آج مریم نواز پنجاب اور مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ سندھ منتخب کرنے کی تیاریاں

آج مریم نواز پنجاب اور مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ سندھ منتخب کرنے کی تیاریاں

لاہور(سیاسی رپورٹر سے)وزیراعلی ٰ پنجاب کا انتخاب آج ہوگا، قائد ایوان کے چناؤ کے لئے پنجاب اسمبلی کااجلا س آج صبح گیارہ بجے سپیکر ملک احمد خان کی زیرصدارت ہوگا، وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لئے مریم نواز اور رانا آفتاب احمد خان کے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے گئے، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کاغذات درست قرار دے دئیے۔

 سنی اتحاد کونسل کے وفد نے سپیکر سے پہلی باضابطہ ملاقات میں گرفتار ارکان اسمبلی کو ایوان میں لانے کا مطالبہ کر دیا،پنجاب کے نئے قائد ایوان کے چنائو کے لئے مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کی امیدوار برائے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے کاغذات نامزدگی پنجاب اسمبلی میں جمع کرائے گئے ،لیگی ارکان اسمبلی میاں یاور زمان، ذیشان رفیق، خواجہ عمران نذیر، عظمیٰ بخاری، سمیع اللہ خان ، غزالہ سلیم بٹ اور دیگر ارکان نے مریم نواز کے کاغذات سیکرٹری اسمبلی عامر حبیب کو جمع کروائے ، سینیٹر اسحاق ڈار بھی کاغذات جمع کروانے کے وقت لیگی ارکان کے ساتھ موجود رہے ، سنی اتحاد کونسل کے امیدو ار برائے وزیر اعلی ٰرانا آفتاب احمد خان کے کاغذات نامزدگی بھی جمع ہوگئے۔

سنی اتحاد کونسل کے ارکان اسمبلی احمد خان بھچر، معین ریاض قریشی ، صائمہ کنول، اعجاز شفیع ، رانا شہباز ، بریگیڈئیر(ر)مشتاق اور دیگر نے کاغذات جمع کروائے ، سپیکر ملک محمد احمد خان نے دونوں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دئیے ، سنی اتحاد کونسل کے وفد نے رانا آفتاب کی قیادت میں سپیکر ملک احمد خان سے ملاقات بھی کی جس میں گرفتار ارکان کو ایوان میں لانے کے لئے سپیکر سے اپنا اختیار استعمال کرنے کی درخواست کی، ایوان کو رولز کے مطابق احسن انداز سے چلانے پر بھی بات چیت ہوئی۔ادھر نو منتخب وزیراعلیٰ پنجاب کی حلف برداری کی تقریب آج 2 بجے گورنر ہاؤس میں ہوگی۔نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کیلئے لیگی اور اتحادی ارکان پنجاب اسمبلی کو دعوت نامے جاری کر دیئے گئے ، ارکان اسمبلی کو الحمرا گیٹ سے گورنر ہاؤس میں داخل ہونے کی ہدایت کر دی گئی۔ارکان پنجاب اسمبلی کو مہمان ساتھ لانے سے روک دیا گیا۔

ن لیگ کی نامزدوزیراعلیٰ مریم نواز سے نومنتخب ایم پی اے ملک اسدکھوکھرکی ملاقات،نامزدگی پرمبارکباد پیش کی۔ ملک اسد کھوکھر نے پنجاب کی سیاسی اور انتظامی امورپرگفتگو کی ۔ مریم نواز کو وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد ہونے پر نیک خواہشات اظہار کیا۔نومنتخب سپیکر اسمبلی ملک احمد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممبران اسمبلی کے حقوق کو تحفظ دینے کی پوری کوشش کروں گا، پارلیمان میں بہت سے تجربہ کار اور منجھے ہوئے ارکان بھی موجود ہیں ، میری کوشش یہی رہے گی کہ اس ایوان کا تقدس بحال رہے ، اس ایوان کی تکریم کے لیے جو بن پایا کروں گا، یہ جگہ اہل علم کی ہے ، یہاں بحث اور دلیل ہو، یہاں قانون بنے یہاں بجٹ بنے ، کسی بھی ممبر کے جو حقوق ہیں ان کو تحفظ دینے کی پوری کوشش کروں گا، یہ آئین کا تقاضا ہے کہ اتوار کی شام 5بجے تک اپوزیشن نے اپنے وزیر اعلیٰ کے امیدوار کو نامزد کرنا ہے ، کس کو بھی وہ اپنا امیدوار نامزد کریں وہ ان کا اختیار ہے۔

ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دور میں اپنائے جانے والے رویے نے جمہوریت کا نقصان کیا ہے ، پچھلے دور میں جب آخری ایام میں ہم وزیر اعلیٰ کا انتخاب کروانا چا رہے تھے ، وہ ہمارے لیے ایک اچھی پریکٹس نہیں رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس پارلیمان میں بہت سے تجربہ کار اور منجھے ہوئے ارکان بھی موجود ہیں ، میری کوشش یہی رہے گی کہ اس ایوان کا تقدس بحال رہے ۔ملک احمد خان نے کہا کہ نئے وزیر اعلیٰ کو غربت ، مہنگائی اور امن و امان جیسے چیلنج کا سامنا ہو گا ، امید ہے مریم نواز بطور وزیر اعلیٰ تمام چیلنجزکو احسن طریقے سے سر انجام دیں گی ۔ملک احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ اب میں ایسے عہدے پر ہوں کہ مجھے دونوں طرف منصفانہ کردار ادا کرنا ہے ، یہ ایک پارلیمنٹ ہے اورمیری یہ خواہش ہو گی کہ اپوزیشن اور گورنمنٹ اپنا آئینی کردار ادا کریں۔

سنی اتحاد کونسل کے امیدوار برائے وزیراعلی ٰپنجاب رانا آفتا ب احمد خان نے کہاہے کہ ہائوس مکمل نہیں ،ہمیں ہماری مخصوص نشستیں نہیں دی جارہیں ۔ تحفظات کے ساتھ بطور احتجاج وزیراعلی ٰکے انتخاب میں حصہ لیں گے ہم میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہتے ، پنجاب اسمبلی کے احاطے میں پارٹی رہنمائوں کے ساتھ گفتگو میں رانا آفتا ب احمد خان کاکہناتھا کہ ہم نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں ہم میدان نہیں چھوڑنا چاہتے ۔دوہرا معیار ہے کے پی کے میں اجلاس نہیں بلایا جا رہا ۔ کیونکہ انہیں معلو م ہے کہ وہاں ہماری اکثریت ہے ۔ہمارے ارکان کو اسمبلی میں آنے نہیں دیا جا رہا ۔ میاں اسلم اقبال کو ایوان میں نہیں آنے دیاجارہا ، احمر رشید بھٹی کو حلف سے پہلے گرفتار کرلیا گیا ۔سپیکر سے کہاہے کہ انہیں ایوان میں لایا جائے ۔رانا آفتا ب احمد خان نے کہاکہ ہمارے پاس اچھا نمبر ہے ایوان میں سرپرائز دیں گے ۔ لیگی قیادت اپنے گھر کے علاوہ کسی کو عہدہ نہیں دے سکتی ۔اگر ان لوگوں نے ایسا کرنا ہے تو جاتی امرا میں اسمبلی بنا لیں ۔صدر پاکستان نے اچھا پوائنٹ اٹھایا ابھی ہاؤس مکمل نہیں۔

کراچی(سٹاف رپورٹر،خبر ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلزپارٹی کے سید اویس شاہ سپیکر اور انتھونی نوید ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی منتخب ہوگئے ،اویس قادر شاہ نے عہدے کا حلف اٹھا کر فرائض سنبھال لیے۔ سپیکر آغا سراج درانی کی زیرِ صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں خفیہ  رائے شماری کے ذریعے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کیا گیا۔ سپیکر کے انتخاب کے لئے مجموعی طور پر 147 ووٹ کاسٹ ہوئے ، اویس قادر شاہ نے 111 ووٹ حاصل کیے جبکہ ایم کیو ایم کی صوفیہ سعید شاہ نے 36 ووٹ حاصل کیے ۔پی ٹی آئی کے 9 آزاد ارکان اور جماعت اسلامی کے ایک رکن نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور انتخاب کا بائیکاٹ کردیا ۔ اویس قادر شاہ حلف اٹھانے کیلئے کھڑے ہوئے تو ایوان میں جئے بھٹو اور بھٹو زندہ باد کے نعرے گونجنے لگے ، اس کے بعد انہوں نے سندھی زبان میں حلف اٹھایا، سابق سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے اویس قادر شاہ سے حلف لیا۔ ایم کیو ایم کی امیدوار اسپیکر صوفیہ سعید شاہ نے اویس قادر شاہ کو سپیکر سندھ اسمبلی منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ نومنتخب سپیکر نے حلف اٹھانے کے بعد کہا کہ کامیابی پر اللہ تعالی کا شکر گزار ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ عہدے کیلئے نامزد کرنے پر پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو، آصف زرداری، فریال تالپور کا شکر گزار ہوں، سکھر سے پہلی بار سندھ اسمبلی کا اسپیکر بنا ہے ۔ سید اویس قادر شاہ کا کہنا تھا کہ غیرجانبدار رہ کر عہدے پر کام کروں گا، تمام ممبران کو ساتھ لے کر چلوں گا، ماضی میں جو کچھ ہوا اسے بھول کر نئی شروعات کریں گے ۔سابق سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج نے نومنتخب سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ ہماری لیڈر شپ کی ٹریننگ ہے کہ ہر مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، سب منتخب نمائندے اس ایوان کی حفاظت کریں۔ آغا سراج درانی کا کہنا تھا کہ کسی نے ایوان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ہم سامنے آئیں گے ۔قبل ازیں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان سندھ اسمبلی نے حلف اٹھا لیا۔تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 9 آزاد اراکین اور جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق سمیت 10 ارکان نے سندھ اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا، اسپیکر آغا سراج درانی نے نومنتخب ارکان سے حلف لیا، جی ڈی اے کے 3 اراکین دوسرے روز بھی ایوان میں نہیں آئے ۔ جس کے بعد حلف اٹھانے والے ارکان کی مجموعی تعداد 157 ہوگئی ہے ۔

جی ڈی اے کے 3 اور پیپلز پارٹی کے 3 ارکان کے حلف باقی ہیں ان میں سے نثار کھوڑو اور جام مہتاب ڈھرسینیٹ کے رکن بھی ہیں۔ سندھ اسمبلی کی جنرل سیٹ پر کامیاب ہونے والے جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا جبکہ 2 خواتین اور ایک اقلیت کی مخصوص نشست پر بھی کامیاب امیدوار کا اعلان باقی ہے ۔جانے والے سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے پینل آف چیئر کا اعلان کر دیا۔اعلان کردہ پینل آف چیئر میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما شرجیل انعام میمن، سعید غنی، ندا کھوڑو اور علی خورشیدی شامل ہیں۔اعلان کردہ پینل آف چیئر سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی غیر موجودگی میں ایوان کی کارروائی چلائے گا۔سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران نامزد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آج اسمبلی کا حلف اٹھانے والوں کو ویلکم کرتا ہوں، سندھ کے عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی بہتری کے لئے ہم سب بہتر کردار ادا کریں گے ، کوشش کریں گے کہ ایوان کو اچھی طریقے سے چلائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک بہت مشکل دور سے گزر رہا ہے ، انتخابی مہم کے دوران ہمارے 12 کارکن شہید ہوئے ، آنے والی حکومتوں کیلئے دہشت گردوں سے مقابلہ بڑا چیلنج ہوگا۔ادھر وزیراعلیٰ سندھ کے لیے شیڈول جاری ہونے کے بعدپیپلزپارٹی کی جانب سے مراد علی شاہ اور ایم کیو ایم کی جانب سے علی خورشیدی نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے ہیں۔اتوارکونومنتخب اسپیکر سندھ اسمبلی اویس شاہ نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعلٰی سندھ کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جس کے مطابق شام 5 بجے تک کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے بعدازاں کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کے بعد فہرست جاری کی گئی جبکہ آج(پیر)دوپہر دو بجے وزیراعلیٰ سندھ کا انتخاب ہوگا۔پیپلزپارٹی ارکان غلام قادرچانڈیو، صالح شاہ اور نعیم کھرل نے مرادعلی شاہ کے کاغذات جمع کرائے ۔سندھ کی ممبئی سے علیحدگی کے بعد صوبے کے 35 ویں اور 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد سندھ کے 31 ویں وزیراعلیٰ کے طورپر مراد علی شاہ کو 111 ارکان کے ساتھ عددی برتری حاصل ہے جبکہ ایم کیو ایم کے ارکان کی تعداد 36 ہے ۔ نئے وزیراعلیٰ سندھ منگل کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں