ایوان صدرسے آئین پر دہشتگرد حملہ:رضا ربانی:مخصوص نشستیں دیں:پی ٹی آئی سینیٹر

ایوان صدرسے آئین پر دہشتگرد حملہ:رضا ربانی:مخصوص نشستیں دیں:پی ٹی آئی سینیٹر

اسلام آباد(نامہ نگار،دنیا نیوز)سینیٹ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ صدر کا قومی اسمبلی کا اجلاس طلب نہ کرنا آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔

 صدر مملکت پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت آئین پاکستان کو دہشتگردی  کا سامنا ہے ، بدقسمتی سے اس وقت آئین پر جو حملہ ہوا وہ ایوان صدر سے ہو رہا ہے ، ایوان صدر نے مختلف اوقات میں آئین کی خلاف ورزی کی ہے ۔رضاربانی نے کہا کہ ایوان صدر آرٹیکل 91 کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہا ہے ، آئین کہتا ہے 21 دن میں الیکشن ہونے کے بعد اجلاس طلب کیا جانا لازم ہے ۔ صدر اسمبلی اجلاس بلانے سے انکاری ہیں یہ غیر آئینی اقدام ہے ۔جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں وزیراعظم کی ایڈوائس پر عمل کرنا چاہیے ۔پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ آج ہی مخصوص نشستیں دی جائیں تو آج ہی قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا جائے گا۔ ملک میں کوئی آئین اور قانون نہیں ہے اور تمام برائیوں کی جڑ الیکشن کمیشن ہے ۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ہماری مخصوص نشستوں کا اعلان کیا جائے جو غصہ ایوان صدر پر ہے اگر اتنا غصہ الیکشن کمیشن پر کیا جاتا تو شاید یہ مسائل نہ ہوتے ۔ علاوہ ازیں سینیٹ میں سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی پر عالمی بینک کی رپورٹ پر سینیٹر مشتاق احمد نے تحریک پیش کر دی۔ مشتاق خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایف بی آر کے دس ہزار ملازمین ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کراتے ۔ سرکاری ملکیتی ادارے عوام کے ٹیکس کے 458 ارب روپے کھا رہے ہیں، ان سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی صفر ہے ، سرکاری ادارے عوام کو سہولت دینے میں ناکام ہوگئے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ غریب سے امیر کی طرف جاتا ہے ، موجودہ ماڈل غریبوں کا نوالہ چھیننے والا اور امیروں کو نوازنے والا ہے ، پاکستان کی 40 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے ۔ سینیٹرمشتاق کا کہنا تھاکہ سرکاری ملکیتی اداروں کاخسارہ کل جی ڈی پی کا دس فیصد تک پہنچ گیا ۔ جو ریاستی ادارے چل نہیں سکتے ان کی نجکاری کر دی جائے ۔ نگران وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ حکومت نے سرکاری ملکیتی اداروں کے خسارہ میں کمی کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں، ان سرکاری اداروں کی نجکاری سمیت مزید اصلاحات کا فیصلہ نو منتخب حکومت کرے گی۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہاکہ ریاستی ملکیتی اداروں کے خسارے کی ذمہ دار تمام حکومتیں ہیں،ان اداروں کے بورڈ آف گورنرز میں مفادات کے ٹکراؤ کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا۔ محمد اکرم نے کہاکہ سامراجی اداوں سے حاصل ہونے والے قرضوں کا حساب کتاب ہونا چاہیے ۔ ڈاکٹر ہمایوں مہند نے کہاکہ گولڈن ہینڈ شیک کرنیوالے افسران ابھی بھی سیلری لے رہے ہیں۔ صرف بیوروکریسی کے نہیں ہمارے سیاسی رہنماؤں کے اثاثے بھی چیک ہونے چاہئیں۔ چیئر مین سینٹ نے کہاکہ ہم نے تمام ریاستی ملیکیتی اداروں کی تفصیلات منگوائی ہیں،ایک ایک کرکے تمام اداروں کے خسارے کا جائزہ لیا جائے گا۔ دنیش کمار نے کہاکہ بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ 150ارب جبکہ ان اداروں کا سالانہ بجٹ 458ارب روپے ہیں،مین ان کو کارپوریشنز نہیں درندہ کہتا ہوں ۔ سینیٹ کو آگاہ کیا گیاکہ پورے ملک میں سکولوں سے باہر بچوں کو لانے کیلئے 25ارب روپے کی مالیت کا پراجیکٹ منظور کیا گیا ہے ۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں