حکومت سازی: پیپلز پارٹی تمام جماعتوں سے رابطہ کریگی: سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ن لیگ کیساتھ شراکت اقتدار پر مشاورت آج حتمی فیصلے

حکومت سازی: پیپلز پارٹی تمام جماعتوں سے رابطہ کریگی: سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ن لیگ کیساتھ شراکت اقتدار پر مشاورت آج حتمی فیصلے

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے 4 گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں پارٹی کسی حتمی نتیجہ پر نہ پہنچ سکی اور اجلاس آج دوبارہ اجلاس بلایا گیا جس میں حتمی فیصلے کئے جائیں گے۔

پیر کے روز اجلاس میں فیصلہ کیا گیا حکومت سازی کے حوالے سے پیپلزپارٹی تمام جماعتوں سے رابطہ کریگی، ن لیگ کیساتھ شراکت اقتدار پر بھی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے تمام ارکان پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور بھی شریک ہوئیں، اجلاس کا آغاز شہدائے جمہوریت کو خراج عقیدت پیش کرنے سے ہوا۔ کمیٹی کے ارکان نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اجلاس میں عام انتخابات اور اس کے حوالے سے عوام کے ردعمل پر بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں عام انتخابات کے بعد ملک کے مستقبل کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی، مسلم لیگ ن کی تجاویز پر مشاورت اور حکومت سازی کی تجاویز پر غور کے علاوہ ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ارکان کی جانب سے ملک کی سیاسی، معاشی اور حکومتی صورتحال کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔

شرکا نے بلاول بھٹوزرداری اور آصف علی زرداری کو آئینی عہدے لینے کی تجویز دی جبکہ تین سال اور دو سال کیلئے تقسیم اقتدار کے فارمولے پر متضاد آرا تھیں جن میں کہا گیا یہ فارمولا نہیں چل سکتا، عملدرآمد نہیں ہوسکے گا۔بعض ارکان نے تجویز دی وفاق میں ن لیگ کو ووٹ ضرور دیں لیکن اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں، بعض نے بلوچستان اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی بھی تجویز دی۔ذرائع کے مطابق بعض اراکین نے بلاول کے وزیراعظم نہ بننے کی تجویز بھی دی اور کہا بلاول کو مستحکم اتحادی حکومت کا وزیراعظم بننا چاہیے ۔ذرائع کے مطابق سی ای سی کے اراکین کی رائے مختلف رہی۔

بعض اراکین کی رائے تھی آئندہ بننے والی اتحادی حکومت کمزور ہو گی، کمزور وزیراعظم سے طاقتور اپوزیشن لیڈر بننا بہتر ہے ،بعض اراکین نے اتحادی حکومت کا حصہ بننے کی مخالفت کی ، انہوں نے کہا اتحادی حکومت کا دوبارہ حصہ بننا سیاسی طور پر نقصان دہ ہے ،سنیئر رہنمائوں نے پارٹی قیادت کو فوری فیصلہ نہ کرنے کی تجویز بھی دی اور کہا سیاسی فیصلوں میں جلدبازی سے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ جواب میں قیادت نے کہا اتحادی حکومت بارے فیصلہ عجلت میں نہیں کریں گے ۔ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری کو آئینی عہدہ لینے اور ن لیگ کی بجائے پی ٹی آئی سے بات چیت کی تجویز بھی دی گئی۔ ذرائع نے بتایا پی پی ارکان کا کہنا تھا کہ ہر جگہ بات ہو رہی ہے پی پی کو صدارت کی آفر ہوئی ہے۔اس پر آصف زرداری کا جواب تھا کہ کوئی عہدہ اہمیت نہیں رکھتا ملکی ترقی ترجیح ہے ۔ ارکان مشورہ دیں کس طرف جانا چاہیے کیا کرنا چاہیے۔

ذرائع نے بتایا اجلاس میں ارکان سے پوچھا گیا کیا صدارت، سپیکرشپ اور دیگر آفرز قبول کرنی چاہئیں؟۔ذرائع نے بتایا پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان کی اکثریت نے اتحاد کی مخالفت کی ۔ ان کی رائے تھی جو بھی فیصلہ کریں پارٹی مستقبل اور نوجوان قیادت کو مدنظر رکھا جائے ۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی سی ای سی کا اجلاس آج بھی جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے جس میں قیادت تمام اراکین کی تجاویز پر غور کرے گی اور پھر دوبارہ ان پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ تجاویز کے بعد حتمی مشاورت سے فیصلے کا اعلان بھی آج ہی کیا جائے گا۔

سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پی پی پی کی نائب صدر شیری رحمن نے ترجمان پی پی فیصل کریم کنڈی اور شازیہ مری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کوئی حتمی فیصلے نہیں ہوئے اجلاس میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں گے، سیاسی جماعتوں سے بات چیت کیلئے رابطہ کمیٹی بنائی جائیگی تاہم رابطہ کمیٹی کے نام ابھی فائنل نہیں کئے گئے۔ شازیہ مری نے کہا اجلاس میں مختلف صو بوں سے اراکین شریک ہوئے اور تحفظات بتائے جو کچھ الیکشن میں ہواہم اس کا جائزہ لیں گے ،اجلاس میں الیکشن میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا ذکر ہوا،ان پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔شازیہ مری نے کہا کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً تمام ممبران آئے تھے جو رہ گئے ہیں وہ منگل کو اجلاس میں شامل ہو جائیں گے ۔اجلاس کے اس پہلے دور میں محض جیتنے والے اراکین کو مبارکباد دی گئی ۔فیصل کریم کنڈٰی نے کہا الیکشن سے متعلق چاروں صوبوں میں تحٖفظات ہیں۔

لاہور،اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے ،سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)عام انتخابات کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی تشکیل کے لیے جوڑ توڑ حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے جلد ہی حکومتی اتحاد اور اس کے نتیجے میں مختلف جماعتوں کو ملنے والے اہم عہدوں کا اعلان کر دیا جائے گا۔بظاہر یہی امکان ہے انتخابات کا عمل شروع ہونے سے پہلے مرکز میں برسرِ اقتدار پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)اتحاد ہی دوبارہ وفاقی حکومت بنائے گا تاہم نئی تشکیل پانے والی قومی اسمبلی میں ملنے والی نشستوں کے حساب سے تمام شریک جماعتوں کے عہدوں میں رد و بدل ہو سکتا ہے ۔ سب سے زیادہ نشستیں لینے والی مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے علاوہ آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے اراکین سے بھی بات چیت کی ہے ۔

مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس میں سیاسی صورتحال اور حکومت سازی سے متعلق تبادلہ خیال ہوا۔ ان رہنماؤں کی جلد ملاقات بھی متوقع ہے ۔ذرائع کے مطابق مرکز میں حکومت بنانے کے لئے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان شراکت اقتدار کا فارمولا تیار کر لیا گیا ہے ، دونوں جماعتوں نے دو نکاتی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے ۔ذرائع کا بتانا ہے پہلے مرحلے میں زیادہ نشستوں والی پارٹی کا وزیراعظم 3 سال رہے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں 2 سال کے لیے دوسری جماعت کا وزیراعظم ہو گا جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے مریم نواز کی حمایت کی یقین دہانی کرائے گی۔ مسلم لیگ (ن)نے حکومت سازی کے لئے نمبر گیم پر کام تیز کر دیا۔ نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملک کی سیاسی صورتحال اور حکومت سازی کے حوالے سے مشاورت ہوئی، دونوں رہنماؤں کی جلد ملاقات بھی متوقع ہے۔

قبل ازیں شہباز شریف نے بھی 24گھنٹوں کے دوران مولانا فضل الرحمن سے دوسرا رابطہ کیا۔شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان ٹیلی فونک بات چیت ہوئی جس میں حالیہ انتخابات اور انتخابی نتائج پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے شہباز شریف نے مرکز میں حکومت سازی سے متعلق مولانا فضل الرحمن کو اعتماد میں لیا۔سربراہ جے یو آئی ف نے مجلس عاملہ اور امرا اجلاس میں مشاورت کا وقت مانگ لیا اور کہا بدھ کو مجلس شوری ٰمیں مشاورت کر کے آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کریں گے ۔ذرائع نے بتایا مولانا فضل الرحمن نے انتخابات کے نتائج پر تحفظات کا بھی اظہار کیا ۔استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی صدرعبدالعلیم خان اور سینئر رہنما عون چودھری نے پیر کے روز شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں میں سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آئندہ حکومت سازی پربات چیت بھی کی گئی۔ملاقات میں اسمبلیوں میں اراکین کی تعدادسے متعلق مشاورت،اہم امورزیرغور بھی لائے گئے ۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم ) کا 4رکنی وفد اسلام آباد پہنچ گیا۔ وفد میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری، خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفی کمال شامل ہیں۔ وفد آئندہ 2 دن اسلام آباد میں قیام کرے گا۔ذرائع کا کہنا ہے ایم کیو ایم ، ن لیگ کے رہنماؤں کے درمیان منگل کو ملاقات کا امکان ہے ، ایم کیو ایم اپنی ترجیحات اور تجاویز سے مسلم لیگ ن کو آگاہ کرچکی ہے ۔مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے درمیان مسلسل رابطے ہیں، ایم کیو ایم وفد کا مسلم لیگ ق، جمعیت علما اسلام (جے یو آئی)قیادت سے بھی ملاقات کا امکان ہے ۔دریں اثنائجے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن اور بی این پی کے قائد اختر مینگل میں فون پر رابطہ ہوا۔دونوں رہنمائوں نے الیکشن اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔دونوں قائدین نے مشاورت جاری رکھنے ،سیاسی منظر نامے میں مل کر چلنے اور جلد ملاقات پر اتفاق کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے انتخابی نتائج پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں