آمروں کے ساتھی ججوں کا بھی احتساب ہوناچاہیے:جسٹس اطہرمن اللہ:آئین توڑنے کی سزانہ بھی ملے ،غلطی تو تسلیم کریں:چیف جسٹس

آمروں کے ساتھی ججوں کا بھی احتساب ہوناچاہیے:جسٹس اطہرمن اللہ:آئین توڑنے کی سزانہ بھی ملے ،غلطی تو تسلیم کریں:چیف جسٹس

اسلام آباد(سپیشل رپورٹر)چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس میں اپیل پر سماعت کرتے ہوئے کہا سزا اور جزا سے ہٹ کر اسے دیکھنا ہوگا،آئین توڑنے کی سزا نہ بھی ملے غلطی تو تسلیم کریں،قوم بننا ہے توماضی کودیکھ کرمستقبل کو ٹھیک کرنا ہے۔

سزا جزا کا معاملہ اوپر بھی جائیگا،بتائیں آئین توڑنے والے ججوں کی تصویریں یہاں کیوں لگی ہیں،آمروں کیساتھ کھڑے رہنے والے صحافی بھی ذمہ دار ہیں،میڈیا سمیت سب کا احتساب ہونا چاہیے ، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کیوں نہ 12اکتوبر کے اقدامات پر بھی کارروائی کی جائے ،آمروں کے ساتھی ججوں کابھی احتساب ہونا چاہیے ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا سزا بھی برقرار رکھیں اورپنشن بھی ملتی رہے یہ نہیں ہوگا،1956کا آئین توڑنے تک آرٹیکل چھ کا اطلاق کیا جاسکتا ہے ۔سپریم کورٹ نے مزید سماعت 10 جنوری تک ملتوی کر تے ہوئے پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کو ہدایت کی کہ وہ اگلی سماعت پر عدالت کی قانونی معاونت کریں کہ کیا وفات کے بعد اپیل ختم ہوجاتی ہے اور اگر سنگین غداری کیس میں سزا برقرار رہتی ہے تو قانونی ورثا کو ملنے والی پنشن ودیگر مراعات کے علاوہ اس کے کیا اثرات ہوں گے ؟عدالت نے قرار دیا کہ پرویز مشرف کے وکیل نے بتایا ہے کہ انہیں پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ چیلنج کرنے کی ہدایت کی تھی، جبکہ پرویز مشرف نے ان کو لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر انحصار کی ہدایت نہیں کی،عدالت نے سنگین غداری کیس کے ٹرائل کیلئے قائم سپیشل کورٹ کو کالعدم کرنے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواستوں پر سماعت مکمل کر لی جبکہ سنگین غداری کیس میں سزا کے خلاف پرویز مشرف کی اپیل پر سماعت ملتوی کردی گئی ہے ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل چار رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جوماضی میں ہوچکا اسے میں ختم نہیں کرسکتا قوم بننا ہے توماضی کودیکھ کرمستقبل کو ٹھیک کرنا ہے ،سزا اورجزا اوپربھی جائے گی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ کاروائی صرف تین نومبرکے اقدام پرکیوں کی گئی؟ تین نومبر کوصرف ججوں پرحملہ ہونے پرکارروائی ہوگی توشفاف ٹرائل کاسوال اٹھے گا،کیا ججوں پرحملہ اسمبلیاں توڑنے ، آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟ہمیں سچ بولنا چاہیے ،اگرکسی فیصلے کوختم ہونا ہے تواسے ہونا چاہیے جس نے مارشل لا کوراستہ دیا،جسٹس اطہر من اللہ نے پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کو کہا کہ 12اکتوبر 1999کو آئین توڑنے کی آئینی توثیق پر بھی قانونی معاونت کریں اور بتائیں کہ کیوں نہ پرویز مشرف کے خلاف 12اکتوبر کے اقدامات پر بھی کارروائی کی جائے ۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ سزا برقرار رہنے کی صورت میں،فوجی قوانین کی روشنی میں ایوارڈز اور پنشن پر اس کے اثرات کیا ہوں گے ،یہ نہیں ہوسکتا کہ سپریم کورٹ فیصلہ کرے اور اس پر عمل نہ ہو۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آبزرویشن دی کہ آئین توڑنے پر اگر سزا نہ بھی ملے لیکن کم از کم یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ماضی میں ملک کے اندر جو ہوا وہ غلط تھا ،جرمنی اور اٹلی میں فسطائیت تھی ، سپین اور جنوبی افریقہ میں آمریت رہی لیکن سب نے غلطی کو تسلیم کیا ،جس کی لاٹھی اس کی بھینس کو غلط کہنا ہوگا،میڈیا سمیت سب کا احتساب ہونا چاہیے ،وہ صحافی جو آمریت میں آمروں کے ساتھ کھڑے رہے وہ بھی ذمہ دار ہیں،آنے والی نسلوں کو بتانا چاہیے کہ کیا غلط تھا اور کیا درست تھا۔

ماضی میں جو ہو چکا اسے ختم نہیں کیا جاسکتا ،کیا جنوبی افریقہ میں سب کو سزا ہی دی گئی تھی؟قوم بننا ہے تو ماضی کو دیکھ کر مستقبل کو ٹھیک کرنا ہے ،سزا اور جزا سے ہٹ کر اسے دیکھنا ہوگا ، کئی بار قتل کے مجرم بھی بچ نکلتے ہیں ،سزا اور جزا کا معاملہ اوپر بھی جائے گا، وکیل آکر بتائیں آئین توڑنے والے ججوں کی تصویریں ہی یہاں کیوں لگی ہیں،کیا آئین سے روگردانی کرکے ایک آدمی کی تابعداری کے حلف اٹھانے والوں اور مارشل لائوں کو جواز دینے والے ججوں کی تصاویر اس کمرہ عدالت میں ہونی چاہئیں؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا قومیں اپنی ماضی سے سیکھتی ہیں اور ماضی کی غلطیوں کو درست کرتی ہیں لیکن ہم نے بحیثیت قوم کچھ نہیں سیکھنا،جب غاصب طاقتور ہوتا ہے تو کوئی کچھ نہیں کہتا،لیکن جب طاقت نہیں ہوتی تو عاصمہ جیلانی کیس جیسے فیصلے بھی آجاتے ہیں،آج بھی تضادات کا سامنا ہے ،سندھ ہائی کورٹ بار کیس میں سپریم کورٹ نے تین نومبر کے اقدامات کو کالعدم کیا لیکن ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ ختم نہیں کیا،ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ آج بھی قانون ہے ،12اکتوبر 1999کو آئین توڑنا 3نومبر 2007کی ایمر جنسی سے سنگین جرم تھا ،تین نومبر کے اقدامات ججوں پر حملہ تھا اس لیے کارروائی ہوئی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین توڑنے پر آرٹیکل 6کا اطلاق ماضی سے ہوگا ،1956کا آئین توڑنے تک آرٹیکل چھ کا اطلاق کیا جاسکتا ہے ۔چیف جسٹس نے سنگین غداری کیس کے ٹرائل کیلئے قائم سپیشل کورٹ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ ہائی کورٹ نے ایک دن عدالتی معاون مقرر کیے اور اگلے روز وہ معاونت کیلئے عدالت میں موجود تھے ،اس معاملے کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ سب کچھ پہلے سے طے تھا ،یہ معاملہ عدالت کی ساکھ کا ہے ،سسٹم میں ہیر پھیر سے ساکھ نہیں رہتی ۔سندھ ہائیکورٹ بارکے وکیل رشید اے رضوی نے مارشل لا کا ذکر کیا توجسٹس اطہرمن اللہ نے ماضی میں نہ جانے کا مشورہ دیا ،چیف جسٹس نے ماضی سے سبق سیکھنے کے ریمارکس دئیے توجسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بالکل جائیں مشرف نے آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں،اسی عدالت نے راستہ دیا، مشرف مارشل لا کوقانونی کہنے والے ججوں کابھی ٹرائل ہونا چاہیے ،ہمیں سچ بولنا چاہیے ،چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں تاریخ سے سیکھنا اورسکھانا چاہیے ،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ تاریخ یہ ہے طاقتورکیخلاف کوئی نہیں بولتا کمزورپڑنے پرعاصمہ جیلانی والا فیصلہ آجاتا ہے ،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا سزا بھی برقرار رکھیں اورپنشن بھی ملتی رہے یہ نہیں ہوگا۔

درخواست گزار توفیق آصف کے وکیل حامد خان نے تحریری معروضات جمع کرائیں اور بتایا کہ ان کے دلائل مکمل ہوگئے ۔پاکستان بار کونسل کی طرف سے وائس چیئر مین ہاورن الرشید اور چیئر مین ایگزیکٹو کمیٹی حسن پاشا پیش ہوئے اور عدالت کے استفسار پر بتایا کہ سپیشل کورٹ نے 17دسمبر 2019کو پرویز مشرف کو سزا سنائی جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے 13جنوری 2020کو سپیشل کورٹ کو کالعدم کردیا ۔چیف جسٹس نے کہا کیا ہائی کورٹ کو پتہ نہیں تھا کہ سپیشل کورٹ سزا سنا کر ختم ہوچکی ہے ،ہائی کورٹ نے ایک غیر موثر معاملے پر اکیڈیمک مشق کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہائی کورٹ نے سزا ختم ہی نہیں کی،سزا کا فیصلہ بدستور موجود ہے ۔عدالت نے سپیشل کورٹ کے خلاف دائر رٹ پٹیشن کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے اور چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کہ سنگل جج نے فل بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھیجا اور اگلی سماعت بھی خود مقرر کردی ،اس کا مطلب ہے کہ سنگل جج نے معاملہ اپنے ہاتھ میں رکھا ،حالانکہ چیف جسٹس سنگل جج کی سفارش کا پابند نہیں ۔چیف جسٹس نے کہا ہائی کورٹ ایک ایسی عدالت کا معاملہ دیکھ رہی تھی جو اپنا کام مکمل کرکے ختم ہوگئی تھی۔

عدالت کے استفسار پر مرحوم پرویز مشرف کے وکیل نے بتایا کہ سپیشل کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد میرے موکل نے مجھے اپیل دائر کرنے کی ہدایت کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ملزم نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو قبول ہی نہیں کیا ،ہائی کورٹ کا فیصلہ قبول ہوتا تو سزا کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جاتی۔سلمان صفدر نے کہا کہ سپیشل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا فورم سپریم کورٹ ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ قبول ہوتا تو اپیل کنندہ ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد سپریم کورٹ سے اپیل واپس لینے کا کہہ دیتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا،اپیل کنندہ نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی لیکن ہائی کورٹ پھر بھی رٹ کا فیصلہ کرنے پر بضد تھی۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت بھی ایک صفحے پر تھی ،وفاقی حکومت کو ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھانا چاہیے تھا۔سندھ ہائی کورٹ بار کی طرف سے وکیل رشید اے رضوی ویڈیو لنک پر کراچی رجسٹری سے پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ آئین کی غلط تشریح پر جج کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا اس معاملے میں نہیں جائیں گے ،ہماری تاریخ بہت مضحکہ خیز ہے ،پھر ان ججوں کا کیا کریں گے جنہوں نے آمروں کو جواز دیا۔چیف جسٹس نے کہا کہیں سے تو شروعات ہونی چاہیے ،75سال سے ایسا ہی چلا آرہا ہے ۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف نے 12اکتوبر 1999کو آئین توڑا اور ججوں نے انہیں قانونی جواز دیا،ججوں نے خود پر حملے پر تو کارروائی کی لیکن آئین توڑنے پر نہیں،ججوں پر حملے سے آئین توڑنا سنگین جرم ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے کے دو پہلو ہیں یا تو تاریخ کو نظر انداز نہ کرنا یا پھر سزا اور جزا سے ہٹ کر غلطیوں کو تسلیم کرنے کا سوچنا ہوگا ۔رشید اے رضوی کے بعد درخواست گزار حافظ عبد الرحمن انصاری نے ذاتی حیثیت میں دلائل دئیے اور موقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ میں سب کچھ پہلے سے طے تھا۔

وکیل اظہر اقبال ایڈوکیٹ نے بتایا کہ ہائی کورٹ کے سامنے سپیشل کورٹ کے فیصلے کا نکتہ اٹھایا لیکن عدالت نے اسے نظر انداز کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ لاعلم تھی تو اسے بتادیا گیا کہ سپیشل کورٹ نے فیصلہ کرکے اپنا کام ختم کردیا ۔عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ ہائی کورٹ نے جب فیصلہ دیا تو اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔ چیف جسٹس نے وکیل حامد خان کی ستائش کی اور کہا کہ حامد خان کی اس لیے قدر و منزلت ہے کہ یہ اپنی غلطیوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے ،معاشرے میں اصل عزت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے ۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا جس حکومت نے پرویز مشرف کے ٹرائل کا فیصلہ کیا وہ بھی ہچکچاہٹ کا شکار تھی،سپریم کورٹ کی ہدایت پر ٹرائل شروع ہوا ،اسی حکومت نے 12اکتوبر کے اقدامات پر پرویز مشرف کا ٹرائل نہیں کیا ۔حامد خان نے کہا کہ لیکن اتنا ہوا کہ پہلی مرتبہ سنگین غداری میں کسی کا ٹرائل ہوا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا جو بھی حکومت ہوتی ہے صفحہ ایک ہی ہوتا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ 12اکتوبر کے اقدامات کی آئینی توثیق ہوچکی تھی،کم از کم شروعات تو ہوگئی،اس سے پہلے سنگین غداری میں کتنے ٹرائل ہوئے تھے ۔حامد خان نے انفرادی فیصلوں کی بات کی تو چیف جسٹس نے کہا کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایک آدمی پاکستان کو چلا رہا ہوتا ہے ۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواستوں پر سماعت مکمل ہوئی تو پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میں صرف سزا کے خلاف اپیل پر فوکس کروں گا۔چیف جسٹس نے کہا ہم آپ کو آئندہ سماعت پر سنیں گے ۔سلمان صفدر نے کہا کہ پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں ٹرائل چلا کر سزا سنائی گئی۔ عدالت کے استفسار پر سلمان صفدر نے کہا کہ پرویز مشرف کے ورثا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی،استدعا ہے پرویز مشرف کی فیملی کو وقت دیا جائے انہوں نے 4 سال یہ اپیل مقرر ہونے کا انتظار کیا۔مشرف کے وکیل نے چھٹیوں کے بعد سماعت کی تاریخ مانگی تو عدالت نے ہدا یت کی کہ پرویز مشرف کے وکیل اس دوران مرحوم جنرل کی فیملی سے رابطے کی کوشش کریں گے اور میڈیا میں تشہیر کے ذریعے اپیل کے بارے معلوم ہونے پر بھی قانونی ورثا پیش ہوسکتے ہیں ۔عدالت نے مزید سماعت دس جنوری تک ملتوی کر دی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں