ایوان صدر وزیراعظم ہاوس رجسٹرار سپریم کورٹ , دیکھتا ہوں , کون حسابات نہیں کرتا , چیئرمین پی اے سی
تینوں اداروں کو نوٹس جاری، آخری موقع ہے پھر ریفرنس پارلیمنٹ کو بھیج دینگے :ندیم افضل ‘ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے اربوں روپے سرکاری اکاؤنٹس میں نہیں رکھے جاتے :آڈیٹر جنرل ، کمیٹی کا رقوم جمع کرانے کا حکم ہتھیاروں کی خریداری میں بے قاعدگیاں کی گئیں:آڈٹ حکام ،مانتا ہوں گڑ بڑ ہوئی :شاہد اقبال، وزارت کو اپنی تمام این جی اوز رجسٹرڈ کرانے کی ہدایت ،ا یف ڈبلیو او، نادرا، این پی ٹی سے وضاحت طلب
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، بی بی سی اردو، ایجنسیاں)پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ایک بار پھر سپریم کورٹ،ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کو مالی حسابات کی جانچ پڑتال اور آڈٹ اعتراضات کا جواب دینے کے لئے نوٹس جاری کر دیئے جبکہ آڈیٹر جنرل پاکستان نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں اربوں روپے کے خفیہ اکاؤنٹس کا انکشاف کیا ہے جن کے بارے میں حکومت بھی لاعلم ہے ۔ گزشتہ روز پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ندیم افضل چن کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ چیئرمین کمیٹی ندیم افضل چن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار، ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس تینوں بڑے اداروں کو خط لکھا جائے کہ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں کمیٹی کے سامنے پیش ہوں اور اپنے آڈٹ اعتراضات کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ دیکھتے ہیں کہ تینوں بڑے اداروں میں سے کون کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ آخری موقع ہے ، اس کے بعد آڈٹ نہ کرانے والوں کیخلاف ریفرنس پارلیمنٹ میں بھیج دیں گے ۔ اجلاس میں آڈیٹر جنرل بلند اختر رانا نے انکشاف کیا کہ ہے کہ فوج کے لیے اسلحہ اور گاڑیاں تیار کرنے والی فیکٹری ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں اربوں روپے کے ایسے خفیہ اکاؤنٹس ہیں جن کے بارے میں حکومت ابھی تک لاعلم ہے ۔ تاہم اس اداروں کے ذمے داروں نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ وزارت قانون کی ہدایت کی روشنی میں وہ ان اداروں کا آڈٹ کروانے کے پابند نہیں ہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق آڈیٹر جنرل کے بقول وہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں بطور کنٹرولر اکاؤنٹس بھی رہے ہیں جہاں انکشاف ہوا کہ ادارے کے اربوں روپے سرکاری اکاؤنٹس میں نہیں رکھے جاتے ۔ اُنہوں نے اس ضمن میں متعلقہ حکام کو آگاہ بھی کیا تھا۔اُنھوں نے کہا کہ ان اکاؤنٹس کے بارے میں متعلقہ حکام نے کبھی بھی حکمرانوں کو ان اکاؤنٹس کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا سکینڈل بن کر ابھرے گا لہٰذا میں پہلے سے تنبیہ کر رہا ہوں۔جس پر کمیٹی نے سیکرٹری دفاعی پیداوار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) شاہد اقبال سے استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس معاملے کے بارے میں علم نہیں تاہم وہ آئندہ اجلاس میں اس بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں ۔ چیئرمین ندیم افضل چن نے سیکرٹری دفاعی پیداوار سے ان اکاؤنٹس کی تفصیلات، اس میں موجود رقم اور جن افراد کے ناموں پر یہ اکاؤنٹس تھے ، اُن کی مکمل معلومات پی اے سی کو دینے کی ہدایت کی اوردس روز میں تمام غیر سرکاری اکاؤنٹس سے رقوم نکال کر سرکاری خزانے میں جمع کر کے تحریری سرٹیفکیٹ طلب کر لیا۔آڈیٹر جنرل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ وزارت دفاعی پیداوار کے ماتحت ادارے پاکستان آرڈیننس فیکٹری ویلفیئر فنڈز اور واہ نوبل لمیٹڈ نے اپنے اکاؤنٹس کا آڈٹ کروانے سے انکار کردیا ہے ۔سیکرٹری دفاعی پیدوار نے کہا کہ ویلفیئر فنڈز 1961میں قائم کیا کیا گیا تھا۔ اس ادارے کے اکاؤنٹس کا کبھی بھی آڈٹ نہیں ہوا۔ ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تمام ادارے اپنے اپنے اکاؤنٹس کا آڈٹ کروانے کے پابند ہیں۔ جو ادارے اپنے اکاؤنٹس کا آڈٹ نہیں کروائیں گے اُن کے خلاف پارلیمنٹ کو ریفرنس بھیجیں گے ۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ان تینوں اداروں کے اکاؤنٹس کا آڈٹ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔آڈٹ حکام نے مزید بتایا کہ افواج پاکستان کے لیے 5 لاکھ ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی خریداری کی گئی جس میں قواعد وضوابط پر عمل نہیں کیا گیا۔ یاسمین رحمان نے بتایا کہ تمام پیراز میں بے قاعدگیاں ہیں، کسی پر ذمے داری عائد نہیں کی گئی، جس پر سیکرٹری دفاعی پیداوار شاہد اقبال نے کہا کہ مانتا ہوں گڑ بڑ ہوئی ہے ، جان بوجھ کر لاپرواہی کی گئی ہے تو سزا ملنی چاہیے ۔ کمیٹی نے اس آڈٹ اعتراض کو ایڈجسٹ کرنے سے انکار کر دیا۔ چیئرمین ندیم افضل چن نے ویلفیئر ٹرسٹ کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھا دیا۔اجلاس میں وزارت دفاعی پیداوارکوغیرسیلز ٹیکس رجسٹرڈ کمپنیوں سے خام مال اوردوسری اشیاء خریدنے پر رولز کی خلاف ورزی کرنے پر سوال اٹھایا گیا ۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کامرہ میں فوج کی اراضی کو ایک ا ین جی اوز کے حوالے کرنے کو بھی خلاف ضابطہ قرار دیا ہے اور کہا کہ ان این جی اوز کی رجسٹریشن ضروری ہے ۔ کمیٹی نے وزارت دفاعی پیداوار کو اپنی تمام این جی اوز کو رجسٹرڈ کرانے کی ہدایت کی ہے ۔کمیٹی نے آڈٹ نہ کرانے والے مزید تین اداروں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن،نادرا،نیشنل پریس ٹرسٹ کو بھی دسمبر کے دوسرے ہفتے میں کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنے موقف کی وضاحت کرنے کی ہدایت کردی ۔ورچوئل یونیورسٹی لاہور اور پاکستان غربت مکاؤ فنڈ آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے اپنے اکاؤنٹس کا آڈٹ کرانے پر رضا مند ہوگئے ۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے تمام وزارتوں سے ان فیکٹریوں کے بارے میں تفصیلات طلب کر لی جو کہ فیکٹری کے ساتھ ساتھ کسی ذیلی ادارے کے چیئرمین کا عہدہ بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ کمیٹی نے ملک میں کاروں کی درآمد پر پابندی کے معاملے پر بریفنگ کے لئے سیکریٹری انڈسٹریز ، سیکریٹری کامرس اور چیئرمین ایف بی آر کو آئندہ ہفتے طلب کر لیا۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان نیوی ، ائیر فورس اور آرمی کے افسران نے غیر ملک تعیناتی کے دوران ہزاروں ڈالرز کی بے قاعدگیاں کیں جس پر سیکرٹری دفاعی پیداوار نے کہا کہ زیادہ تر وصولی کی جا چکی ہے جبکہ باقی ماندہ رقم بھی جلد ہی وصول کر لی جائے گی جس پر کمیٹی نے ایک مہینے میں وصولی مکمل کر کے معاملے کو ختم کرنے کے احکامات جاری کیے -