الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے الزامات مسترد کر دئیے

الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے الزامات مسترد کر دئیے

اسلام آباد(نیوز رپورٹر)الیکشن کمیشن پاکستان نے انتخابات کے نتائج میں تاخیر، رد و بدل اور دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا اکا دکا واقعات سے انکار نہیں۔۔۔

 جس کے تدارک کیلئے متعلقہ فورمز موجود ہیں اور الیکشن کمیشن ان دنوں میں بھی دفتری اوقات اور دفتر کے بعد بھی دیر تک ایسی شکایات کو وصول کر رہا ہے اور ان پر فوری فیصلے بھی کیے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق انتخابات کے انعقاد سے پہلے اور انتخابی عمل کے دوران الیکشن کمیشن کو بے پناہ چیلنجز درپیش تھے جن سے عہدہ برا ہونے کیلئے وقتاً فوقتاً مختلف اقدامات عمل میں لائے گئے ۔اس حوالے سے یہ بات زبان زدعام تھی کہ انتخابات کا انعقاد مقررہ تاریخ پر نہیں ہو پائے گا۔ الیکشن کمیشن نے اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے تمام ممکن عملی اقدامات کیے اور انتخابات مقررہ تاریخ پر کروائے۔

8 فروری کے انتخابات کے کامیاب انعقاد کیلئے الیکشن کے عمل کو پرامن اور منظم رکھنا، پولنگ عملے کی زندگیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا، پولنگ میٹریل کی بحفاظت نقل و حمل کو محفوظ بنانا اور درست نتائج کی ترتیب و تدوین انتہائی اہم ترجیحات تھیں جنہیں بقیہ تمام عوامل پر مقدم رکھا گیا اور سکیورٹی کے چیلنجز کے باوجود پر امن پولنگ کے انعقاد کو یقینی بنایا گیا۔نتائج میں تیزی کی خاطر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا یا نتائج کی درستی کو مشکوک بنانا نامناسب تھا، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات بالخصوص انتخابات کے نزدیک مختلف مقامات پرسکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادت نے انتخابات کے انعقاد کو ایک چیلنج بنا دیا،ایسی صورت حال میں انتخابی عمل اور بالخصوص نتائج کی تیزی کیلئے انسانی جانوں کو خطرات میں جھونکنے سے پورے انتخابی عمل کے سبو تاژ ہونے کا خطرہ موجود تھا جس کے تدارک کیلئے ترجیحی اقدامات کیے گئے ۔

سکیورٹی اداروں کے مشورہ پر وفاقی حکومت کی جانب سے موبائل فون کی بندش کے علاوہ پولنگ کے عمل کو پرامن اورمنظم رکھنے اور پولنگ عملے اور پولنگ میٹریل کی حفاظت کیلئے گروپوں کی صورت میں سکیورٹی کے حصار میں نقل و حمل کو یقینی بنایا گیا تاہم موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی کے باعث رابطہ نہ ہونے ، پولنگ سٹیشنوں کے طویل فاصلوں اور دور دراز جگہوں پر واقع ہونے ، رات کے اندھیرے میں سفر ،بعض علاقوں میں موسم کی شدت اور برف کی موجودگی اور بعض مقامات پر شاہراؤں پر ہارنے والے امیدواروں کے حامیوں کی جانب سے دھرنے دئیے جانے کے باعث پولنگ عملے کو نقل و حمل میں مشکلات پیش آئیں۔بلوچستان کے بعض علاقوں میں پولنگ عملے اور پولنگ میٹریل کی نقل و حمل کیلئے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کرنا پڑے ۔ملک کے کئی حصوں میں سکیورٹی کی صورت حال اور کوآرڈی نیشن میں آسانی کیلئے پانچ سے چھ ریٹرننگ آفیسرز کے دفاتر ایک ہی جگہ پر بنائے گئے تاہم ان دفاتر پر جہاں پولنگ عملے کی آمد سے رش بڑھا وہاں کئی جگہوں پر ریٹرننگ آفیسرز کے دفاتر کے سامنے بے پناہ ہجوم بھی اکٹھا ہوا جس کے باعث پولنگ عملے کو پولنگ میٹریل جمع کرانے میں مشکلات پیش آئیں جن کا انتخابی نتائج کی ترتیب و تدوین پر بھی فرق پڑاتاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ جن علاقوں میں انتخابی نتائج میں تاخیر بھی ہوئی وہاں نتائج کا ملا جلا رحجان رہا اور کسی ایک جماعت کو کسی طور پر فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا۔ای ایم ایس کا بنیادی کام آر او کے دفاتر میں پریذائیڈنگ آفیسرزکے ذریعے جمع کرائے گئے نتائج کی تیاری اور تدوین تھا اور فارم47 (غیر حتمی نتیجہ) تیار کر کے نتائج کا اعلان کرنا تھا۔

پریذائیڈنگ آفیسرز کو پولنگ سٹیشن پر فارم45 تیار کر کے اسے اپنے موبائل فون کی مدد سے الیکٹرانک طریقے سے اپنے آر او کو بھیجنا تھا۔نیز الیکشنز ایکٹ2017 کے سیکشن 90 کے تحت پریذائیڈنگ آفیسر نے اپنے ریٹرننگ آفیسر کے دفتر ذاتی طور پر پہنچنا تھا۔یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آر او کے دفاتر میں نصب ای ایم ایس کا نظام کنیکٹوٹی پر منحصر نہیں تھا اور ای ایم ایس نے آر او کے دفتر میں تسلی بخش کام کیا، تاہم پریزائیڈنگ آفیسرز کے فونز میں انسٹالڈ ای ایم ایس موبائل ایپ کو فارم45 الیکٹرانک طور پر بھیجنے کیلئے سیلولر کنیکٹوٹی کی ضرورت تھی۔چونکہ سیلولر سگنلز کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا تھا اس لیے پریذائیڈنگ آفیسرز، ریٹرننگ آفیسرز کو الیکٹرانک ڈیٹا بھیجنے سے قاصر رہے ۔مزید یہ کہ معمول کی کوآرڈی نیشن اور انتظامی نقل و حمل کے مجموعی عمل کو موبائل سگنلز کی بندش نے بری طرح متاثر کیا جو کہ مزید تاخیر کا باعث بنا۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ 2018ء کے جنرل الیکشن میں پہلا نتیجہ صبح 4 بجے موصول ہوا جبکہ 2024ء میں پہلا نتیجہ رات 2 بجے موصول ہوا۔اسی طرح 2018 میں نتائج کی تدوین تقریباً 3 دن میں مکمل ہوئی جبکہ اس مرتبہ کچھ حلقوں کے علاوہ ڈیڑھ دن میں انتخابی نتائج مکمل ہوئے ۔ان مشکلات اور مسائل کے باوجود الیکشن کمیشن 8 فروری کو الیکشن کے عمل کو پرامن اور منظم رکھنے میں کامیاب رہا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں