ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں سب کاکردار:اسحق ڈار

ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں سب کاکردار:اسحق ڈار

اسلام آباد(وقائع نگار،آئی این پی،این این آئی)سینیٹ میں ارکان نے ملکی معاشی صورت حال اور ڈالر کی قیمت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ ڈی ویلیوایشن کا مسئلہ بڑا سیریس ہے، ہم بلیم گیم میں نہیں جانا چاہتے۔

 مضبوط کرنسی ہی ملکی ترقی کا ذریعہ بنتی ہے، ہم سب کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔ ہمارے پاس زرمبادلہ بہت محدود ہے، ملک میں مافیاز ہیں جو مشکل حالات پیدا کرتے ہیں۔ ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں سب کا ہی کردار ہے۔ اسحاق ڈار کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی خواتین سینیٹر زکا نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج ،چیئرمین سینیٹ نے خواتین کو واویلا کرنے سے روک دیا اور نشستوں پر عزت کے ساتھ بیٹھنے کی ہدایت کی ۔یوم انسانیت اور سماجی کارکنان کے تحفظ کیلئے قرارداد متفقہ طورپر منظور کر لی گئی ۔ داسو اور دیامر بھاشا ڈیموں کے ملازمین کی کم از کم تنخواہ 32 ہزار روپے یقینی بنا نے اور ‘‘ چولہا پیکیج ’’کے تحت متاثرین کو معاوضہ فراہم کرنے سے متعلق قرارداد بھی منظور ہو گئی ۔وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ آئی ایم ایف سے دوسری قسط ملنے کے بعد پاکستانی کرنسی کی قدر مزید مستحکم ہو گی۔ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں۔زرقا تیمور نے کہا کہ قبر میں ہم کتنی گاڑیاں اور سونا لیکر جائیں گے؟۔

سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئر مین ملک کوڈبو کر گئے ۔سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرِ صدارت ہوا ، قائد ایوان اسحاق ڈار نے کہا کہ ماضی میں نواز شریف حکومت میں ملک اقتصادی ترقی کی سمت دوڑ رہا تھا لیکن پرویز مشرف نے شب خون مار کر ملک کو معیشت کی پٹڑی سے اُتار دیا ، اُس کے بعد پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی ڈالر اُڑان بھرنے لگا ، دوبارہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ڈالر 80روپے سے زائد کا ہو چکا تھا اور پھر 120روپے تک پہنچ گیا جس پر ایک راولپنڈی کے سیاستدان نے کہا کہ اگر اسحاق ڈار ڈالر کو 80روپے تک لے آئے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا، اُنہوں نے شیخ رشید کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ سیاست دان سابق پی ٹی آ ئی حکومت کا حلیف تھا۔

اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ ہوتا تو ہمارا ہمسایہ ہمیں نہ چھوڑتا، بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں چھ دھماکے کئے گئے ، ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارتی وزیراعظم چل کر پاکستان آئے ، اس کے بعد ہم نے کارگل کا ایشو چھیڑ لیا۔ شاہد خاقان عباسی کے زمانے میں 10 روپے کی ڈی ویلیوایشن ہوئی، مانیٹری پالیسی، ایکسچینج مینجمنٹ سٹیٹ بینک کی ذمہ داری ہے ، پاکستان کی کرنسی کومزید مضبوط ہونا چاہئے ۔ سینیٹر افنان اللہ نے پی ٹی آئی چیئر مین پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سوشل میڈیا سے ملک نہیں چلایا جاسکتا۔ زرقا تیمور سہروری نے کہاکہ پاکستان کی بلیک اکانومی وائٹ سے زیادہ ہے ،ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے بلیک اکانومی کی حوصلہ شکنی ہو ،قبر میں کتنی گاڑیاں اور سونا لیکر ہم جائیں گے ۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ بلوچستان کے زمینداروں کے ساتھ ناانصافیاں ہورہی ہیں،دنیا بھر میں زمینداروں کو سبسڈی دی جاتی ہے ۔ بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ عجیب مذاق چل رہا ہے۔

ثانیہ نشتر نے کہاکہ ملک میں اکثر و بیشتر گندم کے بحران کا سامنا رہتا ہے ۔ گندم کی خریدو فرخت میں کرپشن ہوتی ہے ،سبسڈائزڈ آٹے کا کوئی نظام نہیں ۔ گندم کو مارکیٹ میں اوپن کر دیا جائے ،حکومت گندم پر براہ راست سبسڈی دے ۔محسن عزیز نے کہاکہ ملک ترقی بھی کرتا گیا ،ساتھ ساتھ ڈالر بھی بڑھتا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ 75 سالوں میں ڈالر 3 روپے سے 172 پر گیا اور ایک سال میں ڈالر 172 سے 300 روپے پر گیا، معیشت کو کنٹرول کرنے کیلئے ہمیں افعانستان سے سیکھنا چاہیے۔

وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں، ملک میں 72 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کے ذخائر موجود ہیں۔ پاکستان فارمولا ملک بہت کم بناتا ہے۔ فارمولا ملک کی درآمد پر 3 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خرچ آتا ہے۔ اکثر خواتین کے لیے بہت ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ فارمولا ملک استعمال کریں۔ ملک میں فارمولا ملک پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ اجلاس کے دور ان سینیٹ کمیٹی چیئرمین و اراکین میں مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ سے متعلق رولز میں ترامیم کی قرارداد کی تحریک مسترد کر دی گئی، بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں