بھارت کے 18قونصل خانے پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں: ضیا لانگو

کوئٹہ: (دنیا نیوز) وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے کہا ہے کہ بھارت کے 18قونصل خانے پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے جو پاکستان کے امن کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، بھارت کے 18قونصل خانے پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں، فورسز، انٹیلی جنس، پولیس اور عوام کی ہزاروں شہادتیں ہوئیں، فورسز اور انٹیلی جنس اداروں نے ہمیشہ ملکی مفاد میں کام کیا۔

وزیر داخلہ بلوچستان کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے سازشوں کا ذریعہ بنا، بھارت اپنی خفت نہیں مٹا پا رہا اور مئی 2025 کی شکست بھلا نہیں سکا۔

ضیا لانگو نے کہا کہ افغانستان سے جنگ نہیں چاہتے، خواہش ہے پرامن اور تعلیم یافتہ افغانستان کے پاکستان پر بھی مثبت اثرات ہوں گے،افغان عوام اپنی حکومت پر جنگ ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈالیں۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری حمزہ شفقات
ایڈیشنل چیف سیکرٹری حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں، حبیب اللہ کا بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی کمانڈر ہے، دہشتگرد حبیب اللہ لالو کے نام سے کارروائیاں کر چکا ہے۔

حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ دہشتگرد پہلے بھی گرفتار ہو چکا، 2 ایف سی اہلکاروں کی شہادت میں ملوث رہا ہے، مزید 3 افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا، ملزم حبیب اللہ نے کابل سے دہشتگردی کی تربیت حاصل کی، ملزم حبیب اللہ جعلی تذکرے پر پاکستان میں داخل ہوا۔

اُنہوں نے کہا کہ ملزم نے کراچی میں رشتہ داروں کی مدد سے شناختی کارڈ بنوایا، ملزم دہشتگردی کے ساتھ منشیات فروشی میں بھی ملوث ہے، اب تک 9لاکھ 60ہزار افغان باشندوں کو واپس بھیجا گیا، قلعہ عبداللہ میں 700عسکری گارڈ گرفتار ہیں۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ عسکری گارڈ پوست کی کاشت کی حفاظت کر رہے تھے، زمینی اور ڈرون آپریشن میں بڑی مقدار میں پوست تلف کی گئی، دیکھ رہے ہیں اس نے پاکستان سے شناختی کارڈ کیسے لیا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے کہا کہ کوئٹہ میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں بھی افغان ملوث ہیں، نام نہاد دہشتگرد تنظیموں کے رہنما پہلے ہی افغانستان میں موجود ہیں، نادرا ریکارڈ چیک کیا جارہا ہے کہ جعلی شناختی کارڈ کیسے بنے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ غیرقانونی افغانیوں کے پاس شناختی کارڈ کے فنگر پرنٹس ملے ہیں، جعلی شناختی کارڈ کے اجرا سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں