نےدھماکے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کے لواحقین کو 10لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کیلئے 2لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان کیا ہے، شہبازٹاؤن بم دھماکہ کی ذمہ داری بلوچ ری پبلکن آرمی نے قبول کرلی۔ صدر آصف زر داری، وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کراچی اور کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کا عزم کر چکے ہیں ،پاک فوج ، عوام اور حکومت ملکر انتہا پسندی اور دہشتگردی کی لعنت کو ختم کریں گے ۔مسلم لیگ (ن)کے صدر نواز شریف، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی، چوہدری شجاعت حسین ،ڈپٹی وزیر اعظم پرویز الٰہی سمیت سیاسی ومذہبی رہنماؤں نے دہشتگردی کے واقعات کی شدید مذمت کی، وزیر داخلہ رحمن ملک نے واقعات کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ دوسری جانب بنوں کے علاقے جانی خیل میں دہشتگردوں کی پولیس وین پر فائرنگ سے ایس ایچ او سمیت 4 اہلکار شہید ہوگئے۔ میڈیا رپورٹ کےمطابق پرائیویٹ کار میں سوار ایس ایچ او سمیت 4 پولیس اہلکار جارہے تھے کہ جانی خیل کے علاقے میں گھات لگائے موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت 4 پولیس اہلکار موقع پر جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ کے بعد علاقے کا سرچ آپریشن شروع کردیا ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ دریں اثنا پشاورکے تھانہ یکہ توت کی حدود میں ہزار خوانی چوک کے قریب پولیس نے ایک گاڑی کوتلاشی کیلئے روکا جس سے 15من بارودی مواد سمیت دیگر مختلف قسم کی تخریبی کاری میں استعمال ہونیوالی مواد برآمد ہوئی ،پولیس کادعوی ہے کہ ملزم کوبھی گرفتارکرلیاہے ،بارودی سے بھری گاڑی علاقہ غیر سے پشاورشہر میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا ۔