مشرف کو باہر جانے کی اجازت حکومت کو طیارہ سازش کیس یاد آ گیا

مشرف کو باہر جانے کی اجازت  حکومت کو طیارہ سازش کیس یاد آ گیا

سابق چیف آف آرمی اسٹاف و سابق صدر پرویز مشرف کے لیے بعض فضائی سفر بڑی خبر بنتے رہے ہیں

کراچی (تجزیہ: عابد حسین) سابق چیف آف آرمی اسٹاف و سابق صدر پرویز مشرف کے لیے بعض فضائی سفر بڑی خبر بنتے رہے ہیں۔ ایک وقت وہ تھا کہ جب 12اکتوبر 1999کو ان کا طیارہ زمین پر اترنا چاہتا تھا اور مبینہ طور پر اترنے نہیں دیا جا رہا تھا اور ایک آج کا دن ہے کہ جب وہ اُڑان کے لیے بے چین ہیں تو انہیں روکنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ تقریباً 17 سال قبل 12 اکتوبر 1999کو اس وقت کی نواز شریف حکومت نے آرمی چیف کے طیارے کو مبینہ طور پر اترنے کی اجازت دینے سے منع کردیا تھا، جسے بعد میں طیارہ سازش کیس قرار دیا گیا۔ آج 17 سال بعد ایک بار پھر نواز شریف کی حکومت میں جب وہ فضائی سفر کر کے ملک سے باہر علاج کی غرض سے جانا چاہتے تھے تو انہیں اُڑان کی اجازت نہیں مل رہی تھی، تاہم جلد ہی حکومت کو طیارہ سازش کیس یاد آگیا اور اس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے24 گھنٹے بعد فیصلے کی پاسداری کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس کے ذریعے فضائی سفر کی اجازت دیدی۔ سابق آرمی چیف پرویز مشرف نے ان 17 برسوں میں یوں تو بے شمار فضائی سفر کیے ہونگے ، لیکن یہ دو سفر تاریخ میں یادگار سفر کہلائیں گے ۔ سیاسی حلقے کہتے ہیں کہ اعلیٰ ترین عہدے پر کئی سال تک براجمان رہنے والے سابق صدر کو نواز حکومت نے ’’ٹف ٹائم‘‘ دینے کی کوشش کی تھی اور یہ باور بھی کرانے کی کوشش کی کہ اگر اقتدار سے محروم کر کے انہیں سعودی عرب بھیجا جاسکتا ہے تو وہ بھی اپنے دوسرے اقتدار میں کچھ نہ کچھ اختیار تو رکھتے ہیں۔ 17جولائی 2009 میں اسی سپریم کورٹ نے نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں بری کرتے ہوئے ان کو ملنے والی تمام سزاؤں کو کالعدم قرار دیدیا تھا اور پانچ رکنی بنچ نے نواز شریف کی طرف سے دائر کی جانے نظر ثانی کی درخواستوں پر اپنا متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ استغاثہ کوئی ٹھوس شواہد نہیں پیش کر سکا ہے ۔ یہ تاریخی فیصلہ پچپن صفحات پر مشتمل تھا، جس میں کہا گیا کہ میاں نواز شریف پر دہشتگردی کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔ فیصلے کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش قانون کے مطابق نہیں ہوئی اور وعدہ معاف گواہ قانون پر پورے نہیں اُترتے ۔ طیارہ سازش کیس میں میاں نواز شریف کے علاوہ میاں شہباز شریف، سید غوث علی شاہ، احتساب بیورو کے سابق چیئرمین سیف الرحمن، اُس وقت میاں نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی، سابق آئی جی سندھ رانا مقبول اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل امین اللہ چوہدری بھی ملزم تھے ، تاہم کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کے بعد میاں نواز شریف کے سوا تمام افراد کو بری کردیا تھا ، جبکہ امین اللہ چوہدری اس مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے ۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف پر الزام تھا کہ انہوں نے 12 اکتوبر 1999 کو چیف آف آرمی اسٹاف کے طیارے کا رخ موڑنے کا حکم دیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں