سائنسدانوں نے کوئلے سے چلنے والی بیٹری بنالی

بیجنگ: (ویب ڈیسک) چینی سائنسدانوں نے توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے کوئلے سے چلنے والا ایک ایسا منفرد فیول سیل تیار کیا ہے جو ممکنہ طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو تقریباً ختم کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں تھرمل پاور پلانٹس کے ڈیزائن میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔

روایتی طریقوں میں کوئلے کو جلا کر بجلی پیدا کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں کاربن اخراج اور فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دہائی میں پیرس موسمیاتی معاہدے کے تحت دنیا بھر میں کاربن نیوٹرل توانائی کے حصول پر زور دیا جا رہا ہے، خصوصاً ترقی پذیر ممالک اس حوالے سے متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔

اس تناظر میں شینزن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے زیرو کاربن ایمیشن کول فیول سیل (ZC-DCFC) کے نام سے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے، اس نظام میں کوئلے کو جلانے کے بجائے پہلے باریک پیس کر خشک کیا جاتا ہے اور پھر مخصوص پری ٹریٹمنٹ کے بعد فیول سیل کے اینوڈ چیمبر میں ڈالا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں کیتھوڈ چیمبر میں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے، جہاں ایک آکسائیڈ ممبرین کے ذریعے الیکٹرو کیمیکل آکسیڈیشن کا عمل ہوتا ہے، اس عمل کے دوران پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو سسٹم کے اندر ہی قابو میں رکھا جاتا ہے اور اسے مزید مفید کیمیکلز، جیسے سینگاس، میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ جدید فیول سیل تقریباً 40 فیصد تک افادیت کے ساتھ توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اسے روایتی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور ماحول دوست بناتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنایا گیا تو یہ نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی لا سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں