سپیکر قومی اسمبلی کیلئے ایاز صادق نامزد اپنے اتحادیوں کی مشاورت سے آگے بڑھنا اور تمام اداروں کو ساتھ لے کر چلنا ہے:شہباز شریف:پہلے 2 سال مشکل ہونگے:نواز شریف

سپیکر قومی اسمبلی کیلئے ایاز صادق نامزد  اپنے اتحادیوں کی مشاورت سے آگے بڑھنا اور تمام اداروں کو ساتھ لے کر چلنا ہے:شہباز شریف:پہلے 2 سال مشکل ہونگے:نواز شریف

اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر،نیوز ایجنسیاں، دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ(ن)کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ تمام جماعتیں اپنی سیاست اور مخالفت ضرور کریں لیکن پاکستان اور نظام کو خطرے میں نہ ڈالیں۔

 حکومت کے پہلے دو سال مشکلات سے بھرپور ہوں گے اور ہمیں اس دوران مشکل فیصلے کرنے ہوں گے ،ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے ،پاکستان اس وقت بہت زخمی ، مل کر زخم بھرنے  ہیں، مشکل فیصلے کرنے ہوں گے ،مجھے یقین ہے کہ دو سال میں ملک مشکل سے نکل جائے گا، ہمارا مقابلہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہے جو منطق کو سمجھتے ہیں نہ مانتے ہیں، واسطہ ایسے لوگوں سے پڑا جن کی ذہنیت کی آج تک سمجھ نہیں آئی، ججوں نے ہمیں سیسلین مافیا کہا، لگتا تھا جیسے مجھے غصے سے نکالا گیا۔ مجھ پر کس چیز کا غصہ تھا؟ میرے خلاف فیصلہ دینے والے ججز آج کہاں ہیں؟،مجھے نکالنے والوں میں ججز کے علاوہ کچھ دیگر پلیئرز بھی تھے ۔ ن لیگ کے صدر شہبازشریف نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ہمارے ارکان کی تعداد 104 ہو گئی ہے ، ہم نے 16 ماہ میں ملک کو ڈیفالٹ سے بچا یا ،اپنے اتحادیوں کی مشاورت سے آگے بڑھنا اور تمام اداروں کو ساتھ لے کر چلنا ہے ۔ وہ بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ پارلیمانی پارٹی نے قائد نوازشریف اور صدر شہباز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ پارلیمانی پارٹی نے قیادت پر اظہار اعتماد کی قرار داد بھی منظور کرلی۔نواز شریف نے تمام منتخب ارکان قومی اسمبلی کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک سخت لڑائی لڑ کر وہ یہاں پہنچے ہیں۔اس موقع پر نواز شریف نے شہباز شریف کو وزیراعظم اور سردار ایاز صادق کو سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے کیلئے نامزد کیا۔انہوں نے کہا کہ امید ہے ایاز صادق ایک بہترین سپیکر کے طور پر ابھریں گے ۔

نواز شریف نے کہا کہ میں دہائیوں سے اس ملک کو دیکھ رہا ہوں لیکن اس طرح کا زخمی پاکستان میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، اس ملک کو مصیبتوں اور مشکلات سے نکالنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 24 کروڑ عوام کو سکون دینا اور بجلی ،گیس کے بلوں کو کم کرنا ہے ، روپے کی قدر کو ٹھیک کرنا ہے ، پاکستان کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے ، اگر ہم سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ چلیں گے تو یہ سفر آسان ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے جس ہمت و حوصلے کے ساتھ پچھلا ڈیڑھ سال گزارا یہ انہی کی ہمت ہے ، ان کی جگہ میں ہوتا تو شاید چل نہ سکتا، ابھی بھی شہباز ہی سب سے بہترین انتخاب ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ آپ کا واسطہ اس مرتبہ بھی ایسے لوگوں سے پڑا ہے جن کی ذہنیت مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ہم 2013 کا الیکشن جیتے تو شروع سے ہی دھاندلی، دھاندلی کی رٹ لگنی شروع ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر روز 35 پنکچر کی بات کیا کرتے تھے ، پھر حکومت بننے سے قبل انتخابی مہم کے دوران وہ گر کر زخمی ہو گئے ، ہم سب سے پہلے ان کی مزاج پرسی کے لیے اسپتال پہنچے اور ہم نے اپنی انتخابی مہم کو 24 گھنٹے کے لیے بند کردیا تھا، ہماری پارٹی کے جیتنے کے بعد میں ان کے گھر گیا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ سب جماعتوں کو ایک خاص ایجنڈے کے لیے کام کرنا چاہیے ۔میں بنی گالا میں ان کے گھر گیا اور وہاں طے ہوا کہ سب اکٹھے چلیں گے ، اس کے بعد ہم نے اپنا کام شروع کیا۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی ایک سنگین ترین مسئلہ تھا، معیشت کو سنبھالنا بہت بڑا مسئلہ تھا، اس وقت بھی پاکستان ڈیفالٹ کے قریب تھا اور فیٹف کی گرے لسٹ میں آ چکاتھا اور اس کو ہم وائٹ میں لے کر آئے ۔انہوں نے کہا میں بنی گالا میں مل کر آیا تو پتا چلا کہ چند ہفتوں میں لندن میں اتحاد بن گیا ہے ، طاہر القادری، موصوف اور کچھ دیگر لوگ پاکستان کے اندر دھرنوں کا پروگرام بنا رہے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے دھرنے شروع ہو گئے ۔

ان کا کہنا تھا کہ دھرنے ہوتے رہے لیکن ہم نے اس کے باوجود کئی منصوبے شروع کیے ، موٹرویز بناتے رہے ، لوڈشیڈنگ ختم کرتے رہے اور بجلی کے کارخانے لگاتے رہے ، دھرنے ہوتے رہے اور ہم دہشت گردی کا مقابلہ کرتے رہے ۔ مسلم لیگ(ن)کے قائد نے کہا کہ دھرنوں، احتجاج، گالم گلوچ کے باوجود ہم نے قوم سے کیے تمام وعدے پورے کیے ،دھرنے دینے والوں کو لانیوالے ملک کے بڑے مجرم ہیں، 2017 میں جب سپریم کورٹ نے مجھے فارغ کیا، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر وزیراعظم کو نااہل کیا گیا، ایسا نہ پہلے میں نے سنا نہ آپ نے سنا ہو گا لیکن آج وہ جج کیا کسی کو منہ دکھانے کے لائق ہیں اور وہ جج جس نے چند مہینے میں ملک کا چیف جسٹس بننا تھا وہ استعفیٰ دے کر گھر چلا گیا، یہ وہ جج تھے جنہوں نے میرے خلاف فیصلہ دیا، آج وہ سب کہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے نکالنے والوں میں ان ججوں کے علاوہ اور بھی کھلاڑی تھے ، 2017 میں تو ایسا لگ رہا تھا کہ 2018 میں مسلم لیگ(ن) پھر جیتے گی اور زیادہ اکثریت سے واپس آئے گی تو انہوں نے مسلم لیگ(ن)یا نواز شریف کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ پاکستان کو تباہ و برباد کیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے ہے کہ آپ کچھ بھی کر لیں، آپ جب بھی جیتیں گے تو ان کا رویہ ایسا ہی ہو گا جیسا دیکھنے میں آ رہا ہے ، 2013 میں بھی یہی رویہ تھا کہ 35 پنکچر لگے ہیں، دھاندلی ہوئی ہے ، وہ چار سے پانچ سال ہمارے اور نظام کے خلاف سازشیں کرتے رہے لیکن ان کے کسی بھی الزام سے نہ ڈرنا چاہیے نہ گھبرانا چاہیے ۔اس سے قبل شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے مسلم لیگ(ن)کے اراکین قومی اسمبلی کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے ملک کے مختلف حصوں سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہو کر مسلم لیگ(ن) میں شامل ہونے والے اراکین قومی اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا،آزاد امیدواروں کے شامل ہونے سے مسلم لیگ ن کی 104 سیٹیں قومی اسمبلی میں ہو گئی ہیں، نواز شریف کی قیادت میں قوم کی امنگوں پر پورا اتریں گے ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے جو منصوبے لگائے ان کی تختیاں گننے میں مہینوں لگ جائیں گے۔

لیکن اس کے بدلے آپ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، یہاں جلاؤ، گھیراؤ اور جی ایچ کیو پر حملے جیسے واقعات ہوئے لیکن آپ نے صبر سے کام لے کر منفی قوتوں کا مقابلہ کیا، عدالتوں کا سامنا کیا۔شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف نے جعلی اور جھوٹے مقدمات کا سامنا کیا لیکن کبھی نہیں کہا کہ فلاں میر جعفر ہے ، فلاں غدار ہے ، اداروں کے خلاف اس ملک میں ایسی بدترین زبان استعمال کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں بعض جگہوں پر ہمیں کامیابی ملی لیکن بعض جگہوں پر نواز شریف پر مر مٹنے والے کارکن ہار گئے ، اس کا مطلب ہے کہ ہم جو ہار گئے وہ ٹھیک ہارے اور جو جیت گئے وہ غلط جیتے ، یہ دوغلا پن ہے ، خیبر پختونخوا میں ان کی اکثریت آئی ہے تو کیا وہاں سب دھاندلی ہوئی ہے ، ہم پنجاب میں جیتے ہیں تو وہ دھاندلی اور جہاں ہارے ہیں وہ ٹھیک ہارے ہیں، یہ انا، تکبر اور رعونت ہے ، کبھی کسی نے اس طرح کی سوچ اختیار نہیں کی اور یہی وہ سوچ ہے جس نے پاکستان کو تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا صدر پاکستان ایک مرتبہ پھر آئین کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 16ماہ کی اتحادی حکومت میں پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ورنہ ہم یہاں نہ بیٹھے ہوتے ، میں نواز شریف سے عرض کروں گا کہ آپ وزیر اعظم بنیں اور میں آپ کا ورکر بن کر ملک کی خدمت کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 16 ماہ کی حکومت میں نواز شریف کی زیرسرپرستی مشکل فیصلے کئے ، ہم نے حلیف جماعتوں سے مشاورت کرنی ہے اور تمام اداروں کو ساتھ لے کر چلنا ہے ۔قبل ازیں مسلم لیگ (ن)کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ حکومت ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کو یقینی بنائے گی۔ وہ بدھ کو مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے پارلیمنٹ آمد پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے ۔ نوازشریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تو شہبازشریف ، حمزہ شہبا ز، اسحاق ڈار سمیت پارٹی کے منتخب ارکان اسمبلی اور رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کے غیر رسمی سوالات کے جوابات بھی دئیے ۔ ایک سوال پر کہ میاں صاحب 7 سال بعد پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر آپ کو کیسا لگ رہا ہے تو انہوں نے جواباً کہا میرا یہاں آنا آپ کو کیسا لگ رہا ہے ، صحافی نے کہا اچھا لگ رہا ہے اور یہ نیک شگون ہے ۔

اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر، دنیا نیوز)مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعتوں نے اقتدار میں آکر مل کرچلنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم،سپیکراورڈپٹی سپیکرکے امیدوار کو سپورٹ کریں گے اور نئی حکومت میں ایمانداری سے کرداراداکرنے کے علاوہ عوامی مسائل کے حل اور ملکی سلامتی و استحکام کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے ۔مسلم لیگ(ن)اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کامشترکہ  اجلاس پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔نامزد وزیراعظم شہبازشریف نے اتحادی جماعتوں کی قیادت اور نو منتخب ارکان قومی اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ اجلاس میں آصف علی زرداری، بلاول بھٹو،چودھری سالک حسین،صدرآئی پی پی عبدالعلیم خان ، عون چودھری ،صادق سنجرانی، خالد مگسی اور ایم کیو ایم کے خالدمقبول صدیقی پارٹی ارکان کے ہمراہ شریک ہوئے ۔ اتحادی جماعتوں کے نومنتخب ارکان اسمبلی نے آصف زرداری کو صدر اور شہبازشریف کو وزیر اعظم نامزد ہونے پر مبارکباد دی۔ عشائیہ کے بعد اتحادی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ صدرکیلئے آصف زرداری،وزیراعظم کیلئے شہبازشریف پراعتمادکیاگیا،اقتدار میں آکر مہنگائی اوربیروزگاری کا خاتمہ کریں گے اورملکی مسائل کا متحد ہوکر مقابلہ کریں گے ۔ہم ملکر قومی تقاضوں کے مطابق عوامی مسائل حل کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ مضبوط معیشت ہی مضبوط قوم کی نشانی ہے ، ہم نے پہلے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایاتھا اور اب شہبازشریف حکومت کی اولین ترجیح امن اوراستحکام ہوگی، محاذ آرائی ملک کے لیے زہر ہے ۔

احسن اقبال نے کہا کہ اپوزیشن کی مثبت تنقید کو برداشت کریں گے ،اگر اپوزیشن انتشارپھیلائے گی توملک سے دشمنی کرے گی،ہم اتحادیوں اوراپوزیشن جماعتوں کے پاس جائیں گے ،مولانا فضل الرحمن اور دیگر جماعتوں کے پاس بھی جائیں گے ۔ نویدقمرنے کہا کہ اب مل کرمفاہمت کرنے کاوقت آگیا ہے ،سپیکر،ڈپٹی سپیکر،چیئرمین سینیٹ اورڈپٹی چیئرمین کیلئے مل کرووٹ دیں گے ۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ اہم جماعتیں حکومت کاحصہ بننے جارہی ہیں،الیکشن کا دور گزر گیا، منتخب ارکان کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں،ہم نئی حکومت میں ایمانداری سے کردار ادا کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت سے گزارش ہے خدارا عوام پر رحم کرے ،غریب آدمی کیلئے حالات بدتر ہیں، اب معیشت کو اٹھانے کی ضرورت ہے ۔خالدمگسی نے کہا کہ عوام کی خدمت کومشکل نہیں آسان ایجنڈاسمجھیں، ہم سب نے اتفاق رائے سے آگے چلنے کافیصلہ کیاہے ۔ سالک حسین نے کہا کہ سب نے معیشت پربات کی،ہمارافوکس معیشت پرہی ہونا چاہیے ، اتحادکامقصد پاکستان کی بہتری ہونی چاہیے ۔مصطفی کمال نے کہا کہ ساری جماعتوں کو مل کر آگے بڑھنا چاہیے اورسب کو ساتھ لیکر چلنا چاہیے ، سب کی نیت اچھی ہے ،عوام کومشکل سے نکالیں گے ،متحدہ قومی موومنٹ ہرمثبت اقدام کاساتھ دے گی۔اعلامیے کے مطابق ایاز صادق کو مسلم لیگ ن کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی نامزد کیا گیا جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے غلام مصطفی شاہ امیدوار برائے ڈپٹی سپیکر نامزد کیے گئے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں