بھارت نے دریائے ستلج میں چوتھا ریلا چھوڑ دیا، مزید 150دیہات زیر آب
پاکپتن، وہاڑی، لاہور(سٹی رپورٹر، نمائندہ دنیا، نامہ نگار، این این آئی)بھارت نے دریائے ستلج میں چوتھا ریلا چھوڑ دیا جس سے ہیڈ اسلام اور گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ سیلاب سے مزید 150 سے زائد دیہات زیر آب آگئے۔
تفصیلات کے مطابق دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کی وجہ سے پاکپتن میں بابا فرید پل کے قریبی حفاظتی بند بھی ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہو گیا جبکہ بہاولپور میں ایمپریس برج کا بند ٹوٹ گیا جس سے 6 بستیوں میں پانی داخل ہوگیا اور فصلیں متاثر ہوگئیں ،ریلوں کے باعث مختلف علاقوں میں مزید 100دیہات زیر آب آگئے جبکہ پاکپتن، قصور، بہاولنگر، بہاولپور، لودھراں اور وہاڑی کی دریائی پٹی پر سیکڑوں دیہات پہلے ہی زیر آب ہیں ۔ ادھرستلج کے ریلے نے میلسی کے مضافات میں بھی تباہی مچادی ،ہیڈ سائیفن میلسی کے مقام پر پانی کی سطح ایک لاکھ 46 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی اور تیز ریلے حفاظتی بندوں کو توڑتے ہوئے آبادیوں میں داخل ہوگئے ،50 سے زائد دیہات زیر آب آگئے جس سے درجنوں کچے پکے مکانات زمین بوس، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں دریا برد ہو گئیں ۔ جھوک جندو،غلام سندھی،بہلی،چھتانیہ،گنیش پور،ملک پور اروتی،فتح پور سمیت دیگر علاقوں کے متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبورہیں۔ ادھرپرونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ستلج میں ہیڈ اسلام کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 35 ہزار کیوسک ، گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا بہا ؤ1 لاکھ 22 ہزار کیوسک ہے ،سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اورپانی کی آمد 1 لاکھ 2 ہزار کیوسک اور اخراج 89 ہزار کیوسک ہے۔
ترجمان کے مطابق دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے ، چناب ، راوی اور جہلم میں پانی کا بہا ؤ معمول کے مطابق ہے ، ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ستلج میں طغیانی کم ہونے لگی ہے ۔گزشتہ3 روز میں 100 سے زائد دیہات میں سیلابی صورتحال میں بہتری رپورٹ ہوئی ہے ۔ ادھر بلوچستان میں پسنی کے نواحی علاقے سردشت کلانچ میں پانی کا بدترین بحران، شادی کور ڈیم ٹو سردشت ٹینکروں کے لئے روڈ خستہ حال، کئی مہینے سے بارشیں نہ ہونے پر سردشت سمیت کلانچ کے دیگر علاقوں میں پانی کے ذخائر سوکھ گئے جس سے علاقہ مکین پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔ ادھر محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور ، مری ، اٹک، ، سیالکوٹ ،نارووال ، منڈی بہاؤالدین ، گوجرانوالہ اور فیصل آبادسمیت دیگر شہروں میں آندھی،تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے تاہم صوبے کے دیگر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ اتوار کو جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ڈی جی خان میں 64ملی میٹر بارش ہوئی، فیصل آباد 52، ملتان 45، اوکاڑہ 36، قصور 28 اور بہاولپور میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔