ضمانت کے بعد دوبارہ اسی مقدمہ میں نئے الزامات پر گرفتاری غیر قانونی: لاہور ہائیکورٹ

ضمانت کے بعد دوبارہ اسی مقدمہ میں نئے الزامات پر گرفتاری غیر قانونی: لاہور ہائیکورٹ

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے ایک مقدمہ میں ضمانت کے بعد دوبارہ اسی مقدمہ میں نئے الزامات کے تحت گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

جسٹس علی ضیا باجوہ نے مجتبیٰ سلیم بٹ کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کے سامنے سوال تھا کہ کیا کسی ملزم کو عبوری ضمانت ملنے کے بعد دوبارہ نئی دفعات شامل کر کے گرفتار کیا جاسکتا ہے ،تحریری حکم میں عدالت نے قرار دیا کہ اگر عدالت کسی ملزم کو بعد از گرفتاری یا قبل از گرفتاری ضمانت دے تو متعلقہ اداروں کو اسکا احترام کرنا چاہیے ، ایک ہی کیس میں ملزم کو رہا ہونے کے بعد نئے الزامات کے تحت گرفتار نہیں کیا جاسکتا ،کسی بھی شخص کی آزادی کے حق کو مجروح نہیں کیا جاسکتا ۔ جسٹس علی ضیا باجوہ نے تحریری فیصلے میں مزید لکھا کہ پولیس نے قانونی پروسیجر پر عملدرآمد نہ کر کے عدالتی احکامات کی حکم عدولی کی،پولیس کا یہ عمل عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے ساتھ ملزم کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے ۔ عدالت مغوی کی گرفتاری غیر قانونی قرار دیتی ہے ،درخواست گزار نے اپنے بیٹے راشد حسن بٹ کی بازیابی کیلئے درخواست دائر کی تھی ، تفتیشی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو سیکشن 381 اے کے تحت شیراکو ٹ پولیس نے گرفتار کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں