الیکشن کمیشن نے راولپنڈی،اسلام آباد،مانسہرہ سمیت 16حلقوں کے ختمی نتائج روک دیئے:مبینہ دھاندلی:تحریک انصاف،جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاجی مظاہرے

الیکشن کمیشن نے راولپنڈی،اسلام آباد،مانسہرہ سمیت 16حلقوں کے ختمی نتائج روک دیئے:مبینہ دھاندلی:تحریک انصاف،جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاجی مظاہرے

اسلام آباد،راولپنڈی ،بہاولپور (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) الیکشن کمیشن نے راولپنڈی ، اسلام آباد، مانسہرہ سمیت 16 قومی و صوبائی حلقوں کے نتائج روک دیئے ۔ ان میں 4قومی اور 12صوبائی حلقے شامل ہیں ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے نتائج کی مبینہ تبدیلی پر سماعت کی۔

الیکشن کمیشن نے مانسہرہ کے حلقہ این اے 15مانسہرہ،اسلام آباد کے این اے 47اور 48،راولپنڈی کے این اے 55، خیبر پختونخوا کے حلقے پی کے 73، پی کے 79، پی کے 80 ، پی کے 82 ،پی پی 11 راولپنڈی ،بلوچستان کے حلقے پی بی 41، پی بی 43،پی بی 48، پی بی 49، پی بی 50، پی بی 51 اور پی بی 21 کے حتمی نتائج روک دیئے گئے ،خیبر پختونخوا کے حلقہ پی کے 79سے تیمور سلیم اور پی کے 82سے کامران بنگش نے نتائج کو چیلنج کیا ہے ۔چکوال کے حلقہ این اے 58 سے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار ایاز امیر کی انتخابی نتائج سے متعلق درخواست قابل سماعت قرار دیدی گئی ۔ ایاز امیر کی درخواست پر سماعت آج صبح 10 بجے ہو گی۔ الیکشن کمیشن میں این اے 28، این اے 49 اٹک ، این اے 50 اٹک، این اے 63 اور این اے 65 کے نتائج بھی چیلنج کردئیے گئے ۔پی بی 1، پی پی 20 ، پی پی 14 ،پی پی 16 ، پی پی 31، پی پی 33، پی پی 59 کے نتائج بھی الیکشن کمیشن میں چیلنج کردئیے گئے ۔

این اے ’164’این اے 168’پی پی 254،پی پی 253 کے نتائج لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ میں چیلنج کیے گئے ہیں ،’پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے آر او کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے ۔ انہوں نے ہائیکورٹ سے اپیل کی ہے کہ فارم 45 کے مطابق فارم47 جاری کئے جائیں ۔ الیکشن میں سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ہمیں این اے 15مانسہرہ کے 125 پولنگ سٹیشنز کے فارم 45 نہیں ملے ، پریذائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس کو نکال دیا تھا، شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور اس حلقے میں الیکشن شفاف نہیں ہوئے ، فارم 45 کے بغیر فارم 47 جاری نہیں ہوسکتا۔ ممبر کے پی نے کہا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کہ الیکشن شفاف نہیں ہوا؟ وکیل نے کہا کہ اس حلقے کا الیکشن شفاف نہیں ہوا، انہوں نے استدعا کی کہ این اے 15مانسہرہ کا حتمی نوٹیفکیشن روکا جائے ْ۔دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا، بعدازاں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر کو حلقہ این اے 15 مانسہرہ کے حتمی نتیجے سے روک دیا۔اس کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے این اے 48 میں نتائج کی مبینہ تبدیلی پر سماعت کی۔ تحریک انصاف کے امیدوار علی بخاری کے وکیل نے دلائل دیئے کہ علی بخاری فارم 45 کے مطابق کامیاب ہوئے ، ریٹرننگ افسر نے ہماری استدعا کے برعکس فارم 47 جاری کر دیا، ہماری 50 ہزار کی لیڈ کو ختم کیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے استحکام پارٹی کے نامزد کامیاب آزاد امیدوار راجہ خرم نواز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر کو اسلام آباد کے حلقے این اے 47 اور 48 کے حتمی نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔ اسی طرح پی کے 73، پی کے 79، 80 اور پی کے 82 کے بھی نتائج کے خلاف سماعت ہوئی، الیکشن کمیشن نے دونوں حلقوں میں ریٹرننگ افسران کو حتمی نتائج جاری کرنے سے روک دیا۔ الیکشن کمیشن نے راجہ بشارت کی پٹیشن پر این اے 55 راولپنڈی کے انتخابی نتائج روک دئیے اور ریٹرننگ افسر سے جواب طلب کرلیا۔راجہ بشارت کے وکیل نے کہا کہ پولنگ سٹیشنز کے نتائج فارم 45 کے مطابق 50 ہزار ووٹو ں کی لیڈسے راجہ بشارت الیکشن جیت گئے تھے ، تمام ٹی وی چینلز بھی راجہ بشارت کی لیڈ اور جیت کی بابت اعلان کرتے رہے ۔ وکیل نے بتایا کہ رات کی تاریکی میں شب خون مار کر رزلٹ تبدیل کیا گیا، دوسری جانب الیکشن کمیشن نے آزاد امیدوار پی ٹی آئی چودھری نذیر کی پٹیشن پر پی پی 11راولپنڈی کے نتائج پر بھی حکم امتناعی جاری کر دیا۔ الیکشن کمیشن نے بلوچستان اسمبلی کے 7حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا ۔ اتوار کو الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئٹہ کے حلقوں پی بی 41،پی بی 43، پشین سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی 48، حب سے پی بی 21، پی بی 49، قلعہ عبداللہ سے حلقہ پی بی50، چمن سے حلقہ پی بی 51کے ریٹرننگ افسران کے نام لکھے گئے مراسلے میں کہا گیاہے کہ مذکورہ حلقوں میں امیدواروں کی جانب سے دوبارہ گنتی کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن پر قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے دوبارہ گنتی کروائی جائے ۔ 

لاہور، راولپنڈی (سیاسی رپورٹرسے ، خبر نگار ، نیوز ایجنسیاں )ملک کے متعدد شہروں میں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ، تحریک انصاف ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی نے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیئے ۔ لاہور میں احتجاج کے دوران این اے 119  سے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اور مریم نواز کے مقابلے میں الیکشن لڑنے والے شہزاد فاروق کو کئی کارکنوں سمیت گرفتار کرلیاگیا، لبرٹی چوک میں بھی پی ٹی آئی پرچم لہراتے ہوئے گاڑی میں آٰنے والی فیملی کے افراد کو پولیس نے تحویل میں لے لیا متعدد مقامات پر پی ٹی آئی نے احتجاج کیا احتجاج کی کال کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری زمان پارک پر تعینات رہی ۔تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی جانب سے انتخابی عمل میں دھاندلی کے الزام کے تناظر میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کا الیکشن مہم راولپنڈی دفتر کے سامنے احتجاج پولیس نے ناکام بنا دیا ۔ شیلنگ لاٹھی چارج صحافیوں پر بھی تشدد کر دیا گیا ۔تھانہ صادق آباد کے علاقہ میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کی کال پر راولپنڈی پولیس نے ایران روڈ کو بند کر دیا تھا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی تھی ۔ تاہم پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد مقامی راہنماؤں کی قیادت میں پہنچ گئی اور صادق آباد پمپوں والا چوک میں احتجاج شروع کر دیا ،مظاہرے سے این اے 57 سے امیدوار سمابیہ طاہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ضلع میں ہمارے الیکشن پر ڈاکا ڈالا گیا ،پنڈی کی تمام قومی و صوبائی اسمبلیوں پر بڑا ڈاکا ڈالا گیا ،یاد رکھیں ہم نے پہرہ دینا ہے ،اپنا حق لینا ہے ہر پلیٹ فام پر رجوع کریں گے ۔

احتجاجی جلسہ کے دوران ہی پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کر دیا کچھ دیر مزاحمت کے بعد کارکن منتشر ہو گئے اسی دوران احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر بھی تشدد کیا گیا ۔انتخابات 2024این اے 261اور پی بی 36 کے متنازعہ رزلٹ سامنے آنے کیخلاف بلوچستان نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام کے کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے قومی شاہراہ کو بلاک کردیا۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنان کے مطابق قائد بی این پی کو 3 دن بعد ہرایاگیا جوکہ مینڈیٹ کی چوری کا واضح ثبوت ہے دوسری جانب جے یو آئی پی بی 36کے نامزد امیدوار میرسعید لانگو نے کہاہے کہ جوہان 7پولنگ کے علاوہ مجھے بھاری اکثریت حاصل تھی جسکا مجھے نوٹیفکیشن بھی دیاگیا اور ہماری جماعت نے مذکورہ 7پولنگ پر ری پولنگ کا کہا لیکن گزشتہ رات 3بجے دوسرا نوٹیفکیشن جاری کرکے مجھے ہرایاگیا جوکہ عوامی مینڈیٹ کے برخلاف ہے اپنے حق کے لئے ہم سڑکوں پر نکل چکے ہیں کسی بھی صورت دھاندلی کوتسلیم نہیں کیاجائے گا۔حیدرآباد میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مبینہ طورپر دھاندلی اور تاخیر سے نتائج کے اجراء کیخلاف جماعت اسلامی حیدرآباد اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا، دھرنا دیا اور نعرے بازی کی

۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اور این اے 219 لطیف آباد کے امیدوار معراج الہدیٰ صدیقی، پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر مستنصر باللہ ، حافظ طاہر مجید ، عقیل احمد خان اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 2024ء کے عام انتخابات میں تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی ہے ۔ جیتنے والے امیدواروں کو ہرواکر ان لوگوں کو کامیاب کیا گیا ہے جو تیسرے اور چوتھے نمبر پر تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے دیگر شہروں کی طرح حیدرآباد میں بھی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ، ہم کسی کو بھی حیدرآباد کا مینڈیٹ چوری کرنے نہیں دیں گے ، الیکشن کمیشن آف پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام اس صورتحال کا نوٹس لیں ، بصورت دیگر ہمارا احتجاج ہر صورت جاری رہے گا۔ بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 8میں دھاندلی کے خلاف سینکڑوں مظاہرین نے دھرنا دیا ، مظاہرین کا کہنا تھا ری پولنگ کے اعلان تک احتجاج جاری رکھیں گے پی بی 8کے لہڑی میں قائم پولنگ اسٹیشنوں پر ٹھپے بازی دھاندلی کے خلاف سبی اتحاد کے سینئر رہنما امیدوار برائے صوبائی اسمبلی میر اصغر خان مری سمیت سبی اتحاد کے سینکڑوں کارکنوں نے گزشتہ تین روز سے سبی کوئٹہ سبی جیکب آباد قومی شاہراہ پر دھرنا دیکر تمام چھوٹی بڑی ٹریفک سمیت پیدل چلنے والوں پر بھی مکمل بند کر دیا ۔

ڈپٹی کمشنر بتول اسدی نے ڈی سی چوک ڈیرہ مراد جمالی میں خواتین کے احتجاجی کیمپ پر جا کر خواتین سے ملاقات کی جس میں انہوں نے خواتین سے احتجاجی دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی لیکن خواتین نے دھرنا ختم کرنے سے معذرت کی ۔جیکب آباد میں جے یوآئی کی جانب سے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف سندھ بلوچستان کو ملانے والے بائی پاس پر دھرنا دیا گیا ، 11گھنٹوں تک دھرنے کے باعث ٹریفک جام ہوگئی۔ جس کے باعث سندھ اور بلوچستان کی جانب آنے جانے والی سینکڑوں گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ آج 12 فروری کو ایک بجے شہید اللہ بخش پارک جیکب آباد سے احتجاجی جلوس نکال کر الیکشن کمیشن جیکب آباد آفس کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔نوکنڈی میں جمعیت علماء اسلام بابائے چاغی پینل اور بڑیچ پینل کی جانب سے نوکنڈی میں بابائے چاغی پینل اور جمعیت علما اسلام چاغی کی کال پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی پورا بازار بندرہا اس موقع پر بابائے چاغی اورجمعیت علما اسلام سمیت بڑیچ پینل کے نمائندوں نے کہا دھاندلی کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے جب تک سخی میرامان اللہ نوتیزئی کی جیت کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاتا احتجاج اور دھرناجاری رہے گا ۔ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے انتخابی نتائج کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیامظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے مظاہرے میں مرد اور خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد شریک تھی ۔مظاہرین نے انتخابی نتائج کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں