مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ، نیا نقشہ جاری ، کابینہ نے منظوری دیدی ، اقوام متحدہ میں بھی پیش کیا جائیگا: وزیراعظم ، کشمیری اور پاکستان کی پوری سیاسی قیادت نے نقشے کی توثیق کردی: وزیر خارجہ

مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ، نیا نقشہ جاری ، کابینہ نے منظوری دیدی ، اقوام متحدہ میں بھی پیش کیا جائیگا: وزیراعظم ، کشمیری اور پاکستان کی پوری سیاسی قیادت نے نقشے کی توثیق کردی: وزیر خارجہ

بھارتی غاصبانہ اقدام کیخلاف آج یوم استحصال ، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے شہر شہر ریلیاں نکلیں گی ، 10 بجے 1 منٹ کی خاموشی کشمیرپاکستان کا حصہ بنے گا، یہ نقشہ پہلا قدم ، چاہتے ہیں کشمیریوں کو جلد ان کی منزل ملے ،اقوام متحدہ کو بار بار حق خود ارادیت کا وعدہ یاد دلائیں گے ، فوجی نہیں سیاسی جدوجہد کریں گے ،عمران خان پاکستانی سرحد سر کریک کے مغربی کنارے تک ہونیکا بھارتی دعویٰ مسترد ،سیاچن ہمارا ہے ،شاہ محمود ، وزارت خارجہ میں کشمیر پر اے پی سی ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی خصوصی شرکت

اسلام آباد (وقائع نگار،اے پی پی،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)پاکستان نے ملک کا نیا نقشہ جاری کر دیا، جس میں مقبوضہ کشمیرکو پاکستان کا حصہ بنا دیا گیا ہے ۔ وفاقی کابینہ نے پاکستان کے نئے نقشے اور کشمیر ہائی وے کا نام تبدیل کر کے سری نگر ہائی وے رکھنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا نیا نقشہ اقوام متحدہ میں بھی پیش کیا جائے گا، کشمیرپاکستان کا حصہ بنے گا، نیا سیاسی نقشہ منزل کی طرف پہلا قدم، چاہتے ہیں کشمیریوں کو جلد ان کی منزل ملے ،اقوام متحدہ کو بار بار حق خود ارادیت کا وعدہ یاد دلائیں گے ، جس کو پورا نہیں کیا گیا۔ مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سیاسی جدوجہد کریں گے ، فوجی جدوجہد کو نہیں مانتے ۔ کشمیر ی پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں، جب تک زندہ ہوں ہرفورم پر آواز اٹھاؤں گا، جب کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کشمیری اور پاکستان کی پوری سیاسی قیادت نے نئے نقشے کی توثیق کر دی ہے ۔ پاکستان کے نئے سرکاری نقشے کی تقریب رونمائی منگل کو ہوئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا یہ تاریخ کا اہم ترین دن ہے ،نیا نقشہ قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے ،ہم چاہتے ہیں کشمیریوں کو جلد ان کی منزل ملے ،کشمیر کا مسئلہ دنیا کے ہر فورم پر اٹھائیں گے ،منزل تک پہنچنے سے پہلے اس کا تصور ذہن میں لانا لازمی ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا یہ نقشہ پہلا قدم ہے ، بھارت نے 5 اگست کا جو اقدام اٹھایا یہ اس کی نفی ہے ۔ انہوں نے کہا میں پھر سے واضح کر دوں کہ کشمیر کا صرف ایک حل ہے ، وہ حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں ہے ، جس میں کشمیر کے لوگوں کو حق ہے کہ ووٹ کے ذریعے فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگ پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں،مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی منزل تک ضرور پہنچیں گے ، جب تک زندہ ہوں کشمیر کا مسئلہ دنیا کے ہر فورم پر اٹھائیں گے ، سارے پاکستانی بھی جدوجہد کریں، جس طرح کشمیر کے لوگ اپنی آزادی کے لیے قربانی دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا نقشے میں لائن آف کنٹرول کو واضح طور پر ظاہر کیا گیا ہے ،کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا ،پاکستان کے تمام سیاست دانوں نے نئے نقشے کی تائید کی۔وزیر اعظم نے کہا نقشہ پاکستانی قوم کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے ، یہی اب سکولوں، کالجوں اور عالمی سطح پر پاکستان کا نقشہ ہو گا۔ عمران خان نے کہا کشمیریوں کو عالمی برادری کی طرف سے دیا گیا حق خودارادیت اب تک نہیں دیا گیا۔ بھارت نے 5 اگست 2019 ء کو ظلم کیا اور کشمیریوں کا قانونی حق ختم کیا، بھارت چاہتا ہے کہ کشمیری اپنے ہی علاقوں میں اقلیت بن کر رہ جائیں۔وزیراعظم نے کہا میں بہت خوش ہوں کیوں کہ بچپن سے کشمیریوں کی آزادی کا سنتے آ رہے ہیں، لوگوں نے اُمید لگائی ہوئی ہے کہ ان کو کب انصاف اور حق ملے گا اور کشمیر کب پاکستان کے پاس آئے گا۔ میرا زندگی کا تجربہ ہے کہ اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے خواب دیکھنا چاہیے ، بچپن میں کرکٹر بننا چاہا اور پھر بن کر دکھایا،اسی طرح شوکت خانم کا بھی خواب دیکھا۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو ہم یاد کرواتے رہیں گے کہ آپ نے جو وعدہ کیا وہ پورا کریں۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا نیا نقشہ پیش کرنے کا اعزاز وزیراعظم عمران خان کو جاتا ہے ،بھارت نے پانچ اگست کے غیر قانونی اقدام کے بعد نقشہ پیش کیا تھا لیکن پاکستان نے بھارتی عزائم کو مسترد کر دیا ،آج کے بعد نیا نقشہ ملک بھر میں استعمال ہو گا،پاکستان نے پوری دنیا کو بتا دیا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا پوری قوم کو پاکستان کا نیا نقشہ مبارک ہو، پہلی بار وہ نقشہ منظور ہوا جو پوری قوم کی نمائندگی کرتا ہے ۔انہوں نے کہا سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل نکلے گا، یہ نقشہ اس حل کی عکاسی کرتا ہے ۔ اس میں واضح کر دیا گیا ہے کہ سیاچن کل بھی ہمارا تھا اور آج بھی ہمارا ہے ۔شاہ محمود نے کہا سر کریک کا جو دعویٰ بھارت کرتا تھا نئے نقشے میں اسے مسترد کردیا ہے ، بھارت بڑی چالاکی سے پاکستان کا معاشی زون ہڑپ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔نئے نقشے میں پاکستانی بین الاقوامی سرحد سر کریک کے مشرقی کنارے پر دکھائی گئی ہے ۔ بھارت کا موقف ہے پاکستان کی سرحد سر کریک کے مغربی کنارے تک ہے ۔ انہوں نے کہا اب فاٹا خیبر پختونخوا کا علاقہ بن چکا ہے اور افغان سرحد بھی واضح کر دی گئی ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے نئے سیاسی نقشے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا اس میں گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو پاکستان کے نقشے کا حصہ دکھایا گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا اس نقشے سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل سکیورٹی کونسل کی سفارشات کی روشنی ہی میں ممکن ہے اور دوسرا یہ کہ سیاچن ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا ۔ ان کی طرف سے نئے سیاسی نقشے کی جو تصویر دکھائی گئی اس میں سر کریک اور انڈیا کی ریاست گجرات کے علاقے جوناگڑھ اور مناوادر کو بھی دکھایا گیا ہے ۔سر کریک کے حوالے سے وزیر خارجہ کا کہنا تھا پاکستان نے انڈیا کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ مغربی حصے کی جانب بڑھ رہا ہے ، ہم نے واضح کر دیا ہے کہ ہماری سرحد مشرق کی طرف ہے ۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا پوری قوم پاکستان کے اس سیاسی نقشے کی حمایت میں ہے ۔ سیاسی اور کشمیری قیادت کو بھی اس نقشے کے حوالے سے اعتماد میں لیا گیا، پاکستانی قوم کل بھی کشمیر کے ساتھ تھی اور آج بھی کشمیر کے ساتھ ہے ۔وزیرخارجہ نے کہا ہماری منزل وہ خواب ہے جو ہمارے بزرگوں نے دیکھا، ہمارے بزرگوں کے خواب کو وزیراعظم نے اس نقشے میں پرو دیا ہے ۔ان کا کہنا تھا اس نقشے نے جو دوسری چیز واضح کی ہے وہ پاکستان کے مؤقف کی مزید وضاحت ہے ۔ نقشے میں پہلے ایک لکیر ہوتی تھی اورتاثر دیا جاتا تھا کہ جو جموں و کشمیر ہے اس میں ابہام ہے ۔وزیرخارجہ نے کہا ہم نے بین الاقوامی سرحد کو واضح کردیا ہے اور یہ واضح تفریق ہے کہ یہ علاقہ حل طلب ہے اور ہندوستان کے ہماچل پردیش علاقے کا حصہ ہے ، اس کی نشاندہی کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا نقشے میں سرخ رنگ کی ایک اور لکیر کھینچی گئی ہے جو فوجی حد بندی ہے اور یہ اس سے قبل پہلے ہی ختم ہوجاتی تھی لیکن اب اس کو چین کے ساتھ سرحد سے ملا دیا گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا ہم بھارت کے موقف اور غیر قانونی اقدامات کو چیلنج کررہے ہیں، ہم اس علاقے میں اپنے حق کا دعویٰ کر رہے ہیں، ہمارے دو طرفہ مذاکرات میں سرکریک کا مسئلہ زیربحث آتا رہا ہے ۔ نقشے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا سرکریک میں ہندوستان جو دعویٰ کرتا تھا، ہم نے اس نقشے میں اس کی نفی کر دی ہے ۔انہوں نے بتایا لیہہ، لداخ اور کچھ دیگر ریاستوں کو اس لیے شامل نہیں کیا گیا کہ جب کشمیر کا فیصلہ ہو گا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تو اُس وقت کی خود مختار ریاستیں اپنے فیصلے کریں گی۔ ان کا کہنا تھا ہم نے نقشے میں جو دکھایا ہے اس پر کوئی ابہام پیدا کرنے کی کوشش بھی نہیں کرسکتا ، پاکستانی قوم اس سیاسی نقشے پر متفق ہے ۔شاہ محمود قریشی نے کہا وزیراعظم نے پوری کابینہ کو اعتماد میں لیا اور کابینہ نے اس نقشے کی توثیق کی، کشمیر کی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور کشمیر کی قیادت نے اس نقشے کی مکمل توثیق کی۔ان کا کہنا تھا اس سے بڑھ کر پاکستان کی پوری سیاسی قیادت کو دفتر خارجہ میں اعتماد میں لیا گیا اور انہوں نے پاکستان کے تاریخی موقف کی تائید کی ہے ۔ وزیرخارجہ نے کہا وزیراعظم اورکابینہ نے شاہراہ کشمیر کو شاہراہ سری نگر سے منسوب کرنے کی منظوری دی ، ہماری منزل سری نگرہے ۔دریں اثناء وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کشمیر کی صورت حال پر وزارت خارجہ میں آل پارٹیز کانفرنس ہوئی ،جس میں حزب اختلاف، وفاقی کابینہ کے اراکین اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے خصوصی شرکت کی۔ وزیر خارجہ نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور خطے میں امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے مفصل بریفنگ دی۔شاہ محمود قریشی کا کہناتھا پاکستان نے بھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہر بین الاقوامی فورم پر بے نقاب کیا۔بھارت سرکار کی ہندتوا پالیسی نہ صرف کشمیریوں بلکہ پورے خطے کے امن و امان کے لیے خطرات کا باعث ہے ۔انہوں نے کہا پوری قوم، تمام سیاسی جماعتیں، سیاسی اور عسکری قیادت کشمیر کے معاملے پر یکساں موقف کی حامل ہیں۔پاکستان اُس وقت تک اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا جب تک انہیں ان کا جائز حق مل نہیں جاتا۔ اے پی سی میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی ،وفاقی وزرا سینیٹر شبلی فراز، فروغ نسیم، علی امین گنڈا پور، چیئر مین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی ،علی محمد خان ، معید یوسف، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، سینیٹر مشاہد حسین سید، فرخ حبیب، سینیٹر راجہ ظفر الحق، راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر، سینیٹر شیری رحمن، مشتاق احمد، مولانا عبدالاکبر چترالی، ایمل ولی خان، سینیٹر ستارہ ایاز، سینیٹر انوار الحق کاکڑ، سینیٹر مرتضیٰ جاوید عباسی، خواجہ آصف و دیگر رہنماؤں نے شرکت کی ۔وزیر خارجہ کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں 5 اگست کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا ۔ وزیر خارجہ نے اپنے دورہ ٔ لائن آف کنٹرول چری کوٹ سیکٹر اور مظفر آباد کے حوالے سے شرکا کو آگاہ کیا۔وزیر خارجہ نے کہا پوری قوم متحد ہو کر آج مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یوم استحصال منائے گی ۔ وزیر خارجہ نے کشمیر کی صورت حال پر وزارت خارجہ میں میڈیا اینکرز کو بھی بریفنگ دی ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا پاکستان نے بھارت کی ہندتوا پالیسیوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہر عالمی فورم پر بے نقاب کیا۔ آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کے خلاف یوم استحصال کشمیر آج منایاجائے گا۔ پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے گی ،نماز فجر کے بعد مساجد میں کشمیر کے مظلوموں کے لیے دعا کی جائے گی اور ملک بھر میں اجتماعات ، کانفرنسیں اور مظاہرے کیے جائیں گے ۔صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی ۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو ایک سال کا عرصہ گزر گیا، جب کہ دنیا کی خاموشی اور بے حسی افسوسناک ہے ۔ کشمیری مظلوموں کی تائید و حمایت کے لیے پوری قوم، حکومت اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہے ۔ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد،علماء و مشائخ اور عوام آج کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے ۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم عمران خان مظفرآباد میں قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے اور مظفرآباد میں ہی ریلی کی قیادت کریں گے ۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اسلام آباد میں کشمیریوں کی حمایت میں ریلی کی قیادت کریں گے ۔ شہر شہر قریہ قریہ اس اقدام کے خلاف ریلیاں نکالی جائیں گی۔ بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو نشان پاکستان دینے کا اعلان کیا جائے گا۔ صبح 10 بجے سائرن بجائے جائیں گے پھر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی اور ٹریفک کو روک دیا جائے گا۔ چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان میں گورنر اور وزیراعلیٰ کی قیادت میں کورونا ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے یکجہتی ریلیاں نکالی جائیں گی۔ یوم استحصال منانے کا مقصد دنیا کو بھارت کے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام اور اس کی آڑ میں ایک سال سے کشمیر میں جاری فوجی محاصرے اور ظلم و بربریت سے آگاہ کرنا ہے ۔ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو سیکریٹری جنرل کے نام یادداشت بھی پیش کی جائے گی۔دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں میں خصوصی تقریبات ہوں گی۔ یہ دن کشمیر کی تاریخ کا ایک اور سیاہ ترین دن ہے ، جب کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے کا غیر قانونی اور یک طرفہ اقدام اٹھایا گیا۔اپنے سٹی رپورٹر کے مطابق قائم مقام کمشنر لاہور ڈویژن و ڈی سی دانش افضال نے کہا آج کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے واک گورنر ہاؤس تا چیئرنگ کراس ہو گی ۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ پنجاب کشمیر واک کی قیادت کریں گے ۔یوم استحصال واک سے پہلے سائرن پھر پاکستان و کشمیر کے قومی ترانے بلند ہوں گے ۔ مسلم لیگ (ن) لاہور بھی آج یوم استحصال منائے گی، اس سلسلے میں شملہ پہاڑی چوک میں کیمپ لگایا جائے گا ، جس سے خواجہ سعد رفیق، سردارایاز صادق، ملک پرویز، خواجہ عمران نذیر، کشمیری رہنما اور ارکان اسمبلی خطاب کریں گے ۔ نیویارک کے ٹائمز سکوائر پر کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف اور ان سے اظہار یکجہتی کے لیے بل بورڈز آویزاں کر دئیے گئے ۔ امریکا میں تعینات پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے اپنے ٹویٹ میں ویڈیو شیئر کی، جس میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ ٹائمز سکوائر کی بلڈنگ پر بل بورڈز آویزاں ہیں۔سینیٹ کا کشمیر کے حوالے سے خصوصی اجلاس آج صبح ساڑھے 10بجے ہو گا۔ اجلاس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی شرکت اور خطاب بھی کریں گے ۔ سینیٹ میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کی جائے گی۔ اجلاس کے بعد اراکین شاہراہ دستور پر واک میں شرکت کریں گے ۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پنجاب بار کونسل نے آج صوبے بھر میں عدالتی بائیکاٹ کا اعلا ن کیا ہے ۔ یوم استحصال پر لاہور سمیت پنجاب بھر کی بار ایسوسی ایشنز ریلیاں نکالیں گی ۔کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف یوم استحصال پر لاہور میں بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی جائیں گی۔ ہرمکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں