نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- افغانستان 40 سال کی جنگ میں تباہ ہوچکاہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- افغانستان کوعالمی امدادکی ضرورت ہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- کوئی ملک امدادبغیرشرائط کےنہیں دیتا،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- امریکاکارویہ امتیازی ہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- امریکاکےآلہ کارافغانستان میں اب بھی جنگ چاہتےہیں،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- میں سمجھتاہوں ایسےلوگوں سےمفاہمت نہیں کرنی چاہیے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- پاکستان نےافغان مہاجرین کوپناہ دی،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- ماضی کی افغان حکومت میں پاکستان پرالزامات لگائےگئے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- پنج شیرکےحوالےسےبھی پاکستان پرالزام لگایاگیا،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- افغانستان سےپاکستان کےخلاف پروپیگنڈاہوتارہاہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- سی آئی اےکاچیف افغانستان آتاہےتوشورنہیں مچایاجاتا،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- پاکستانی وفدافغانستان آتاہےتودنیامیں شورمچ جاتاہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- غیرملکی طاقتوں نےافغانستان میں غیرنمائندہ حکومتیں مسلط کیں،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- سابق صدراشرف غنی پیسےلےکرملک سےفرارہوئے،گلبدین حکمت یار
Coronavirus Updates

چالان میں تاخیر فوری انصاف میں رکاوٹ، تفتیشی افسروں کے خلاف کارروائی کریں : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

چالان میں تاخیر فوری انصاف میں رکاوٹ، تفتیشی افسروں کے خلاف کارروائی کریں : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

دنیا اخبار

تاثر سامنے آتا ہے کہ علاقہ مجسٹریٹس سپروائزری کردار مناسب انداز میں ادا نہیں کررہے :چیف جسٹس امیر بھٹی ، فیئر ٹرائل اور شہادتوں کیلئے بھی خطرہ ،نامکمل تفتیش ضمانت میں رکاوٹ تصور نہیں ہوگی، متعلقہ افسروں کو مراسلہ

لاہور(کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے کہا فوجداری مقدمات کے چالان میں تاخیر فوری انصاف میں رکاوٹ ہے ، بروقت چالان جمع نہ کروانے والے تفتیشی افسروں کے خلاف کارروائی کی جائے ،کریمینل جسٹس کوآرڈینیشن کمیٹیوں کو موثر اور علاقہ مجسٹریٹس کے سپروائزری کردار کو دوبارہ متحرک کرنے کیلئے چیف جسٹس کی جانب سے متعلقہ افسران کو مراسلہ جاری کردیا گیا، چیف جسٹس نے ہدایات میں کہا فوجداری مقدمات میں چالان جمع کروانے سے متعلق ضابطہ فوجداری کی دفعہ173 میں متعین وقت اور ہدایات پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا ، ہزاروں کی تعداد میں مقدمات کے چالان مہینوں اور سالوں گزرنے کے باوجود بھی التواکا شکار ہیں، جس سے بروقت انصاف کی فراہمی تعطل کا شکار ہے ، قانون پر عمل درآمد نہ ہونے سے کریمینل جسٹس کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے ماہانہ اجلاس کے موثر ہونے پر بڑا سوال پیدا ہو گیا ہے ، فوجداری مقدمات کے چالان میں التواسے تاثر سامنے آتا ہے کہ علاقہ مجسٹریٹس اپنا سپروائزری کردار مناسب انداز میں ادا نہیں کررہے ،ضابطہ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت رپورٹس(چالان) میں تاخیر فوری و معیاری انصاف کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ اور فیئر ٹرائل ، شہادتوں کے لئے خطرہ ہے ۔ چالان اور تفتیش میں تاخیر کو ختم کیا جائے اور یقینی بنایا جائے کہ تمام فوجداری مقدمات میں چالان مقررہ مدت کے اندر جمع کروائے جائیں،متعلقہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو بھی اس معاملے کی حساسیت کا احساس دلایا جائے اور جو ایس ایچ او مقررہ مدت میں چالان جمع نہ کروائے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنایا جائے ، ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر اس امر کو یقینی بنائے کہ کسی بھی ڈپٹی ڈسٹرکٹ اور اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کے پاس کوئی چالان رپورٹ غیر ضروری التوا کا شکار نہ ہو ،نامکمل تفتیش درخواست ضمانت کے فیصلے میں رکاوٹ تصور نہ ہوگی بلکہ درخواست ضمانت کا میرٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement