اسرائیلی فوج کا لبنان میں بوفرٹ قلعہ پر قبضہ، 9 شامی پناہ گزین شہید

بیروت، تل ابیب: (دنیا نیوز) اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں یک سٹریٹجک پہاڑ پر واقع بوفرٹ قلعہ پر قبضہ کر لیا ہے، بمباری میں شامی پناہ گزین خاندان کے 9 افراد شہید ہو گئے۔

یہ قلعہ صلیبی دور میں تعمیر کیا گیا تھا، اسرائیلی فوج کی یہ پیش قدمی 25 برسوں میں لبنان کے اندر سب سے گہری کارروائی ہے۔

یہ قبضہ نبطیہ شہر کے قریب کئی دنوں کی شدید لڑائی اور فضائی حملوں کے بعد ہوا، جہاں اسرائیلی فوجیوں نے دشوار گزار علاقے میں حزب اللہ کے جنگجوؤں سے مقابلہ کیا۔

17 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا، اسرائیل کی تازہ پیش قدمی اس وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات جاری ہیں اور اگلا دور 2 اور 3 جون کو امریکی محکمہ خارجہ میں طے ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر جاری کی جس میں فوجی قلعے کے باہر چلتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز نے لکھا کہ قلعے پر اسرائیلی پرچم لہرایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اس قلعے پر پہلی بار 1982 میں قبضہ کیا تھا اور 2000 میں لبنان سے انخلا تک اسے اپنے کنٹرول میں رکھا تھا۔

لبنان کے وزیرِاعظم نواف سلام نے اسرائیل کی تازہ فضائی کارروائیوں کے بعد جنوبی لبنان میں جاری مہم کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے زمین کو جلا دینے کی پالیسی قرار دیا ہے۔

ادھر اسرائیلی فوجی ترجمان نے بتایا کہ جنوبی لبنان میں بڑی زمینی کارروائی شروع کردی، اسرائیلی فوج نے دریائے لیطانی کوعبور کرلیا، کارروائیوں کا دائرہ کار مزید علاقوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔

لبنان میں ڈرون حملہ میں ایک اسرائیلی بٹالین کمانڈر اور سپاہی شدید زخمی ہو گیا، دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرون جنوبی لبنان میں گر کرپھٹ گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں