فلسطینیوں کیخلاف طاقت کا استعمال اسرائیل، امریکا کی طے شدہ پالیسی

فلسطینیوں کیخلاف طاقت کا استعمال اسرائیل، امریکا کی طے شدہ پالیسی

(تجزیہ: سلمان غنی) جنگ بندی کے خاتمہ کے ساتھ ہی اسرائیل کا غزہ پر وحشیانہ بمباری کا عمل اور اس کے نتیجہ میں فلسطینیوں کی شہادت ظاہر کر رہی ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا استعمال حملہ آور اسرائیل اور اس کے پشتی بان امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طے شدہ پالیسی ہے اور وہ اپنے طے شدہ ایجنڈا کے تحت فلسطینیوں کی نسل کشی کے ایجنڈا پر گامزن ہیں لہٰذا اس حوالہ سے گیند ان طاقتوں خصوصاً ان عرب ممالک کی کورٹ میں ہے جو جنگ بندی کے عمل کیلئے سرگرم عمل تھے اور اس عمل کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کرتے نظر آ رہے تھے ۔

اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ اسرائیل حماس کے درمیان جنگ کا مستقبل کیا ہے اور کیا اسرائیل اور اس کے اتحادی غزہ پر غلبہ پانے میں کامیاب ہوں گے اور انسانیت اور انسانی حقوق کے عالمی علمبردار کیا غزہ میں طاری قیامت پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے رہیں گے عارضی جنگ بندی کے بعد پیدا شدہ طرزعمل ظاہر کر رہا ہے کہ یہ پہلے بھی غیر معاون ثابت ہوئی اور اب بھی ایسے ہی ہوگی یہ دراصل غزہ پر جاری و طاری عذاب میں وقفہ تھا اور ایک وقفہ کے بعد بمباری کے وحشیانہ عمل نے اس امر کا ثبوت فراہم کر دیا گیا کہ یہ عارضی جنگ بندی بھی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے تھی ۔ بڑا سوال یہی ہوگا کہ کیا اسرائیل کے عزائم پورے ہو پائیں گے اور حماس کا خاتمہ ہوگا تو اس حوالہ سے خود عالمی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں جہاں حماس کو اسرائیل کیلئے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے وہاں بڑا سوال یہ اٹھایا جاتا نظر آ رہا ہے کہ کیا یہ سلسلہ اس علاقہ تک محدود رہے گا کیونکہ غزہ میں روا رکھے جانے والے سلوک اور انسانیت سے عاری وحشیانہ بمباری نے دنیا بھر میں لوگوں کے اندر یہ سوچ اور اپروچ اجاگر کی ہے کہ آخر کب تک طاقت اور قوت سے آزادی کی تحریکوں کوکچلا جائے گا ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طاقت کے استعمال کا یہ عمل کچھ دیر کیلئے تو امن کا باعث بنتا ہے لیکن ظلم و تشدد کا یہ عمل ایک مستقل درد سر بن جاتا ہے اور یہ سلسلہ اگر یونہی جاری رہا تو یہ عالمی امن کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے ۔

اب وحشیانہ بمباری کا یہ نیا سلسلہ خود عالم اسلام کیلئے چیلنج اور مہذب دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا عالم عرب اور خصوصاً امت مسلمہ اسے فلسطینی بھائیوں خواتین اور بچوں کو وحشانہ بمباری کے نتیجہ میں یونہی مرتے دیکھے گی اور کیا یہ بدترین سلسلہ غزہ پر موجود ہے آخری فلسطینی تک جاری رہے گا یا ان کے اندر اس مجرمانہ اور سفاک عمل کے خلاف کوئی تحریک پیدا ہوگی قطر اور سعودی عرب کی کوششوں اور کاوشوں سے جنگ بندی ممکن بنی مگر یہ عارضی ثابت ہوئی اور اسرائیل کی ننگی جارحیت پھر سے کارفرما دکھائی دے رہی ہے ۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر عالم اسلام اور عرب حکمرانوں نے فلسطین کے مسئلہ اور خصوصاً غزہ کی انسانی صورتحال پر کوئی فیصلہ کن اور دو ٹوک موقف اختیار نہ کیا تو فلسطینیوں کی نسل کشی رک نہیں پائے گی ، الٹا خود عرب ممالک میں عوامی ردعمل بڑھے گا ، جو خود ان کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں