توہین عدالت کیس:ڈی سی اسلام آباد کو6ماہ، ایس ایس پی کو4ماہ،ایس ایچ اوکو2ماہ قید وجرمانہ

توہین عدالت کیس:ڈی سی اسلام آباد کو6ماہ، ایس ایس پی کو4ماہ،ایس ایچ اوکو2ماہ قید وجرمانہ

اسلام آباد(دنیا نیوز)اسلام آبادہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود ایم پی او جاری کرنے پر توہین عدالت کیس میں اختیارات سے تجاوز اور مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کو چھ ماہ قید ایک لاکھ روپے جرمانہ، ایس ایس پی آپریشنز ملک جمیل ظفر کوچار ماہ قید ایک لاکھ روپے جرمانہ،ایس ایچ او ناصر محمود کو 2ماہ قید کی سزاجبکہ ایس پی فاروق بٹر کو کیس سے ڈسچارج کرنے کاحکم سنادیااورسزائیں30 روز کیلئے معطل بھی کردیں۔

عدالت نے کہاہے کہ 30 روز کے اندر اپیل میں سزا معطل نہ ہو تو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل رکھا جائے ،ادھر ڈپٹی کمشنر اور دیگر نے اپیلیں بھی دائر کردی ہیں، چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پرمشتمل ڈویژن بینچ 4مارچ کو سماعت کرے گا،گزشتہ روز دوران سماعت جسٹس بابر ستار نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا،عدالت نے یہ حکم بھی دیاکہ عدالتی فیصلہ کی کاپی وزیر اعظم کو بھی ارسال کی جائے ،عدالت نے مختصر سزا کی وجہ سے سزائیں30 روز کیلئے معطل کردیں اور کہا تیس روز اپیل کا وقت ہے ،اپیل خارج ہوئی تو مذکورہ افسران جیل جائیں گے ،بعدازاں عدالت نے کیس کا تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا،جسٹس بابر ستار کی عدالت سے جاری73صفحات پر مشتمل فیصلہ کے ساتھ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے مجموعی طور پر نظر بندی کے 70 حکم ناموں کی فہرست ،شہریار آفریدی کی گرفتاری و نظر بندی کی ٹائم لائن ،توہین عدالت کا شوکاز نوٹس، چارج شیٹ اور فرد جرم کی کارروائی بھی منسلک کی گئی ہے ۔تینوں ملزمان سرکاری عہدوں پر فائز ہیں جن کی فوری معزولی سے کار سرکار میں خلل پیدا ہوگا،سزا معطلی سے حکومت کو اس فیصلے پر عملدرآمد کا معقول وقت بھی مل جائے گا، تینوں ملزمان پر عائد جرمانے کی رقم ان تمام افراد میں برابر تقسیم کی جائے جن کی مئی تا ستمبر نظر بندی کے احکامات جاری کیے جاتے رہے ،یہ جرمانہ ان افراد کیلئے غیر قانونی نظر بندی کا ہرجانہ نہیں بلکہ ایک علامتی اقدام ہے ،عدالت کایہ بھی کہناہے کہ نمائندہ جمہوریت آئین پاکستان کی نمایاں خصوصیت ہے ،ایگزیکٹو کا اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہوتا ہے ،آئین کے آرٹیکل 2 اے کے مطابق ریاست اپنے اختیارات کو عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی،تینوں ملزمان کا تعلق بیوروکریسی سے ہے جو اپنے اختیارات کا استعمال صرف قانون کے مطابق کر سکتے ہیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ سرکاری افسران قانون کو بنیادی حقوق کے تحفظ کے بجائے شہریوں کیخلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کریں،یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ سرکاری افسران اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے عدلیہ کے احکامات کی خلاف ورزی اور توہین کریں،بادی النظر میں مئی 2023 کے بعداسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں کی انتظامیہ کی جانب سے جاری نظر بندی کے احکامات ہم آہنگ اورمطابقت رکھتے تھے ، بادی النظر میں یہ تمام ہم آہنگ نظر بندی کے احکامات ریاست کی ایگزیکٹو کی پالیسی کا حصہ تھے ،عدالت محسوس کرتی ہے کہ بنیادی حقوق کو روندنے اور عدلیہ کی توہین کرنے والی اس پالیسی کے حوالے سے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے ،ان تحقیقات کو معنی خیز بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ان کو ایگزیکٹو کے سربراہ کی نگرانی میں سر انجام دیا جائے ،اس فیصلے کی نقل وزیر اعظم پاکستان کو بھی ارسال کی جائے تاکہ وہ اس پالیسی سے متعلق تحقیقات کر سکیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں