عمران خان گرفتار،رینجرز نے نیب راولپنڈی منتقل کردیا:سابق وزیراعظم کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے القادر ٹرسٹ کیس میں حراست میں لیا گیا
اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے ،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو رینجرز نے القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ سے گرفتار کر کے نیب راولپنڈی منتقل کر دیا۔
عمران خان گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت دومقدمات میں عبوری ضمانت کیس میں پیشی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے جہاں سماعت سے قبل مزید تین درخواستیں دائر کرنے کیلئے ڈائری برانچ میں بائیومیٹرک کرانے کے دوران رینجرز اہلکاروں نے ڈائری برانچ میں زبردستی جاکر عمران خان کو اپنی تحویل میں لے لیا اور انہیں وہاں سے لے گئے ، اس دوران ڈائری برانچ میں توڑپھوڑ بھی ہوئی، بتایا گیا کہ بعد ازاں عمران خان کو نیب راولپنڈی کے دفتر منتقل کردیاگیا ، پولی کلینک اور پمز میں دو میڈکل بورڈ بنا ئے گئے ، پمز ہسپتال کی پانچ رکنی ٹیم نے رات گئے طبی معائنہ کیا،جس کی رپورٹ آج جاری کی جائے گی جبکہ آج ہی انہیں ریمانڈ کیلئے متعلقہ عدالت میں پیش کیاجائے گا، عمران کے وکلا کی جانب سے درخواست ضمانت دائر کیے جانے کا امکان ہے ، ایڈووکیٹ خواجہ حارث عمران خان کی نمائندگی کریں گے ، سابق وزیر اعظم کی نیب راولپنڈی منتقلی کے بعد نیب دفتر کی سکیورٹی سخت کردی گئی اور غیر متعلقہ افراد کی آمد ورفت پر مکمل پابندی عائد کردی گئی، ادھرنیب نے اپنے اعلامیہ میں کہا قومی احتساب بیورو راولپنڈی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو القادر یونیورسٹی ٹرسٹ میں بدعنوانی کرنے کے جرم میں حراست میں لیا، یہ مقدمہ القادر یونیورسٹی کیلئے زمین کے غیرقانونی حصول اور تعمیرات سے متعلق ہے جس میں نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ کے ذریعے بنیادی رقم 19کروڑ پاؤنڈز کی وصولی میں غیرقانونی فائدہ شامل ہے ، انکوائری/انویسٹی گیشن کے عمل کے دوران سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو متعدد کال اپ نوٹسز جاری کئے گئے کیونکہ دونوں القادر ٹرسٹ کے ٹرسٹیز تھے ،سابق وزیر اعظم نیب کے طلبی نوٹس کا کوئی خاطرخواہ جواب نہیں دیتے رہے ،عمران خان کے وارنٹ گرفتاری یکم مئی کو جاری ہوئے ،ان کی گرفتاری نیب آرڈیننس اور قانون کے عین مطابق کی گئی ہے ۔
اسلام آباد،راولپنڈی،لاہور،کراچی ،فیصل آباد ،گوجرانوالہ،کوئٹہ(خبر نگار، خصوصی رپورٹر، خصوصی نامہ نگار،اپنے رپورٹر سے ،ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے مظاہرے ، گھیرائو جلائو اور توڑ پھوڑ کی،جھڑپوں میں 2افراد جاں بحق ،پولیس افسر و اہلکاروں سمیت کئی زخمی ہوگئے ، مشتعل کارکنوں نے درجنوں موٹرسائیکلیں،گاڑیاں، پولیس وینز،چوکیاں نذر آتش کردیں ،سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا، احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اسلام آباد ، راولپنڈی، لاہور اورکوئٹہ سمیت دیگر بڑے شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی،پنجاب بلوچستان میں رینجرز کو طلب کرلیا گیا، وزارت داخلہ کی جانب سے اجتماعات اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ، دفعہ 144کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی، ملک بھر میں ہونے والے ہنگاموں کے بعد ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، پنجاب میں موبائل فون سروس جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ،پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں انٹرنیٹ سروس تاحکم ثانی مکمل بند کردی گئی ،علاوہ ازیں پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی انٹرنیٹ صارفین کو فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہا۔ادھر پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کا آج ہونے والا 9ویں جماعت کاپرچہ ملتوی کردیا گیا جبکہ پنجاب حکومت نے سکولز ،کالج و یونیورسٹیوں میں بھی چھٹی کا اعلان کردیا،نویں جماعت کے پرچے ترجمۃ القرآن کے نئے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائیگا،جبکہ کل ہونے والا نویں جماعت کا پیپر معمول کے مطابق ہوگا،سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی لاہور پرویز اکبر نے کہا محکمہ سکولز ایجوکیشن پنجاب نے تمام سرکاری و نجی سکولوں کو آج بند کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں، پشاور میں تعلیمی ادارے ہفتہ تک کیلئے بند کرتے ہوئے امتحانات ملتوی کردئیے گئے ۔
تفصیلات کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کی خبر آنے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے ، کارکنوں نے ڈنڈے اٹھا رکھے تھے ،اسلام آباد میں جاری احتجاج کے دوران اسلام آباد پولیس کے پانچ جوان زخمی ہوگئے ،اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی پر 43 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے ،راولپنڈی میں مری روڈ پر تحریک انصاف کے کارکنان کے احتجاج کے دوران لیاقت باغ چوک میدان جنگ بن گیا ، کارکنان کا پولیس پر پتھراؤ ، پولیس کی جانب سے شیلنگ شروع کردی گئی، پولیس کی فائرنگ سے زخمی مظاہرین کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ربڑ بلٹس کا استعمال کیا۔ نیب راولپنڈی کے میلوڈی آفس کے باہر پی ٹی آئی کے کارکنوں کے احتجاج کے دوران 10 کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا،نیب راولپنڈی کے آفس کے باہر پولیس، سپیشل برانچ اور ایف سی اہلکار تعینات تھے ، سوہان اور ترنول کے مقام پر اسلام آباد ایکسپریس وے مظاہرین نے بند کی جس کے باعث ٹریفک میں فیملیز اور ایمبولینسز پھنسی رہیں تاہم بعدازاں پولیس نے ترنول کے مقام پر جی ٹی روڈ کو آمدورفت کیلئے کھلوا دیا،53 مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لیا ، فیض آباد پل کو بھی ٹریفک کی آمدورفت کیلئے کھول دیا گیا،تھانہ سہالہ کے علاقہ سے 10 افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق رات گئے جڑواں شہروں میں گرفتاریاں 200 سے زائد ہوگئیں۔لاہور میں ڈنڈا بردار کارکنوں نے کینال روڈ کو دونوں طرف سے بند کر دیا، زمان پارک کا کنٹرول بھی پی ٹی آئی کے کارکنان نے سنبھال لیا ، ٹھنڈی سڑک اور جیل روڈ کو بھی کارکنان نے ٹریفک کیلئے بند کر دیا، مال روڈ پر بھی پی ٹی آئی نے احتجاج کیا ،کارکنوں نے اکبر چوک چاروں طرف سے ، لبرٹی گنا کارنر کی جانب حفیظ سنٹر ، شنگھائی پل فیروزپور روڈ بند کر دی جبکہ جی پی او چوک کو وکلانے بند کردیا۔
مال روڈ پر جی پی او چوک میں پولیس کی جانب سے متاثرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال بھی کیا گیا ،سینیٹر اعجاز چودھری نے کارکنان کے ہمراہ اکبر چوک، مین پیکو روڈ، ٹائون شپ، مین کینال روڈ اور فیصل ٹائون بند کر دیا،پی ٹی آئی کے کارکنان نے ٹائر جلائے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی،سڑکوں کی بندش سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا، شہر کی مین شاہراہوں کی بندش کے باعث اطراف کی سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی رہیں ،لاہور ٹریفک پولیس کے مطابق شہر کے 14 مقامات احتجاج کی وجہ سے ٹریفک کیلئے بند رہے ، بعض علاقوں میں تاجروں نے دکانیں بند کردیں، مظاہرین کے پتھرائو سے ڈی آئی جی آپریشنز ناصر رضوی، ایس پی کینٹ اویس شفیق ،ڈی ایس پی سول لائن منصور الحسن ، ایس ایچ او بادامی باغ ،ایس ایچ او غازی آباد عاطف ذوالفقار ، ایس ایچ او تھانہ سرور روڈ آسیہ ، ایس ایچ او تھانہ برکی اختر حسین ،انسپکٹر آر آئی پولیس لائن بشیر سبحانی زخمی ہوگئے ۔ماڈل ٹائون میں ن لیگ کے مرکزی سیکرٹریٹ پردھاوا بولتے ہوئے آگ لگا دی گئی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم میاں شکیل احمد نے بتایا لاہور میں موبائل سروس بند کرنے کا لکھ دیا ہے ،لاہور میں رینجرز بھی طلب کر لی گئی ہے ، حکومت عوام کی جان اور مال کا تحفظ یقینی بنائے گی،دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 کے تحت جلسے جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پرپابندی عائد کردی ،نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت پابندیوں کا مقصدصوبے میں امن برقرار رکھنا ہے ، دفعہ 144 کے تحت جلسے جلوس ،دیگر پابندیوں کا اطلاق 2دن کیلئے ہوگا۔مریدکے میں جی ٹی روڈ بلاک کردی گئی ہے ۔اوکاڑہ میں پی ٹی آئی کے تحصیل صدر عبداللہ طاہر کی قیادت میں مظاہر ہ کیا گیا ،فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے رانا ثنائاللہ کے ڈیرے کا گھیراؤ کرلیا ، کارکنوں نے رانا ثنائاللہ کے ڈیرے پر پتھراؤ کیا، پولیس کی اضافی نفری طلب کرلی گئی، پولیس اور کارکنوں میں جھڑپیں جاری رہیں ، آنسو گیس کے استعمال، شیلنگ سے متعدد کارکن زخمی ہوگئے ۔
پتھراؤ کے نتیجے میں پولیس اہلکار اور رانا ثنا اللہ کے ڈرائیور سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے جبکہ کارکنان کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے آنسوگیس کی شیلنگ بھی کی گئی،ن لیگی کارکن بھی پولیس کے ہمراہ پی ٹی آئی کے کارکنوں پر پتھراؤ کرتے رہے ،مشتعل پی ٹی آئی کے کارکنوں نے احتجاج کے دوران کئی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ فیصل آباد میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں اور تاجروں کی گھنٹہ گھر چوک پر ہاتھا پائی ہوئی، کارکنوں نے چوک گھنٹہ گھر اور اطراف کی مارکیٹیں بند کرا دیں، کارکنوں کی بڑی تعداد ڈی ٹائپ گول چوک میں جمع ہوئی اور ٹائر جلا کر سمندری روڈ بلاک کردیا،سول لائن روڈ پر بھی پی ٹی آئی کارکنوں کی بڑی تعداد احتجاج کے لیے امڈ آئی۔ اس موقع پر کارکنوں کی جانب سے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ شروع ہوا تو پولیس نے بھی مزاحمت شروع کر دی، اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں آٹھ پی ٹی آئی کارکن شدید زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے الائیڈ ہسپتال ٹو منتقل کر دیا گیا، ضلع کونسل چوک، چناب چوک، سرگودھا روڈ، اور سٹیشن چوک میں بھی پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔ جس کے باعث شہر بھر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ کارکنوں کی جانب سے پتھراؤ کے باعث سرکاری املاک کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے ، ذرائع کے مطابق احتجاج کے دوران فیصل آباد میں مجموعی طور پر فائرنگ اور پتھر لگنے سے 25 سے زائد کارکن زخمی ہوئے جبکہ سات سے زائد پولیس اہلکاروں کو بھی زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ملتان میں پی ٹی آئی کارکنان کی بہاولپور بائی پاس چوک پر توڑ پھوڑ، کارکنان نے چوک پر لگے بینرز اور پینافلکس اکھاڑ دیئے ، بائی پاس چوک پر پولیس کی بھاری نفری طلب کر لی گئی۔گوجرانوالہ میں بھی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر کارکن سراپا احتجاج ، کارکنوں نے چندہ قلعہ کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا ،چندہ قلعہ بلاک ہونے سے لاہور سے اسلام آباد جانے والا راستہ بند ہوگیا۔ کارکن گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر سوار ہوکر ریلیوں کی صور ت میں شہر کے چکر کاٹتے رہے ،احتجاجی ریلی کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے مسلم لیگ ن سٹی کے صدر سلمان خالد پومی بٹ کے جی ٹی روڈ پر واقع گھر کے باہر پتھرائو کیا گیا ،گوجرانوالہ میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق 9افراد زخمی ہوگئے ، نوشہرہ ورکاں میں پی ٹی آئی کارکنوں نے تھانہ چوک میں احتجاج کرتے ہوئے ٹائروں کو آگ لگا کر سڑکیں بلاک کردیں اورحکومت مخالف نعرے لگائے ،سیالکوٹ وزیرآباد روڈ چوک موڑ میں عظیم نوری گھمن اورصدر بارعالم بھٹی کی قیادت میں احتجاج کیاگیا،حافظ آباد میں فوارہ چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور ٹائروں کوآگ لگا کر حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی،ڈسکہ میں فوارہ چوک اور لاری اڈا پر شدید احتجاج کیا گیا اورٹائر جلا کرسڑک بندکردی گئی ،گکھڑمنڈی میں مقامی قیادت نے سڑک کے دونوں جانب ٹائر جلا کر جی ٹی روڈ بند کر دی ،وزیرآباد میں چناب ٹول پلازہ کے مقام پر جی ٹی روڈ کو بند کر دیا گیا ، منڈی بہاؤالدین میں سابق ممبران قومی وصوبائی اسمبلی نے سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ کالج چوک میں ٹائر جلاکراحتجاج کیا، ملکوال میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیاگیا،لالہ موسیٰ میں ایم این اے سید فیض الحسن شاہ کی قیادت میں جی ٹی روڈ پر ٹائر جلا کر جی ٹی روڈ کو بلاک کر دیا گیا ،پھالیہ میں سابق ایم پی اے چودھر محمد طارق تارڑ کی قیادت میں غزالی پل پر احتجاج کیاگیا، ٹائروں کو آگ لگا کر سرگودھا گجرات روڈ بلاک کر دی گئی ۔گجرات میں جی ٹی ایس چوک کو احتجاجی مظاہرین نے ٹائر جلا کر بلاک کر ڈالا، گجرات میں ظہور پیلس کے قریب بھی احتجاج کیا گیا۔
لالہ موسیٰ میں جی ٹی روڈ کو بلاک کردیا گیا۔خان پور میں بھی سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری پر جیٹھہ بھٹہ میں احتجاجی مظاہرہ کی گیا، کارکنوں نے نے مین روڈ پر ٹائر جلا کر روڈ کو بلاک کر دیا،چشتیاں میں ختم نبوت چوک میں تحریک انصاف کے کارکنوں کا احتجاجی مظاہرہ ،مظاہرین نے مین لاہور اور بہاولپور روڈ کو دونوں طرف سے بلاک کر دیا۔حجرہ شاہ مقیم میں پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنوں نے چوک حجرہ قصور دیپالپور روڈ کو بند کر دیا، مشتعل پارٹی کارکنان کی موجودہ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔چیچہ وطنی میں پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاج کے دوران چیچہ وطنی بائی پاس بند کردیا،چلاس میں پی ٹی آئی کارکنوں کا صدیق اکبر چوک پر احتجاج، ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔سندھ کے دارالحکومت کراچی کے مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی کے کارکنان نے پرتشدد احتجاجی مظاہرے کیے جس کے باعث کئی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی بری طرح معطل ہوگئی جبکہ احتجاج اور پرتشددد واقعات سے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مشتعل افراد نے پولیس وین ، ٹریفک پولیس کی چوکی ، واٹر بورڈ کی گاڑی، مشین اور ایک درجن کے قریب موٹر سائیکلوں کونذر آتش کردیا، لاٹھی چارج شیلنگ اور پتھراؤ سے شاہراہ فیصل اور بلوچ کالونی کے اطراف کے علاقے میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگے ، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت 10 پولیس افسران و اہلکار کرو زخمی ہوگئے ۔ پرانی سبزی منڈی ، بنارس اور سہرا گوٹھ الآصف اسکوائر کے قریب سپر ہائی وے پر بھی مظاہرے کئے گئے ، بلوچ کالونی کے قریب ٹریفک پولیس چوکی کو بھی نذر آتش کردیا گیا،چوکی کے باہر کھڑی 10 سے 12 موٹر سائیکلوں میں بھی ا ٓگ لگ گئی اوار تمام موٹر سائیکلیں جل کر خاکستر ہوگئیں ،مظاہرین نے پیپلز بس سروس پر بھی پتھراؤ کیے جس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا،جبکہ ،واٹر بورڈ کی سکشن مشین،اور ایک واٹر ٹینکر کو بھی آگ لگا دی ۔ مظاہرین نے ایف ٹی سی سے آگے بڑھنا شروع کیا تو پولیس کی مزید نفری بلوالی گئی اور مظاہرین کو ایف ٹی سی تک محدودو کرنے کی کوشش کرنے لگے ،مظاہرے کے ڈی ایس پی محمود آباد ، ایس ایچ کورنگی صنعتی ایریا بھی پتھر لگنے سے زخمی ہوگئے ،پولیس ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 10 پولیس افسران و اہلکار زخمی ہوئے ، پولیس کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے 16 افراد کو حراست میں لیا گیا، کراچی میں پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے صدر علی زیدی کو کالا پل کے علاقے سے حراست میں لے لیا،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شارع فیصل پر احتجاج کرنے والے 23 افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پی ٹی آئی کارکنوں کا اسمبلی چوک میں احتجاج ، پولیس کی جانب سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور گیس کی شیلنگ کا استعمال کیا گیا، متعدد کارکنان زخمی ہوگئے ، خیبر روڈ پر چاغی پہاڑ کے ماڈل کو پی ٹی آئی کارکنوں نے آگ لگا دی،حالات کشیدہ،پولیس کا مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے ۔ پشاور میں ہشت نگری چوک پر اور استور میں خلفائے راشدین چوک پراحتجاجی مظاہرہ کیا ۔کرک میں عمران خان گرفتاری کے خلاف کارکنان سراپا احتجاج شروع کردیا، مرکزی شاہرہ انڈس ہائی وئے کو 3 مقامات پر بلاک کردیا گیا، صوبائی امیدوار خورشید خٹک کی قیادت میں کارکنان تنگوڑی چوک بلاک کردی۔
صوابی میں امن چوک میں پی ٹی آئی کارکنوں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ملانے والی مین سڑک کو بند کر دیا۔سوات میں سابق ایم پی اے فضل حکیم کی قیادت میں گراسی گرائونڈ کے سامنے احتجاج کیا گیا، مینگورہ سیدو شریف روڈکو عام ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا، لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،سوات موٹر وے پر احتجاج کے دوران ٹول پلازہ کو آگ لگا دی گئی،سوات موٹروے 5گھنٹے سے زائد بند رہا،پی ٹی آئی مہمند کی ضلعی قیادت اور کارکنوں نے ہیڈکوارٹر غلنئی میں احتجاج کرتے ہوئے پشاور باجوڑ شاہراہ کو ہرقسم ٹریفک کیلئے بند کردیا،قائدین نے اعلان کیا کہ عمران خان کی رہائی تک روڈ بلاک رہے گا،پشاور میں بھی 30 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کا شدید احتجاج ہوا، پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے ، مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ پر پولیس نے مظاہرین پر شیلنگ شروع کردی،کوئٹہ میں مظاہرین نے پولیس کی دو گاڑیوں کو آگ لگا دی،کوئٹہ میں پی ٹی آئی کے مقامی ترجمان آصف ترین نے کہا کہ ہے پولیس کی فائرنگ سے ایک کارکن ہلاک ہو گیا ہے اور دس زخمی ہوئے ہیں،سول ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ‘ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ستائیس سالہ محمد عزیز کے نام سے ہوئی، پی ٹی آئی کارکنان نے صوبائی سیکریٹریٹ سے ایئر پورٹ روڈ کی طرف مارچ کیا،احتجاج کے دوران مظاہرین نے شدید نعرے بازی کی اور ایئرپورٹ روڈ پر ٹائر جلا کر شاہراہ کو ٹریفک کیلئے بند کردیا،کارکنوں نے احتجاجاً کوئٹہ ،چمن ،سید حمید کراس ،لورالائی، شیرانی، موسیٰ خیل، مسلم باغ، قلعہ عبداللہ، پشین،خضدار، لسبیلہ، زیارت، ہرنائی ،سنجاوی ، قلعہ سیف اللہ کی قومی شاہراہوں پر ٹائر جلاکر عمران خان گرفتاری کیخلاف شدید نعرے بازی کر تے ہوئے دھرنے دے دئیے جس سے شاہراہوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بلاک کر دیا گیا، وزیر داخلہ بلو چستان میر ضیاء اللہ لانگو نے قانون نافذ کر نے والے اداروں کو احکاما ت جا ری کر تے ہوئے کہا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں دفعہ144کا نافذ کر دیا گیا ہے کسی بھی صورت حالات خراب نہیں ہونے دیں گے جو بھی حالات خراب کرے گا ان سے آئینی ہاتھوں نمٹا جائے گا۔لاہور،راولپنڈی،پشاور میں حساس مقامات پر بھی توڑ پھوڑ،آتشزدگی اور دھاوا بولا گیا، لاہور میں کورکمانڈر ہائوس میں توڑ پھوڑ اور نعرے بازی کی گئی، کینٹ میں موجود پولیس وینز اور دیگر گاڑیوں کو آگ بھی لگائی گئی،لبرٹی مارکیٹ کے قریب عسکری پلازہ کو آگ لگا دی گئی،راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے قریب شرپسندوں کی جانب سے دھاوا بولا گیا، مری روڈ پر سکیورٹی چوکی کو نذر آتش کیا گیا،پشاور میں ریڈ زون کی طرف جانے کی کوشش پر پولیس نے آنسوگیس کے شیل پھینکے ۔