خاتون 3 ماہ تک کوما میں رہنے کے بعد شادی سے 2 دن قبل ہوش میں آگئیں

بیجنگ: (ویب ڈیسک) مشرقی چین میں شادی کی تیاریاں ایک خاتون کے لیے خوفناک خواب میں بدل گئیں جب معمولی نزلہ زکام کے علاج کے دوران لگائے گئے انجیکشن نے انہیں کوما میں پہنچا دیا۔

24 سالہ وانگ رانرن، جو صوبہ شانگ ڈونگ سے تعلق رکھتی ہیں، کی شادی 25 اپریل کو طے تھی، جنوری میں گلے میں تکلیف کے باعث انہوں نے اسے عام موسمی بیماری سمجھتے ہوئے قریبی کلینک سے رجوع کیا۔

رپورٹس کے مطابق کلینک میں موجود دو افراد میں سے ایک نے مختصر معائنے کے بعد دوا تجویز کی اور انہیں انجیکشن لگا دیا، وانگ کے منگیتر زینگ کا کہنا ہے کہ انجیکشن لگانے سے قبل نہ تو کسی قسم کی الرجی کے بارے میں سوال کیا گیا اور نہ ہی کوئی ٹیسٹ کیا گیا۔

انجیکشن کے چند ہی منٹ بعد وانگ کی حالت بگڑنے لگی، انہیں زبان سن ہونے، الٹی اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوا، حالت تشویشناک ہونے پر ایمبولینس طلب کی گئی، تاہم ہسپتال پہنچنے تک ان کی طبیعت مزید خراب ہوچکی تھی۔

ڈاکٹروں کے مطابق وانگ کو ممکنہ طور پر شدید الرجک ردعمل کا سامنا ہوا جس کے باعث سانس کا نظام متاثر ہوا، علاج کے دوران تقریباً چار منٹ تک دماغ کو آکسیجن نہ ملنے سے انہیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور وہ کوما میں چلی گئیں۔

واقعے کے بعد زینگ نے کلینک کے خلاف شکایت درج کروائی، تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ انجیکشن لگانے والی خاتون درحقیقت مستند ڈاکٹر نہیں تھی۔

وانگ 92 دن تک کوما میں رہیں اور بالآخر 23 اپریل کو، اپنی شادی سے دو دن قبل، ہوش میں آئیں، ہوش میں آنے کے بعد انہوں نے اپنے منگیتر کو پہچانا اور مسکرائیں، تاہم وہ اب بھی بولنے سے قاصر تھیں۔

اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ ہرجانے اور قانونی کارروائی سے متعلق فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں