رمضان پیکیج سب کو ملے گا،ایک ماہ میں پورا پنجاب صاف،خود چیک کرونگی:مریم نواز

رمضان پیکیج سب کو ملے گا،ایک ماہ میں پورا پنجاب صاف،خود چیک کرونگی:مریم نواز

لاہور(اپنے نامہ نگارسے )وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے جنہوں نے ووٹ نہیں دیاوہ بھی انسان ہیں،غریب بھی ہیں،رمضان پیکیج ان کا بھی حق ہے ۔

 رمضان پیکیج سب کو ملے گا۔سوال اٹھانے والے اور تنقید کرنے والے ،تو کریں گے ۔ سیاسی حکومت پر الزام تراشی بہت آسان ہے ۔میرا کوئی فیورٹ نہیں،اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہوں اور اس کے بعد عوام کو جوابدہ ہوں۔ہر لیول پر شفافیت کو یقینی بنایا جائے ،کرپشن کا داغ برداشت نہیں ہو گا۔رمضان پیکیج کی ترسیل کے تمام مراحل شفافیت کے ساتھ سرانجام دئیے جائیں۔وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں رمضان پیکیج کی تیاری اور ترسیل کے طریقہ کار کے بارے میں تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔مریم نواز نے رمضان بازار وں میں شفافیت اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دیا۔رمضان پیکیج میں اشیا خورد ونوش کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کوضروری اقدامات کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہر لیول پر شفافیت کو یقینی بنایا جائے ، پیکیج کی تقسیم کے لئے جہاں جہاں جا سکی ، جائوں گی ۔تقسیم کے وقت بغیر اطلاع کئے سرپرائز وزٹ بھی کروں گی۔انہوں نے کہا ہر ضلع کی کارکردگی کا سکور کارڈ سے تعین ہو گا،تمام اضلاع کاآپس میں مقابلہ ہے ۔ڈپٹی کمشنر اپنے اضلاع میں ہر روز چیکنگ کریں،دورے کریں اور رپورٹ دیں۔رمضان پیکیج کی تقسیم کے مکمل پراسیس کی ویڈیوز بنا کر مجھے اور چیف سیکرٹری کے دفتر میں بھجوائی جائیں۔

انہوں نے کہا رمضان پیکیج کی چیکنگ 3مراحل میں ہو گی۔ہر ضلعی انتظامیہ سے امید ہے وہ چیکنگ کریگی۔ڈپٹی کمشنرز سیمپل اور باکس کھلوا کر چیک کریں گے کہ اس کا معیار کیا ہے اورکیا 6 اشیائے خوردونوش کی مقدار پوری ہے ۔تقسیم کے وقت مقررکردہ جگہ پر پولیس اہلکاروں کی موجودگی لازم ہے تاکہ ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے ۔وزیراعلیٰ نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ایک مہینے میں مجھے پورے پنجاب کی صفائی چاہئے ،چاہے وہ شہری علاقہ ہو یا دیہاتی۔چیک کروانے کے طریقے جانتی ہوں،صفائی خود چیک کروں گی۔کوئی سڑک،محلہ،گلی،گاؤں اورگراؤنڈ ایسی نہ رہے جہاں صفائی نہ ہو،یہ میری سختی سے ہدایت ہے ۔تمام اضلاع کا صفائی کے معاملے میں بھی آپس میں مقابلہ ہے ۔وال چاکنگ ختم کی جائے ۔الیکشن پوسٹرز اور بینرز اتروائیں اور صفائی کرائیں۔خراب سیوریج اور ڈرینج کے مسائل حل کریں۔سڑکوں پرکھڈے اور گڑھے ختم کئے جائیں تاکہ خوبصورتی بحال ہو۔3دن بعد ہنگامی دورے شروع کر دوں گی،لاہور کی کسی گلی میں گڑھے نظر نہ آئیں۔ پرویز رشید، مریم اورنگزیب،عظمیٰ بخاری،ثانیہ عاشق،چیف سیکرٹری،آئی جی،سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے جبکہ تمام کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔پنجاب حکومت نے انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے تاریخ میں پہلی بار پنجاب میں ہرمحلے ، ہر آبادی کا ڈیجیٹل ریکارڈ بنانے کا فیصلہ کیاہے ۔

پنجاب ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کے تحت کل آبادی کا درست شمار مرتب ہوگا جس سے کمزور طبقات کی تعداد،مقام، رابطہ اور ایڈریس محفوظ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں مریم اورنگزیب کی سربراہی میں 13 رکنی ٹیکنکل ورکنگ گروپ قائم کر دیا گیا۔ جس میں رکن قومی اسمبلی بلا ل اظہر کیانی کے علاوہ اعلیٰ حکام اور شماریات کے ماہرین شامل ہوں گے ۔ پنجاب ڈیجیٹل ڈیٹا بینک کی بنیاد پر تعلیم، صحت اور ترقی کے منصوبے بنائے جائیں گے ۔ تمام آبادی میں وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے گی۔ڈیٹا بینک کو بزرگوں، بیواؤں، یتیموں ضرورت مند خاندانوں اور طالب علموں کے سماجی تحفظ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ بچوں کی پیدائش پر ڈیٹا خود کار ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ان کا اندراج کرے گا۔ پنجاب میں کسی دوسرے علاقے سے آکر رہائش اختیار کرنے والوں کی معلومات بھی جمع ہوں گی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے دکانوں کے سامنے سامان رکھنے کے باعث شہریوں کو درپیش مشکلات کا نوٹس لیا ہے اور سامان ہٹانے کیلئے انتظامیہ کو ایک ماہ کی مہلت دی۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ راستوں، بازاروں میں ٹریفک بندش اور رکاوٹوں کو دور کیا جائے اوردکاندار سامان اپنی دکانوں کی حدود میں رکھیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا یقینی بنائیں ریڑھی بان متعین جگہوں پر ٹھیلے لگائیں تاکہ شہریوں کے ساتھ دکانداروں اور ریڑھی بانوں کو تکلیف نہ ہو۔ وزیر اعلیٰ سے برٹش ہائی کمشنرجین میری ایٹ نے ملاقات کی۔ برٹش ہائی کمیشن لاہور آفس کی سربراہ کلاراسٹرینڈ ہوج بھی موجود تھیں۔ جین میری ایٹ نے مریم کو پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بننے پر مبارکباددی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا، پنجاب کے طلبا کے لئے اعلیٰ برطانوی یونیورسٹیوں میں سکالر شپ بڑھا نے ، گرلز ایجوکیشن کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں