بھارت کا دہشت گردی ڈرامہ ہمیشہ کیلئے دفن، پانچ گنا بڑے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی: پاک فوج

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے عوام کو معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ معرکہ حق میں پاکستان نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو ہر محاذ پر عبرتناک شکست دی، بھارت ایک سال بعد بھی پہلگام کے حوالے سے ثبوت سامنے نہیں لا سکا، بھارت کا دہشت گردی ڈرامہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔

پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سینئر افسران کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ عسکری قیادت کے وژن کے مطابق اپنے سے بڑے دشمن کو شکست دی، افواج پاکستان قوم کی توقعات پر ہمیشہ پوری اتری ہیں، پاکستان کی قیادت، فوج اور عوام متحد ہیں۔

پہلگام واقعہ پر بغیر تحقیقات لمحوں میں پاکستان پر الزام لگایا گیا

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معرکہ حق میں جو کچھ ہوا پاکستان ہی نہیں ہندوستان کا بھی بچہ بچہ جانتا ہے، اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو ملٹی ڈومین وار میں شکست دی، ہم نے ایک سال پہلے بھارت کا غرور خاک میں ملادیا، پہلگام واقعہ پر بغیر تحقیقات لمحوں میں پاکستان پر الزام لگا دیا گیا، بھارت کئی دہائیوں سے یہ جھوٹا بیانیہ بنا رہا تھاکہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت پہلگام کے حوالے سے آج تک ثبوت سامنے نہیں لاسکا، پاکستان پر الزامات لگانے والے خود سب سے بڑے دہشتگرد ہیں، بھارت کا پاکستان مخالف دہشت گردی بیانیہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا، بھارت مکاری سے بیانیہ بنا کر پاکستان میں دہشت گردی کرتا ہے، افواجِ پاکستان ہر محاذ پر تیار ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ بھارت نے بیانیے کیلئے فالز فلیگ آپریشن کیے، بھارت کے سیاست دان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، خطے میں امن کیلئے سب سے زیادہ کوششیں پاکستان کر رہا ہے۔

کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، عالمی سطح پر حل طلب تنازع ہے

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل کم کرنے کے بجائے بڑھا رہا ہے، کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ حل طلب معاملہ ہے، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں، بھارت جھوٹ بولنے سے باز آئے اور سچی بات بتائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلگام واقعہ کو ایک سال گزر گیا ہے ثبوت کہاں ہیں؟ پاکستان نے جو سوالات اٹھائے تھے، وہ اب بھی جوں کے توں موجود ہیں، جواب دیں کہ کون لوگ تھے جنہوں نے یہ کروایا، بھارت بتائے کہ کس دہشت گرد کیمپ کو نشانہ بنایا؟ ہم سال پہلے بھی تیار تھے ہم آج بھی تیار ہیں، یہ جنگ فضا، زمین ، سمندر، سائبر میں بھی تھی، ہم نے ہر محاذ پر دشمن کو شکست دی۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ کے فوراً بعد چند منٹوں میں ایف آئی آر درج کر کے یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ حملہ آور باہر سے آئے تھے، حالانکہ آج تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لایا گیا، اگر بھارتی انٹیلی جنس اتنی ہی مؤثر اور باخبر تھی تو سیکڑوں کلومیٹر اندر آنے والے افراد کے بارے میں پہلے سے معلومات کیوں نہ مل سکیں، اس وقت بھارتی ادارے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے۔ 

بھارتی حملوں میں بچے، خواتین اور بزرگ نشانہ بنے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آج بھی بین الاقوامی برادری یہی سوال کر رہی ہے کہ پہلگام واقعہ کے پیچھے کون تھا اور اس کا مقصد کیا تھا، پاکستان کے عوام کے ساتھ ساتھ بھارت کے باشعور حلقے بھی ان سوالات کے جواب مانگ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا نمائندے مختلف مقامات اور مساجد تک گئے اور انہوں نے خود یہ سوال اٹھایا کہ آخر بھارتی حملوں میں کون لوگ نشانہ بنے، دنیا نے دیکھا کہ متاثرین میں بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت کی نام نہاد پیشہ ورانہ عسکری سوچ کی کئی مثالیں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے ایسے بیانات دیے گئے جو ایک پیشہ ور فوجی رویے کے بجائے سیاسی نوعیت کے دکھائی دیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی فوجی قیادت اپنے سیاسی بیانیے کو فوجی اداروں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دی، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج نے پورے عرصے کے دوران مکمل پیشہ ورانہ طرزِ عمل اختیار کیا۔

بھارت قیادت نے مسلسل جارحانہ بیانات دیئے

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج کے کسی افسر نے کبھی سیاسی قیادت کے بیانات کو بنیاد بنا کر اشتعال انگیز طرزِ گفتگو اختیار نہیں کیا، جبکہ بھارتی سیاست دانوں کے بیانات اکثر جنگی ماحول پیدا کرنے والے محسوس ہوتے تھے، بھارتی قیادت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز نعرے اور جارحانہ بیانات سامنے آتے رہے، لیکن پاکستان نے ہر موقع پر ذمہ داری، تحمل اور پیشہ ورانہ انداز اپنایا، اگر بھارت کو کسی معاملے پر اعتراض یا اختلاف ہے تو اسے اشتعال انگیز بیانات کے بجائے براہِ راست اور ذمہ دارانہ انداز میں بات کرنی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کو یہ شک تھا کہ پاکستان اندرونی طور پر متحد نہیں، تاہم حالات نے ثابت کر دیا کہ بچے سے لے کر بزرگ تک، غریب سے لے کر امیر تک، کشمیر سے گوادر تک پوری قوم ایک ہو کر کھڑی رہی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ بھارت کی پروفیشنل فوج کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا، بھارتی فوج سندور سے نکلتی کیوں نہیں ،کوئی مردانہ نام رکھ لے، ہم بھارت سے پچھلی کہانی کا کہہ ہی نہیں رہے،اگلی بات کی جائے، بھارت نے پہلے بھی پراکسز لانچ کی اور اب بھی کر رہا ہے۔

غضب للق سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی 

انہوں نے کہا کہ بھارت معصوم بچوں اور عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، ہم ملٹری کو ٹارگٹ کرتے ہیں اور فخر سے دکھاتے بھی ہیں، بھارت نے افغان طالبان کو جگہ اور سہولیات دی ہوئی ہیں، افغانستان کی سرزمین مسلسل فتنہ الہندوستان کے خوارج پاکستان پر حملوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن غضب الحق کے بعد دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی، کفار کے ساتھ معاہدہ کرنا، اسلامی ممالک پر حملہ کرنا کونسا جہاد ہے؟ یہ دائرہ اسلام سے باہر ہیں، اور جہنم ان کا ٹھکانا ہے، بھارت کے خواب میں دن رات پاکستان اور فیلڈ مارشل آتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے معرکہ حق کے دوران ہر صورتحال میں مکمل تیاری اور تحمل کا مظاہرہ کیا، جبکہ بعض بھارتی میڈیا چینلز اور دفاعی حلقوں کی جانب سے جذباتی اور غیر متوازن بیانات سامنے آتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک پیشہ ور فوج کا طرزِ عمل یہی ہوتا ہے کہ وہ حقائق اور حکمتِ عملی کے ساتھ بات کرے، نہ کہ غیر ضروری جذبات یا غیر مصدقہ دعوؤں پر انحصار کرے، پاکستان نے پورے سال کے دوران اپنی دفاعی پالیسی اور آپریشنل تیاری کو تسلسل کے ساتھ برقرار رکھا اور ہر سطح پر اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین سنجیدہ، ذمہ دار اور حقیقت پر مبنی رویہ اپنائیں، کیونکہ غیر ضروری بیانیہ نہ صرف غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

 دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے تمام ممالک ذمہ دارانہ کردار ادا کریں

انہوں نے کہا کہ مئی 2025 میں معرکہ حق کے دوران پاکستان نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی کے تحت مختلف اقدامات کیے جن کا تسلسل اکتوبر 2025 تک جاری رہا، اس دوران پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے معاون ڈھانچوں کے خلاف بھی کارروائیوں کی نشاندہی کی اور انہیں ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے بارہا یہ مؤقف اپنایا کہ ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے بیرونی روابط سے جڑے ہیں، جن میں بعض عناصر افغانستان کی سرزمین کا استعمال بھی کرتے ہیں، پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات اور رابطے کی کوشش کی اور یہ اصولی مؤقف اپنایا کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر فسیلی ٹیشن اور سرحد پار نقل و حرکت کے معاملات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور پاکستان نے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنایا، معرکہ حق کے دوران پاکستان کی کارروائیوں کے بعد خطے میں طاقت کا توازن واضح طور پر تبدیل ہوا، جس کے نتیجے میں مخالف فریق کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خطے کے تمام ممالک کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور تعاون کی بات کی ہے، جبکہ بعض عناصر کی جانب سے انتہاپسندانہ بیانیے اور متنازع روابط خطے کے استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں