زرداری کے مقابلے میں محمود اچکزئی صدارتی امیدوار:مبینہ دھاندلی کیخلاف پی ٹی آئی کے مظاہرے،لاہور میں گرفتاریاں

زرداری کے مقابلے میں محمود اچکزئی صدارتی امیدوار:مبینہ دھاندلی کیخلاف پی ٹی آئی کے مظاہرے،لاہور میں گرفتاریاں

اسلام آباد ،کراچی،کوئٹہ (اپنے نامہ نگارسے ،سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ)صدارتی انتخاب کیلئے سنی اتحاد کونسل (پی ٹی آئی)نے محمود خان اچکزئی کو امیدوار نامزد کر دیا جس کا پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری سے مقابلہ ہو گا، اچکزئی کی منظوری بانی پی ٹی آئی نے دی۔

آزاد امیدواروں اصغر علی مبارک،عبدالقدوس، وحید احمد کمال نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے ،سنی کونسل کے صدارتی امیدوار نے مولانا فضل الرحمن سے ووٹ مانگ لیا، اے این پی نے زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا، جبکہ محمود خان اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کرنے پر اپنے ردعمل میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ محمود اچکزئی پی ٹی آئی امیداور بن کر قوم پرست نہیں رہیں گے ،مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے کہا کہ اقتدار کیلئے تحریک انصاف نے پارٹی کا نام تبدیل کرلیا،ن لیگ کے عطا تارڑ نے کہا کہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی محمود خان اچکزئی کی پرانی خواہش پوری ہوگئی ۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صدارتی انتخاب کیلئے آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائے ۔آصف زرداری کے تجویز کنندہ مراد علی شاہ جبکہ ناصر حسین شاہ تائید کنندہ ہیں۔دوسری جانب سنی اتحاد کونسل نے صدارتی انتخاب کیلئے محمود خان اچکزئی کے کاغذات اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادئیے ۔محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی رہنما تحریک انصاف لطیف کھوسہ نے جمع کرائے ۔ صدارتی الیکشن کے لیے آصف زرداری کے کاغذات اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی جمع کروائے گئے ۔آصف علی زرداری کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے فاروق ایچ نائیک اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے ۔کاغذات نامزدگی جمع کرانے کیلئے روسٹرم پر پہنچنے پر چیف جسٹس نے استفسار کیا فاروق نائیک صاحب کیسے ہیں،جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا جی میں ٹھیک ہوں، فاروق نائیک نے کہاکہ ہم آصف علی زرداری کے دوسرے کاغذاتِ نامزدگی بھی جمع کروا رہے ہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ اسکی وجہ کیا ہے ؟جس پر فاروق نائیک نے کہاکہ احتیاطی تدابیر کے طور پر دو کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا رہے ہیں،دونوں کاغذاتِ نامزدگی میں تجویز اور تائید کنندہ مختلف ہیں جس کے بعدسنی اتحاد کونسل کی جانب سے محمود خان اچکزئی کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ،اس موقع پر عامر ڈوگربھی موجود تھے ، سینئر قانون سردار لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس سے کہاکہ ہم تو سمجھ رہے تھے آپ چیمبر میں بلا کر چائے وغیرہ پلائیں گے ،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ چائے تو اس کے بعد بھی آپکو پلا دیں گے ،عمر ایوب اور علی محمد خان بھی اس عدالت میں پہلی بار آئے ہیں،جس پر علی محمد خان نے کہاکہ میں اس عدالت میں انصاف مانگنے آتا رہا ہوں،سردار لطیف کھوسہ نے کہاکہ عمر ایوب پہلی بار آئے ہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ کھوسہ صاحب آپ اپنا پورا نام کیا لکھتے ہیں؟سردار لطیف کھوسہ نے کہاکہ میری پارٹی اب زور دیتی ہے کہ میں اب نام کے ساتھ سردار لکھوں،چیف جسٹس نے کہاکہ آپکو ضرور لکھنا چاہیے ،اس موقع پر اسدقیصر اور جنید اکبر بھی موجود تھے ۔

قبل ازیں ذرائع نے بتایا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے محمود اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کرنے کی منظوری دی۔پی ٹی آئی وفد نے بھی محمود اچکزئی کو صدارتی امیدوار بنانے پر آمادگی ظاہر کی۔الیکشن شیڈول کے مطابق صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی ہفتہ کو دن 12 بجے تک جمع کروائے جاسکتے تھے ۔کاغذات نامزدگی کی سکرونٹی کا عمل 4 مارچ تک مکمل کرلیا جائے گا، کاغذات نامزدگی 5 مارچ کو واپس لیے جاسکتے ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق امیدواروں کی حتمی فہرست 6 مارچ کو شائع کی جائے گی جبکہ صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہوگا۔آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے ۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں صدارتی الیکشن کیلئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو پریذائیڈنگ افسر مقرر کیا گیا ہے ۔ علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے (سنی اتحاد کونسل)صدر مملکت کے لیے امیدوار محمود خان اچکزئی نے مولانا فضل الرحمن سے ووٹ مانگ لیا، فضل الرحمن نے معاملہ پارٹی کے سامنے رکھنے کا کہہ دیا۔ محمود خان اچکزئی نے مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ اچکزئی نے کہا کہ ہمارا پرانا تعلق ہے اور ہم نے ایک ساتھ تحریک میں وقت گزارا ہے امید ہے آپ ہمیں سپورٹ کریں گے ۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے جواب دیا کہ ہماری جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے ، پارٹی قیادت سے مشورہ کریں گے پھر آپ کو آگاہ کردیں گے ۔ ادھر اے این پی نے صدارتی انتخابات میں صدر آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کردیا۔ آصف علی زرداری سے اے این پی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔ علاوہ ازیں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی امیداور بن کر قوم پرست نہیں رہیں گے ۔سنی اتحاد کونسل کا حق ہے کہ وہ کسی کو بھی وزیراعظم یا صدر منتخب کرے ، میں محمود اچکزئی کا بہت احترام کرتا ہوں تاہم یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اچکزئی پی ٹی آئی کا نمائندہ بن کر خود کو قوم پرست تو نہیں کہہ سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری صدر بنیں گے ہم کوئٹہ کی آواز اسلام آباد پہنچائیں گے ،وزیر اعلیٰ بلوچستان ہاؤس میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ تمام جماعتوں کو دعوت ہے کہ لاپتا افراد کے معاملے پر ہمارے ساتھ آئیں، کوئی ایک جماعت بلوچستان کے مسائل کا حل نہیں نکال سکتی ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ اقتدار کیلئے پی ٹی آئی نے اپنی پارٹی کا نام تبدیل کرلیا، اقتدار کی ہوس کیلئے اپنی پارٹی چھوڑ کر دوسروں کے پاس چلے گئے ،محمود اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کرکے تحریک انصاف نے اپنا برانڈ بھی تبدیل کرلیا ۔ایوان میں لوٹا لوٹا کی آواز لگانے والوں نے خود سارے لوٹے اکٹھے کر لئے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل تازہ ترین لوٹا ازم ہے ، فضل الرحمن کے ساتھ رابطے منقطع نہیں ہوئے ،تحفظات کو جلد دور کر کے ان کو اپنے ساتھ حکومت میں شامل کرینگے ۔ ن لیگ کے عطا تارڑ نے کہا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا و تیرہ ہے کہ جس کو گالی دی اسی سے ہی بغل گیر ہو گئے ، محمود خان اچکزئی کی 2014 کے دھرنے میں نقلیں اتارنے کے بعد انہیں اپنا صدارتی امیدوار نامزد کر دیا گیا ۔ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی محمود خان اچکزئی کی پرانی خواہش پوری ہوگئی ۔

 اسلام آباد ،لاہور ،کراچی(خصوصی نیوز رپورٹر، سپیشل رپورٹر، نمائندگان )بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر تحریک انصاف کے کارکنوں نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کیخلاف اسلام آباد، کراچی، پشاور، گوجرانوالہ،فیصل آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے ،ریلیاں نکالیں جبکہ لاہور میں پولیس نے رہنماؤں اور کارکنوں سمیت20سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا،مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا۔ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیخلاف بانی پی ٹی آئی کی کال پر لاہورمیں پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ، حافظ ذیشان، شہزاد فاروق اور شبیر گجر ریلیوں کی صورت میں جی پی او چوک پہنچے تو پولیس نے لاٹھی چارج کردیاجبکہ اس موقع پر شہزاد فاروق ، حافظ ذیشان سمیت 20 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا،مظاہرین نے پولیس اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔سینئر قانون دان اظہر صدیق نے کارکنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جی پی او چوک پہنچ کر کہا کہ جو کچھ ہو رہا یہ فسطائیت ہے ، صدر اور چیف جسٹس معاملے کا نوٹس لیں ، گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے ۔ جی پی او چوک میں احتجاجی مظاہر ہ کیا توپولیس نے کارکنوں پر لاٹھی چارج بھی کیا ۔ ریلی اور احتجاج کی وجہ سے مال روڈ سمیت دیگر شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں ،دریں اثنا پولیس نے ہائیکورٹ کے باہر وکلا کو پارکنگ ایریا تک محدود کرکے پارکنگ ایریا کوباہرسے تالہ لگا دیا ۔ ادھر ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ جعلی مینڈیٹ سرکار شہریوں کے پرامن احتجاج کی راہ میں غیر آئینی رکاوٹیں کھڑی کر کے اپنے خوف اور بوکھلاہٹ کا ثبوت دے رہی ہے ،لٹیروں سے اپنا مینڈیٹ واپس چھین لینے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔تحریک انصاف کی رہنمامسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ نہتے کارکنوں پر پرتشدد کارروائیوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ، ہم تمام سیاسی قیدیوں کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ملتان میں بھی تحریک انصاف کے کارکنوں نے پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا، اس دوران لیگی ایم پی اے سلمان نعیم کی گاڑی کا گھیراؤ اور پتھراؤ کرنے پر پولیس نے لاٹھی چارج کرکے چند افراد کوگرفتار کر لیا ،ملتان میں تحریک انصاف کے ضلعی صدر خالد جاوید وڑائچ کو بھی احتجاج کے پیش نظر گرفتار کرلیا گیا ۔

دوسری طرف وفاقی دارالحکومت میں سخت سردی اور بارش کے باوجود قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 46 سے پی ٹی آئی امیدوار عامر محمود مغل اور این اے 47 سے امیدوار شعیب شاہین کی زیر قیادت احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں کارکنوں کی بڑی تعداد شریک تھی ، ہاتھوں میں پلے کارڈز ، بینرز اور کتبے اٹھا ئے مظاہرین نے شدید نعرے بازی کی ، اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب میں کہا کہ آج پوری قومی بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے ،ہمارے لیڈر نے پاکستان کے عوام کو ایک قوم بنا دیا ۔دوسری جانب شیر افضل مروت کی قیادت میں پی ٹی آئی کی ریلی راولپنڈی کے لیاقت سے شروع ہو ئی ، کارکنوں نے الیکشن کمیشن کیخلاف شدید نعرے بازی کی، اسلام آباد میں مظاہرین سے خطاب میں شیر افضل مروت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ، شاہ محمود ، پرویز الٰہی اور دیگر رہنماؤں کو دو سالوں سے مسلط فاشسٹ حکومت نے بلاجواز جیلوں میں قید کر رکھا۔بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی تک ہم سڑکوں اور پارلیمنٹ میں احتجاج جاری رکھیں گے ،سپریم کورٹ پاکستانیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس لے ۔ فیصل آباد میں تحریک انصاف نے کالج چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا، پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بھی مظاہرے کیے گئے ۔ادھر بلوچستان کے ضلع ژوب میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوا جس سے پی ٹی آئی کے ضلعی صدر اختر شاہ کاکڑ سمیت دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہمارا چھینا گیا عوامی مینڈیٹ واپس نہیں کیا جاتا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے ،بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے ۔ کراچی میں کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرہ سے پی ٹی آئی رہنماؤں فردوس شمیم نقوی،آفتاب جہانگیر ،عالمگیر خان،جمال صدیقی اور دیگر نے خطاب میں کہا کہ فارم 47 کے ذریعے ہارے لوگوں کو جتوایا گیا ،ہم اپنا مینڈیٹ واپس لے کر اصل کامیاب امیدواروں کو اسمبلی میں بھیجیں گے ، ۔تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کے ہمراہ کراچی سے ٹھٹھہ، جامشورو، حیدرآباد اضلاع کے مختلف شہروں میں دھاندلی کے خلاف احتجاج میں شریک ہوئے ۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں