بیرسٹر گوہر کے آنے سے پی پی ، پی ٹی آئی اچھے تعلقات ممکن

بیرسٹر گوہر کے آنے سے پی پی ، پی ٹی آئی اچھے تعلقات ممکن

(تجزیہ:سلمان غنی) الیکشن کمیشن کے احکامات کے تحت تحریک انصاف نے انٹراپارٹی انتخابات کی رسم ادا کرتے ہوئے بیرسٹر گوہرعلی خان کو اپنا چیئرمین اور عمر ایوب خان کو سیکرٹری جنرل منتخب قرار دیا ہے۔

جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک انصاف خود کو آئین و قانون کے تابع رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کیلئے تیار ہے اور پارٹی کے سابق چیئرمین نے اس حوالے سے کسی ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ایک قدم پیچھے اٹھایا ہے ،اب اس امر کا قوی امکان ہے کہ انتخابی نشان بلا بھی محفوظ رہے گا اور تحریک انصاف ایک رجسٹرڈ جماعت کے طور پر اپنا انتخابی اور سیاسی کردار ادا کر پائے گی، تاہم مذکورہ انتخابی عمل میں الیکشن لڑنے کے خواہاں پارٹی رکن اکبر ایس بابر کو نہ تو ووٹرز لسٹ فراہم کی گئی اور نہ ہی انتخاب لڑنے کا موقع مل سکا، یہی وجہ ہے کہ اکبر ایس بابر نے مذکورہ جماعتی انتخابی عمل کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو تحریک انصاف کیلئے نئی مشکل کا باعث بن سکتا ہے ۔ دوسری جانب بیرسٹر گوہر علی خان نے چیئرمین بنتے ہی اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کسی سے جھگڑا نہیں چاہے گی اسے بھی ملک میں پیدا شدہ تلخ صورتحال میں ایک خوش آئند اقدام ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ بیرسٹر گوہر کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ وہ قانون کی حاکمیت کے علمبردار ہیں ،بیرسٹر گوہر کا ماضی میں تعلق پیپلزپارٹی سے رہا ہے اور وکالت کے حوالہ سے ان کے کردار کا تعلق بیرسٹر اعتزاز احسن سے جوڑا جاتا ہے ،خود اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ پیپلزپارٹی کا حصہ رہنے کے باوجود تحریک انصاف اور اس کی لیڈر شپ کے حوالہ سے نہ صرف سافٹ کار نرظاہر کرتے نظر آتے ہیں بلکہ قانونی محاذ پر ان کی معاونت بھی کر رہے ہیں،بعض ماہرین کا دعویٰ ہے اب پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی میں مستقبل میں اچھے تعلقات کاربن سکتے ہیں،نو مئی کے واقعات کو اگر تحریک انصاف کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ قرار دیا جائے تو بیجا نہ ہوگا جو دھلنے سے نہ دھلے گا، 9مئی کے واقعات کے نتیجہ میں صرف تحریک انصاف ہی کمزور نہیں ہوئی پاکستان کا سیاسی سسٹم متاثر ہوا ہے ۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں سیاسی جماعتیں مضبوط اور قیادتیں اہل اور باصلاحیت ہوتیں تو پاکستان جیسے جمہوری ملک میں جمہوریت اس نہج پر نہ پہنچتی ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں