مطیع الرحمن نظامی کوسنائی جانیوالی سزائے موت کیخلاف جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج

 مطیع الرحمن نظامی کوسنائی جانیوالی سزائے موت کیخلاف جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج

کراچی، لاہور، فیصل آباد، پشاور اور ملتان میں ریلیاں، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر کی سزا ختم کرنے، حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ

بھٹو مجیب معاہدہ اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے، فوج محسنوں کیلئے آواز اٹھائے، نظریہ نہ ہو تو جغرافیہ نہیں رہتا، نعیم الرحمن ، حافظ ادریس و دیگر کراچی ،لاہور، پشاور (اسٹاف رپورٹر ، نمائندگان دنیا ) جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مطیع الرحمن کو 1971 میں پاکستان کا ساتھ دینے کی پاداش سنائی جانے والی سزائے موت کے خلاف جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام جمعہ کو ملک گیر مظاہرے ہوئے۔ کراچی، لاہور، پشاور اور دیگر بڑے شہروں سے ریلیاں نکالی گئیں۔ کراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے مسجد بیت المکرم کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں عوام نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور بنگلہ دیشی عدالت کے ظالمانہ فیصلے کے خلا ف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مولانا مطیع الرحمن نظامی کو سنائی جانے والی سزائے موت کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین سے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، نائب امیر اسامہ رضی، ضلع شرقی کے امیر یونس بارائی اور اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم حافظ محمد بلال نے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مطیع الرحمن نظامی کو جعلی مقدمے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی سے وابستہ افراد نے دو قومی نظریے کے لیے قربانی دی۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے ملکی سا لمیت کے لیے قربانی دی۔ جو حکمران مکتی باہنی والوں کی قبروں پر پھول چڑھائیں ان سے خیر کوئی توقع نہیں۔ دفتر خارجہ کا یہ کہنا انتہائی شرمناک ہےکہ یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماؤں پر مقدمہ اس لیے چل رہا ہے کہ انہوں نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا۔ فوج اور آئی ایس آئی اس مسئلے پر خاموش کیوں ہیں؟ یہ معاملہ صرف جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ ملکی سا لمیت کا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی ملکی سا لمیت کے لیے لڑنے والوں پر غداری کا مقدمہ نہیں چلایا جاتا۔ اس کھلی درندگی پر ہم بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کریں گے۔ یونس بارائی نے کہا کہ بنگلہ دیش کی حکومت بھارت کی خوشنودی کے لیے اسلام پسندوں کو پھانسی کی سزا دے رہی ہے۔ حافظ محمد بلال نے کہا کہ مطیع الرحمن کے خلاف یک طرفہ کارروائی پر عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ لاہور میں نماز جمعہ کے بعد ملتان روڈ پر ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا جس کے شرکا سے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امرا حافظ محمد ادریس، اسداللہ بھٹو، ڈپٹی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، جمعیت اتحاد العلماپاکستان کے سربراہ مولانا عبدالمالک، نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب اظہر اقبال حسن، امیر جماعت اسلامی لاہور میاں مقصود احمد، عبدالحفیظ احمد، ذکر اللہ مجاہد اور عبدالعزیز عابد سے خطاب کیا۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ 1971 کی جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو اقوام متحدہ کے سامنے پیش کریں جسے امریکا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے تسلیم کیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پایا تھا کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد دونوں ممالک تمام قیدیوں کو رہا کردیں گے اور کسی کو جنگی جرائم کی سزا دی جائے گی نہ آئندہ مجرم ٹھہرایا جائے گا۔ حافظ محمد ادریس نے کہا کہ بھارتی فوج کے مقابلے میں پروفیسر غلام اعظم، مولانا مطیع الرحمن نظامی، عبدالقادر ملا اور دیگر قائدین نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا۔ اب فوج کا فرض ہے کہ اپنے محسنوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ڈاکٹر فرید پراچہ نے کہا کہ شیخ حسینہ واجد کا انجام ان کے والد کے انجام سے بھی برا ہوگا۔ اگر حکومت پاکستان نے خاموشی نہ توڑی تو عوام اسے بھی بھارتی سازشوں کا حصہ دار سمجھنے پر مجبور ہوں گے۔ میاں مقصود نے کہا کہ حکومت اور فوج کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قومی نظریات پر زندہ رہتی ہیں۔ نظریہ نہیں ہوگا تو جغرافیہ بھی نہیں ہوگا۔ پشاور میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے احتجاج کے دوران اشرف روڈ کو بلاک کردیا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ مقررین نے حکومت پر زور دیا کہ بنگلہ دیش کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں